ذیشان خان

Administrator
فضائل و مناقب سیدنا ومحبوبنا ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ!

جمع و ترتیب: نوید عامر

سیدنا محمد کریم ﷺ نے سیدنا ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ کا نام لے کر فرمایا:
أبو بكر في الجنة.
أبو بكر جنتی ہیں۔
📚 «سنن الترمذي: ٣٧٤٧ ۔ وسندہ صحیح»

سیدنا ابو موسىٰ الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں مدینہ کے ایک باغ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا، تو نبی ﷺ نے فرمایا:
افتح له وبشره بالجنة.
ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی خوش خبری دے دو۔
سیدنا ابو موسىٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میں نے دروازہ کھولا تو وہ سیدنا ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ تھے۔
📚 «صحیح البخاري: ٣٦٩٣ ۔ صحیح مسلم: ٢٤٠٣»

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ، ابو بكر، عمر و عثمان رضی اللہ عنھم کے ہمراہ اُحد پہاڑ پر چڑھے۔ زلزلے کی وجہ سے پہاڑ لرزنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا:
اثبت احد فما عليك إلا نبي او صديق او شهيدان.
اے اُحد! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔
📚 «صحیح البخاري، رقم الحدیث: ٣٦٨٦»

سیدنا محمد کریم ﷺ نے فرمایا:
إن من أمن الناس علي في صحبته وماله أبا بكر ولو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر.
اپنی رفاقت اور مال کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسانات ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہیں۔ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
📚 «صحیح البخاري: ٣٦٥٤ ۔ صحیح مسلم: ٢٣٨٢»

غزوہ ذات السلاسل میں جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو بكر و سیدنا عمر رضی اللہ عنھما کی موجودگی کے باوجود امیرِ لشکر بنا کر روانہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال گزرا کہ نبی کریم ﷺ شاید مجھ سے ہی سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں جبھی تو اتنے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ہوتے ہوئے بھی یہ عہدہ مجھے عطا فرمایا۔ بالآخر آپ رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کی:
أي الناس أحب إليك ؟
الله کے رسول ﷺ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: عائشہ رضی اللہ عنھا۔
تسلی نہ ہوئی تو ساتھ ہی اگلا سوال کردیا:
من الرجال ؟
الله کے رسول ﷺ! مَردوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أبوها.
عائشہ رضی اللہ عنھا کے والد، ابو بكر رضی اللہ عنہ۔
📚 «صحيح البخاري: ٣٦٦٢ ۔ صحیح مسلم: ٢٣٨٤»

سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لو وزن إيمان أبي بكر بإيمان أهل الأرض لرجح بهم.
اگر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کو سارے زمين والوں كے ايمان سے تولا جائے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان ان سے بھاری ہوگا۔
📚 «شعب الإيمان للبيهقي: ٣٥ ۔ وسندہ حسن لذاته»

سیدنا محمد بن علی بن ابی طالب الھاشمی (المعروف به محمد بن الحنفية) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قلت لابي: اي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر.
میں نے اپنے والد (سیدنا علي رضی اللہ عنہ) سے پوچھا:
لوگوں میں رسول الله ﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
ابو بکر رضی اللہ عنہ۔
📚 «صحیح البخاري: ٣٦٧١»

سیدنا ربيعہ بن كعب الاسلمی اور سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنھما میں ایک بار کچھ تلخ کلامی ہوگئی تو سیدنا ربيعہ رضی اللہ عنہ کی قوم کے کچھ لوگوں نے آپ سے کہا کہ اس معاملے کی بابت ہم خود آپ کے ساتھ رسول الله ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔ سیدنا ربيعہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا:
أتدرون ما هذا؟ هذا أبو بكر الصديق، هذا ثاني اثنين، وهذا ذو شيبة المسلمين، إِياكم لا يلتفت فيراكم تنصروني عليه فيغضب فيأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيغضب لغضبه، فيغضب الله عز وجل لغضبهما فيهلك ربيعة.
تم جانتے بھی ہو وہ کون ہیں؟ وہ ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ تو ثانی اثنین ہیں جو مسلمانوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، لہذا تم سب اس سے بچ جاؤ۔ وہ تمہیں میرے ساتھ دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ تم سب میری مدد کر رہے ہو۔ پھر وہ رسول الله ﷺ کے پاس جائیں گے۔ ان کے غصہ ہونے کی وجہ سے رسول الله ﷺ بھی غضب ناک ہوجائیں گے اور رسول الله ﷺ اور ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ کے غضب ناک ہونے کی وجہ سے الله بھی غضب ناک ہوجائے گا۔ ایسے تو ربيعہ ہلاک ہوجائے گا۔
📚 «مسند الإمام أحمد بن حنبل: ١٦٥٧٧ ۔ وسندہ حسن لذاته»

سیدنا ابو جعفر محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ نے فرمایا:
اللهم إني أتولى أبا بكر وعمر وأحبهما اللهم إن كان في نفسي غير هذا فلا نالتني شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم يوم القيامة.
اے الله! میں ابو بكر و عمر رضی اللہ عنھما، دونوں کو اپنا ولی مانتا ہوں اور ان سے محبت کرتا ہوں۔ اے الله! اگر میرے دل میں اس کے برعکس کچھ ہو تو قیامت کے دن مجھے محمد ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو۔
📚 «تاريخ دمشق لإبن عساكر: ٢٨٦/٥٤ ۔ وسندہ حسن لذاته»

شیخ الاسلام امام احمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو سیدنا ابو بكر، سیدنا عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھم پر سبّ و شتم کرتا ہے، تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
ما أرآه على الإسلام.
میں اسے اسلام پر نہیں سمجھتا۔
📚 «السنة لأبي بكر بن الخلال: ٧٧٩ وسندہ: صحیح»
 
Top