ذیشان خان

Administrator
شذرات حدیثیہ

ڈاکٹر عبدالکریم بن عبداللہ خضیر
ترجمانی: رفیق احمد رئیس سلفی


[طالب علمی کے زمانے میں کسی محترم ہندوستانی محدث کے سوانحی خاکے میں پڑھا تھا کہ انھوں نے طالب علمی کے دور میں اور حدیث کا استاذ بن جانے کے بعد بھی شذرات حدیثیہ (حدیث کے بکھرے موتی) جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اسے بعد میں بھی جاری رکھا تھا جس میں وہ استاذ کی طرف سے بیان کردہ کوئی نکتہ تحریر کرلیا کرتے تھے اور پھر جب تدریس حدیث کی سعادت حاصل ہوئی تو دوران مطالعہ جہاں کہیں حدیث، شرح حدیث اور رجال حدیث سے متعلق کسی نادر، مفید اور اہم چیز پر نظر پڑی تو اسے بھی اپنی ڈائری کی زینت بنالیا کرتے تھے۔ محدث موصوف ڈائری مرتب کرکے اسے قابل اشاعت بناناچاہتے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہیں دی اور ان کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔
طالب علمی کے دور میں جب یہ واقعہ پڑھا تو خیال آیا کہ کیوں نہ یہ کام خود بھی کیا جائے لیکن اس خیال کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ اس وقت مختلف موضوعات پر زیادہ سے زیادہ کتابوں کے پڑھنے کا شوق غالب تھا اور حافظہ پر اتنا اعتماد تھا کہ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن یہ طالب علمی کے دور کی ایک بڑی بھول تھی جس کا احساس اب ہورہا ہے۔ دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ سے درخواست ہے کہ حاصل مطالعہ قلم بند کرنے اور کوئی نکتہ تحریر کرنے کی علاحدہ کاپی ضرور بنائیں، ان شاء اللہ یہ کاپی آپ کو ہمیشہ فائدہ دے گی اور بوقت ضرورت آپ اس کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
میرا احساس ہے کہ کوئی ماہر فن جب اس طرح کے بکھرے موتیوں (شذرات) کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے تو اس کی قیمت دوچند ہو جاتی ہے اور اس سے استفادہ آسان ہوجاتا ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں صفحات میں بکھرے ہوئے یہ جواہر پارے اسی وقت گرفت میں آسکتے ہیں جب ہمارا مطالعہ وسیع ہو اور ہم زیادہ سے زیادہ کتب بینی کا شوق رکھتے ہوں۔
الحمد للہ ہمارے نوجوان سلفی اہل قلم میں کئی احباب اپنے اپنے مضامین کے متخصص ہیں، کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ اپنے مخصوص فن کے شذرات تحریر فرمادیتے تو دوسرے اہل علم حضرات بھی ان سے مستفید ہوتے۔ خاص طور پر ان مدنی دوستوں سے یہ درخواست کی جاسکتی ہے جو سعودی جامعات میں کلیۃ اللغۃ، کلیۃ الدعوۃ، کلیۃ اصول الدین اور کلیۃ الحدیث وغیرہ کے فاضل ہیں کہ وہ اپنے اپنے مضامین سے متعلق شذرات کو وقتاً فوقتاً تحریر فرماتے رہیں۔ انھوں نے ان مضامین کی امہات کتب ایک خاص انداز میں ایسے بڑے فاضل اساتذہ سے پڑھی ہیں جو حقیقت میں اپنے اپنے فن پر عبور رکھتے ہیں۔ ہمیں ان محترم حضرات کی تدریسی، تصنیفی، دعوتی اور انتظامی مصروفیات کا اندازہ ہے لیکن یہ بھی ایک علمی کام ہے جو اپنے فن سے متعلق صرف وہی کرسکتے ہیں، دوسرا کوئی نہیں کرسکتا۔ اس قسم کے شذرات وسیع اور گہرے مطالعہ کا حاصل ہوتے ہیں جو مختصر الفاظ میں طلبہ کے سامنے آجاتے ہیں، وہ بہت مختصر وقت میں ان کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کرلیتے ہیں اور اپنے علمی سفر کو مزید آگے لے جاتے ہیں۔
تعلیم و تدریس کے میدان میں آج جو ریسرچ اور تحقیق ہورہی ہے اور طلبہ تک معلومات کی ترسیل کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا جارہا ہے، اس میں اس قسم کے شذرات کی بڑی اہمیت ہے۔ عربی صرف و نحو کے بعض قواعد اور مسلمات ایسے ہیں جن کو آبجیکٹو سوالات کے ذریعے آسان اور سہل الحصول بنایا جاسکتا ہے۔ کاش ہمارے درمیان موجود تفسیر، حدیث، فقہ اور عربی زبان و ادب کے ماہرین اس جانب توجہ فرماتے تو طلبہ کو کافی فائدہ ہوتا۔ الیکٹرانک میڈیا کے سامنے آنے کے بعد معلومات کی ترسیل اب بہت آسان ہوگئی ہے۔چھوٹے چھوٹے مضامین کی شکل میں ان کو تحریر کرکے سوشل میڈیا پر ڈال دیں تاکہ ان کی افادیت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاجائے۔ اس قسم کی مفید چیزوں کو لوگ اپنے طور پر خود ہی پوری دنیا میں عام کردیتے ہیں۔
ایک دن انٹر نیٹ پر کوئی چیز تلاش کررہا تھا تو فضیلۃ الدکتور عبدالکریم بن عبداللہ خضیر حفظہ اللہ (ولادت:1374ھ) سابق استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض و رکن دائمی کمیٹی برائے افتا، سعودی عرب، کی سائٹ پر نظر پڑی۔ اس پر دیگر علمی مواد کے ساتھ ساتھ شذرات حدیثیہ کی خاصی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ کئی ایک شذرات پڑھنے کے بعد خود میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا، خیال آیا کہ کیوں نہ اسے اردو کا جامہ پہنا دیا جائے تاکہ اس کی افادیت اردو داں طبقے میں بھی عام ہوجائے اور ہمارے دینی مدارس کے طلبہ بھی ان سے مستفید ہوں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتابوں میں بھی اس طرح کے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں، جو حضرات تصانیف البانی بہ کثرت دیکھتے ہیں، وہ یہ خدمت بہ خوبی انجام دے سکتے ہیں۔ عربی میں علامہ البانی کی تصانیف اور تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے اب تک کئی ایک مفید اور سلسلے مرتب ہوچکے ہیں۔ کاش ہم اردو دنیا کو بھی علامہ البانی کی علمی فتوحات سے روشناس کرا پاتے۔ بروقت محولہ سائٹ پر موجود دُررحدیثیہ/شذرات حدیثیہ کو فرصت کے اوقات میں تھوڑا تھوڑا کرکے اردو میں منتقل کرنے کا آغاز کردیا ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ اس کی تکمیل کی توفیق اور مہلت عطا فرمائے۔ آمین
فن حدیث کے ماہرین کے لیے شاید ان شذرات میں کوئی افادیت نہ ہو، حدیث کے سمندر میں غوطہ زنی کرتے ہوئے ان کا دامن ایسے ہزاروں موتیوں سے پہلے ہی بھرا ہوا ہوگا لیکن مجھ جیسے کم علم کے لیے ان میں سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ان شذرات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، ضروری نہیں کہ ان سے کلی اتفاق کیا جاسکے، بعض تحفظات ہوسکتے ہیں، اللہ کی کتاب کے علاوہ کسی دوسری کتاب یا تحریر کے سلسلے میں یہ گواہی نہیں دی جاسکتی کہ وہ بالکل صحیح ہے، اس میں خطا اور نسیان کا امکان موجود ہے۔ اگر کسی صاحب علم کو کسی چیز سے اختلاف ہو اور اس کے پاس معقول دلائل ہوں تو اسے سامنے آنا چاہیے، اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔ علم تقسیم کیجیے، اس سے ان شاء اللہ نہ صرف آپ کے علم میں برکت ہوگی بلکہ علم سیکھنے کے بعد جو ذمہ داریاں آتی ہیں، ان سے عہدہ برآ ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے۔

