ذیشان خان

Administrator
شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری[ت:1948ء] کی عظیم الشان لائبریری کا دردناک انجام

✍ ابو تقي الدین

فاتحِ قادیان مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری - رحمۃ اللہ علیہ - 14 اگست 1947ء کو اپنی اہلیہ محترمہ، پوتے پوتیاں اور گھر کے تمام افراد کو ساتھ لیکر امرتسر سے ہمیشہ کے لئے پاکستان رخصت ہو گئے تھے(اس بوڑھے باپ کے اکلوتے فرزند مولانا عطاء اللہ کو فسادیوں نے شہید کردیا تھا).
مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم لکھتے ہیں :
"مولانا(یعنی مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ) کا شمار امرتسر کے رؤسا میں ہوتا تھا، بہت بڑی جائداد کے مالک تھے، کتب خانہ نہایت شاندار اور بہت سی نایاب اور عمدہ کتابوں پر مشتمل تھا، اسلامیات و دینیات کے علاوہ دیگر مذاہب سے متعلق کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے پاس محفوظ تھا، لیکن سب کچھ وہیں رہ گیا، گھر سے نکلے تو صرف پچاس روپے جیب میں تھے ، اور معمولی لباس زیب تن....!
انہیں سب سے زیادہ افسوس کتب خانے کا تھا، بیٹے کی موت کا افسوس کرنے والوں سے کہتے تھے کہ اسے تو مرنا ہی تھا، مجھ سے پہلے مرتا یا بعد میں، اصل المیہ تو یہ ہے کہ کتابیں ضائع ہوگئیں ".
مولانا ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
" مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کا امرتسر میں بہت بڑا کتب خانہ تھا، جس میں دو قسم کی کتابیں تھیں، ایک ان کی اپنی تصنیفات اور دوسری دیگر اہل علم کی تصنیفات، ان میں تفسیر، حدیث، شروح حدیث ، فقہ واصول فقہ، منطق وفلسفہ ،ادبیات اور تاریخ وسیرت، ہر قسم کی کتابیں موجود تھیں، پھر مختلف مذاہب کے متعلق بہت بڑا ذخیرہ ان کے پاس موجود تھا، جس سے وہ تحریر وتقرير و مناظرات ومباحث میں کام لیتے تھے، وہ سب کچھ اگست 1947ء میں ضائع ہو گیا، إنا لله وإنا إليه راجعون.
اس زمانے میں یہ بات سننے میں آئی تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے کتب خانے کی حفاظت کے لئے کچھ لوگوں کو امرتسر بھیجا تھا، مگر ان کے آنے سے پہلے ہی تمام کتب ضائع ہو چکا تھا ".
 

Attachments

Top