ذیشان خان

Administrator
دوران نماز کپڑے سمیٹنا
-----------------------------------
نماز میں آستین چڑهانے سے متعلق دو باتوں کا خلاصہ ......
1️⃣آستین فولڈ کرکے نماز پڑهنا
2️⃣ٹخنہ سے اوپر کر کے نماز پڑهنا..
✅پہلی بات یہ کہ حدیث میں آستین چڑهاکر نماز پڑهنے کی ممانعت نہیں آئی ہے بلکہ نماز کی حالت میں آستین سمیٹنے کی ممانعت ہے. اور یہ حدیث صحیح ہے.
✅دوسری بات یہ کہ ٹخنہ سے نیچے کپڑا پہننا منع ہے ، اور نماز کی حالت میں بهی...اس سے متعلق بهی بہت ساری صحیح احادیث ہیں..
♻کچه تفاصیل......
🔳ایک نمازی کے لئے دوران نماز اپنے کپڑے وغیرہ موڑنا یا درست کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی صلی للہ علیہ وسلم سے منقول ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اپنے بالوں اور کپڑوں سے منع کیا گیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی ایک دوسری حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے سات پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اپنے بال اور کپڑوں كو سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
🔳مردوں کے لئے ایسے لمبے کپڑوں کا پہننا جو ٹخنوں سے نیچے پہنچتے ہوں، حرام ہے۔ چاہے وہ کپڑا قمیص ہو یا پاجامہ ہو یا پتلون ہو، اور چاہے اسبال کرنے والے کی نیت تکبر کی ہو یا نہ ہو؛ اس لئے کہ نبي صلى الله عليه وسلم کا یہ عمومی ارشاد ہے کہ: تہبند کا جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہوا وہ جہنم میں ہوگا.
اس کی بخاری نے اپنی صحيح میں،اور امام احمد نے اپنے مسند میں ذکر کیا ہے۔
نیز اس لئے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ: تین لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر کرم کرے گا، اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے: وہ جو اپنا تہبند ٹخنوں سے نيچے لٹکاتا ہے، اور وہ جو کچھـ دے کر احسان جتلاتا ہے، اور وہ جو جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان کو فروغ دیتا ہے۔
اس کی تخریج امام مسلم نے (اپنی صحیح میں: ج 1 ص 102) اور امام احمد نے (مسند) میں کی ہے۔
اس بناء پر اس کے لئے جائز نہیں کہ اسبال [ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننا] کرتے ہوئے نماز پڑھے، بلکہ اس پر یہ واجب ہے کہ اس کو بدل کر ایسے کپڑے پہنے جو ٹخنوں کے اوپر آدھی پنڈلی تک رہیں، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو نماز میں داخل ہونے سے پہلے اس پر واجب ہے کہ پتلون کو اوپر کرلے، اس طرح کہ ٹخنوں سے اوپر ہوجائے۔لیکن اگر وہ اسبال کی حالت میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہوجائے گی، لیکن حرام کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا، اور اس کے اوپر یہ واجب ہے کہ اس عمل سے سچی توبہ کرے اور نماز کے دوران پتلون کو ہٹانا یا اسے اوپر کرنا مکروہ ہے، اور اسی طرح آستین کو ہٹانا مکروہ ہے کیونکہ صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، اور کپڑے اور بال کو نہ سميٹوں۔ اور ہٹانے سے مراد اسے سکوڑنا اور موڑنا ہے، تاکہ زمین میں اس کی نماز کی جگہ میں نہ پڑے، اور اس حکم میں شماغ اور دوسرے کپڑوں کو ہٹانا بھی داخل ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد
💫مقبول احمد سلفی
 
Top