ذیشان خان

Administrator
جمعہ کے حوالے سے قابل غور

معمولی سستی کی وجہ سے اتنا عظیم ثواب چھوڑ دینا بہت بڑی محرومی ہے ...

سيدنا أَوس بن أَوس الثقفي رضي الله عنه سے روایت ہے کہ انھون نے فرمایا : مینے نبی صلى الله عليه وسلم سے یے ارشاد سنا :

’’مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَكَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْتَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَشَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْكَبْ، ‏‏‏‏‏‏وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَلْغُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.‘‘

"جس نے جمعے کے دن غسل کیا اور کرایا، اوّل وقت میں آیا، (خطبہ میں) شروع سے حاضر رہا، پیدل چل کر آیا، سوار ہو کر نہ آیا، امام سے قریب ہو کر توجہ سے (خطبہ) سنا، (خطبے کے دوران میں) فضول حرکت نہ کی، اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل، یعنی ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا۔"

📋 (سنن إبن ماجه : ١٠٨٧، صحيح)

غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ: کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سر دھویا اور نہایا، یعنی اہتمام سے غسل کیا اور پوری صفائی حاصل کی۔ دوسرا مطلب، جس کہ مطابق ترجمہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اپنی بیوی کا صنفی حق ادا کیا جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جمعے کو آتے ہوئے راستے میں عورتوں پر ناجائز انداز سے نظر نہیں پڑے گی۔

📋 (مولانا عطاء الله ساجد حفظه الله || سنن إبن ماجه اردو : ١٩٢/٢، ط. دار السلام)

|[ جمعہ کے دن سورة الكهف پڑھنا ]|

سيدنا ابو سعید الخدري رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ نبی كريم صلی ‌الله ‌علیه ‌وآله ‌وسلم نے فرمایا :

”من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين.“

"جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکهف پڑھتا ہے تو اس کے لیے دو جمعوں کی درمیانی مدت کے لیے نور چمکتا رہتا ہے۔"

اسی طرح فرمایا: ”من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له النور ما بينَه و بين البيتِ العتيق.“

"جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکهف پڑھتا ہے تو اس کے لیے اس کے اور بیت الله کے درمیان نور کی روشنی ہوجاتی ہے۔"

📋 - |[ صحيح الجامع : ٦٤٧١،٦٤٧٠ ]|

|[ اللهم صل على محمد ... ]|

سيدنا أنس بن مالك رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله - صلی الله عليه وسلم - نے فرمایا :

"أكثِروا الصَّلاةَ علي يومَ الجمُعةِ و ليلةَ الجمُعةِ ، فمَن صلَّى علي صلاةً صلَّى الله عليِه عَشرًا."

"جمعے کے دن اور جمعے کی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ؛ پس جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے الله اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے !"

📕 - [ صحيح الجامع : ١٢٠٩ ]

امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں :

"مجھے ہر حال میں نبی صلی الله علیه وسلم پر کثرت سے دورد بھیجنا پسند ہے، مگر جمعہ کے دن اور رات کو بہت ہی محبوب ہے۔"

📕 - [ الأم : ٢٣٩/١ ]

امام ابن حجر رحمه الله نقل کرتے ہیں :

"نبی صلی الله علیه وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے !"

📕 - [ بذل الماعون : ٣٣٣ ]

[ تارکین جمعہ اپنے عمل سے باز آجائیں ]

رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا :

جمعہ چھوڑنے والے اپنے عمل سے باز آجائیں، نہیں تو اللہ تعالیٰ انکے دلوں پر مہر لگا دیں گے اور پھر وہ لوگ غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے

📔 - [ صحیح مسلم : ٢٠٠٢ ]

دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا :

جو شخص بلاعذر تین جمعہ ترک کرتا ہے تو اس کو منافقین میں لکھ دیا جاتا ہے

📒 - [ صحیح الترغیب والترهيب : ٧٣١ ]

حبر الامة سیدنا عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنھما فرماتے ہیں :

جس نے تین جمعہ لگاتار چھوڑ دیا گویا اس نے اسلام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا

📔 - [ الترغيب والترهيب : ٣٥٢/١، صحيح ]
 
Top