ذیشان خان

Administrator
طاغوت کے متعلق سلف صالحین کے اقوال

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
طاغوت وہ ہوتاہے جس کی اللہ کے سواعبادت کی جائے۔ (تفسیرابن کثیر)

امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
طاغوت صاحب اثر انسانوں کی شکل میں شیطان ہوتے ہیں جن کی طرف لوگ فیصلے لے کرجاتے ہیں۔ (ابن ابی حاتم:994/3)

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میرے نزدیک درست قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے خلاف سرکشی کرے اور اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا جارہا ہو۔ اس کی پوجا یا تو اس کی زبردستی یا قہر کی وجہ سے کی جاتی ہو جو کہ اسے پوجنے والوں کے دلوں پر چھائی ہو یا پوجنے والوں کی طرف سے اطاعت کے جذبہ کے تحت اس کی پوجا کی جا رہی ہو۔ یہ معبود خواہ کوئی انسان' شیطان' بت ہو یا دنیا کی کوئی بھی چیز ہو۔ (تفسیرالطبری:21/3)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی جارہی ہو اور وہ اس پر راضی ہو وہ طاغوت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں جس کی بات مانی جارہی ہو' اور دین حق اور ہدایت کے راستے کی اتباع کی بجائے جس کی غیرمشروط اطاعت کی جارہی ہو ایسا شخص طاغوت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے اس شخص کو بھی طاغوت کہا جاتا ہے جس کے پاس کوئی فیصلہ کروانے کے لئے آئے اور اس کا معمول یہ ہو کہ وہ کتاب اللہ کے بغیر ہی فیصلہ کرتا ہو۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ:200/28)

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
طاغوت ایک عام لفظ ہے' ہر وہ چیز یا ذات جس کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہو اور وہ اس عبادت پر راضی بھی ہو خواہ وہ معبود ہو یا متبوع اور مطاع ہو وہ طاغوت کے زمرے میں آتا ہے۔ (مجموعۃ التوحید:9)

جن چیزوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں۔

بے جان: مثلًا بت' قبریں' پتھر' درخت' سورج اور چاند وغیرہ

جاندار: عاقل مثلًا انسان' جنات' فرشتے اور عاقل جانور' پرندے اور حشرات وغیرہ

وہ عاقل جاندار جو اپنی بندگی و اطاعت کروانے پر راضی ہیں۔ جیسے انسان اور شیطان وغیرہ یہ سب طاغوت کے زمرے میں ہیں۔

وہ عاقل جاندار جو اپنی بندگی کراونے پر راضی نہیں ہیں کہ ان کو اللہ کا شریک بنایا جائے جیسے نصرانی عیسٰی علیہ السلام کو الٰہ کا درجہ دیتے ہیں' کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مشکلات کے حل کے لئے پکارتے ہیں اور کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد کی فریاد کرتے ہیں۔ یہ اپنی یا اللہ کے علاوہ ہر کسی کی بندگی سے برأت کرنے والے ہیں اور یہ اللہ کی بجائے اپنی عبادت پر راضی نہیں اس لئے انہیں طاغوت کہنا جائز نہیں۔ ایسی صورت میں شیطان ہی طاغوت ہے جس نے مشرکوں کو اس کام پر لگایا ہے۔
 
Top