ذیشان خان

Administrator
کیا منافقین کے بارے صحابہ کرام -رضوان اللہ عنہم اجمعین- کو علم نہیں تھا؟

✍ ضياء الحق تيمي

عموما دشمنانِ صحابہ کی طرف سے یہ شبہ پیدا کیا جاتا رہا ہے کہ منافقین کے بارے صحابہ کرام کو علم نہیں تھا چہ جائیکہ بعد کے لوگوں کو ان کے بارے علم ہو، لہذا صحابہ کرام کی جماعت میں بعض منافق بھی تھے۔ العیاذ باللہ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ منافقین کے بارے صحابہ کرام کو علم نہیں تھا، بلکہ انہیں اُن میں سے بعض کے نفاق کے بارے قطعی طور پر علم تھا اور بعض کے بارے انہیں کچھ شک وشبہ تھا، لیکن ان کی حرکات وسکنات، نششت وبرخاست، ان کے اندازِ گفتگو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے خلاف بسا اوقات ان کی زبان دارزی وایذا رسانی، صحابہ کرام سے دوری، اور عبد اللہ بن ابی ودیگر منافقین سے قربت، کفار اور یہودیوں کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات، جہاد سے مختلف حیلے اور بہانے کے ذریعہ اکثر راہِ فرار، خود کو مومن ثابت کرنے کے کئے جھوٹی قسمیں، مسجدِ ضِرار کی تعمیر، نماز میں سستی، ذکر واذکار میں غفلت، بزدلی، کنجوسی، افشائے راز کے ڈر سے ہمیشہ چہرے پر خوف وہراس کے آثار وغیرہ ایسی علامتیں تھیں جن کو دیکھ کر صحابہ کرام کو شبہِ یقین تھا کہ فلاں وفلاں منافق ہیں، اور جب سورہ توبہ کا نزول ہوا اور اس میں منافقین کے اوصاف کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تو پھر منافقین پوری طرح بے نقاب ہو گئے، اور یہ شبہ بھی اکثر صحابہ کے نزدیک سے جاتا رہا۔
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : "سورۃ توبہ سورہ فاضحہ ہے جس نے منافقین کو پوری طرح بے نقاب کر دیا، یہاں تک منافقین یہ سمجھ گئے ان میں سے ہر شخص کا ذکر اس میں کر دیا گیا ہے"۔ البخاري: (4882)، ومسلم: (3031)۔
اس کے برعکس صحابہ کرام کی مقدس اور بابرکت جماعت اپنے ایمان، اعمال صالحہ، ہجرت، جہاد، انفاق فی سبیل اللہ، ایثار وقربانی، دشمن کے خلاف سخت، باہم شفقت وجانثاری، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت، طاعت وبندگی، قیام اللیل، ذکر اللہ، خوفِ خدا، خشیت وانابت، تلاوت کلام پاک، چہرے کی بشاشت ونورانیت وغیرہ سیکڑوں ایسے اوصاف تھے جن سے وہ ممتاز تھے۔
لہذا منافقین اپنی عادات وخصائص میں صحابہ کرام کے اوصاف وخصائص سے اس قدر الگ اور مختلف تھے کہ دونوں گروہ کے درمیان تمیز وتفریق کسی کے لیے بھی ممکن تھا چہ جائکہ صحابہ کرام جیسی با بصیرت جماعت پر مخفی رہے ۔ دونوں گروہ کے امتیازی وصف کو بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں: {وَلِيُمَحِّصَ اللهُ الَّذِينَ آَمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ} [آل عمران: 141]. "تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے اور کافروں کو مٹا دے"۔
گویا اللہ تعالی نے منافقین کو اسی دنیا میں ذلیل ورسوا کر دیا ہے یہاں ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جسے صحابی کی فہرست میں جگہ مل سکی ہو، چنانچہ صلاح الدین علائی (761ه)فرماتے ہیں: "مقامِ صحابیت ایک عظیم شرف ہے، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ کے اصحاب کے ساتھ خاص ہے، اس شرف کو پانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ان پر ایمان لانا شرط ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے منافقین کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے صحابہ کی طرف کرنے سے منع کیا ہے، اسی طرح ان منافقین میں کسی سے بھی کوئی ایک روایت کتب حدیث یا دیگر کتابوں میں مروی نہیں ہے، اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کا بھی نام صحابہ سے متعلق کتابوں میں مذکور ہے"۔ "تحقيق منيف الرتبة لمن ثبت له شريف الصحبة" (ص: 46)۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ۔
 
Top