ذیشان خان

Administrator
نماز میں آنکھیں بند کرنا
==============
مقبول احمد سلفی
نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے لیکن اگر ضرورت ہو تو بند کی جا سکتی ہیں مگر بغیر ضرورت نماز میں آنکھیں بند کرنا اہل علم کے نزدیک مکروہ ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے اور ہمارے لئے نبی ﷺ کا عمل ہی نمونہ ہے ۔
آنکھیں کھول کر نماز پڑھنے پڑھنے کی چند دلیلیں :
(1)عن أَنَس بْن مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ : لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْز(بحاري:750)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راویت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لوگوں کو کیا ہوا وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بڑی سختی سے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو اس سے باز آنا چاہئے یا پھر ان کی بینائی کو اچک لیا جائے گا۔
استدلال : اس حدیث سے پتہ چلتا ہے نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا منع ہے یعنی نیچے (سجدہ کی جگہ/امام کی جانب) دیکھا جائےاور یہ دیکھنا آنکھ کھولے بغیر نہیں ہوسکتا۔
(2)عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها أعلام فقال ‏:شغلتني أعلام هذه، اذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانية‏‏‏. (بخاری:752)‏
ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے بجائے اس کے سادی چادر مانگ لاؤ۔
استدلال : اس حدیث سے پتہ چلا کہ آپ ﷺ کی نظر دھاری دار چادر پہ پڑنے کی وجہ سے نماز سے غافل ہوگئے گویا نماز میں آپ کی آنکھیں کھولی تھیں تبھی تو آپ کی نظر چادر پہ پڑی۔
(3)عن أبي معمر، قال قلنا لخباب أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الظهر والعصر قال نعم‏.‏ قلنا بم كنتم تعرفون ذاك قال باضطراب لحيته‏.(بخاری : 476)‏
ترجمہ :ابومعمر سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی رکعتوں میں ( فاتحہ کے سوا ) اور کچھ قرات کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ لوگ یہ بات کس طرح سمجھ جاتے تھے۔ فرمایا کہ آپ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
استدلال : اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابی نماز میں آنکھیں کھولے رکھتے تھے جبھی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مبارک کو نماز میں ہلتے ہوئے دیکھا۔
اس سلسلے میں بے شمار دلائل ہیں جن کا یہاں احاطہ مشکل ہے مگر کوئی ایک بھی روایت نماز میں آنکھیں بند کرنے کے متعلق نہیں آئی ہے ۔
نماز میں آنکھیں بند کرنے کی ممانعت سے متعلق اس طرح کی ایک روایت آئی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بن النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بن سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بن أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلا يَغْمِضْ عَيْنَيْهِ.
(معجم الطبراني)
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرے ۔
٭طبرانی کی اس روایت کو شیخ البانیؒ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ (ضعیف الجامع :617)
ایک اور بات : اہل علم نے نماز میں آنکھیں بند کرنے کو یہودی کا عمل قرار دیا ہے ، اس لئے ان کی مخالفت میں آنکھیں کھولی جائیں نہ کہ بند کی جائیں ۔
اس سے متعلق ابن القیم ؒ کا ایک بہترین قول ہے ۔
أن الإنسان إذا كان أكثر خشوعاً بتفتيح العينين فهو أولى ، وإن كان أخشع له تغميض العينين لوجود ما يشغله عن الصلاة من تزويق وزخرفة فإنه لا يكره قطعاً بل القول باستحباب التغميض أقرب إلى مقاصد الشرع وأصوله من القول بالكراهة . ( زاد المعاد 1/283 )
یعنی اگر آنکھیں کھول کر نماز ادا کرنا خشوع میں مخل نہیں ہے تو آنکھیں کھول کر نماز ادا کرنا افضل ہوگا ،ہاں اگر قبلہ کے سامنے زینت وزیبائش اور آرائش کی وجہ سے نماز کا خشوع وخضوع متاثر ہورہا ہو توآنکھیں بند کرنا قطعاً مکروہ نہیں ہوگا، بلکہ ایسی حالت میں مستحب کہنا اصول شریعت کے زیادہ قریب ہے ۔
خلاصۃً یہ کہیں گے کہ نماز کی اصل آنکھ کھول کرکے ہی ہے یعنی ہم آنکھیں کھول کے نماز پڑھیں گے ۔ قیام اور رکوع کی حالت میں سجدے کی جگہ نظر ہو ۔سجدے میں معروف ہےاور قعدہ میں تشہد کی انگلی پہ ۔ اور اگر کسی سبب آنکھیں بند کرنے کی حاجت پیش آئے تو آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں ۔
واللہ اعلم
 
Top