(رفیق احمد رئیس سلفی، علی گڑھ)]


……………………………………………………..

ضعیف و موضوع روایات کو محفوظ اور مدون کرنے کا مقصد

اہل علم اور محدثین نے جس طرح صحیح احادیث پر اپنی توجہ مبذول فرمائی ہے، اسی طرح انھوں نے ضعیف اور موضوع روایات کو بھی قلم بند کرکے ان کی جمع و تدوین کی ہے۔ صحیح احادیث پر ان کی توجہ کا مقصد ان پر عمل کرنا اور کرانا ہے جب کہ ضعیف اور موضوع روایات کو جمع کرنے کا مقصد ان سے بچنا اور دوسروں کو خبردار کرنا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح روایات حفظ تھیں۔ جو شخص ضعیف حدیث کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا، بسااوقات اس پر عمل کر بیٹھتا ہے۔ یہ علم و آگہی ’’عرفت الشر لا للشر ولکن لأتقیہ‘‘ کے باب سے ہے یعنی میں نے برائی کی معرفت برائی پر عمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سے بچنے کے لیے حاصل کی ہے۔

صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مدلس راویان حدیث کی تمام روایات اہل علم کے نزدیک اتصال پر محمول ہیں کیوں کہ مستخرجات وغیرہ کتب احادیث میں ایسی تمام احادیث ایسے طرق و اسانید سے مروی ہیں جن میں تحدیث کی صراحت کی گئی ہے۔ جن حضرات نے اس پہلو سے صحیحین کی عنعنہ والی احادیث پر اعتراض کیا ہے اور عنعنہ والی روایات کے قاعدے کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر بھی نافذ کیا ہے، ان کے اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ان سے صحیحین کی عظمت پر کوئی حرف آتا ہے۔

فتح الباری میں مذکور کسی حدیث پرحافظ ابن حجر کی خاموشی
صحیح بخاری کی اپنی شرح ’’فتح الباری‘‘ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جب وہ شرح میں کسی حدیث کا ذکر کرتے ہیں اور اس پر خاموشی اختیار کرتے ہیں یعنی اس پر کوئی حکم نہیں لگاتے تو وہ ان کے نزدیک صحیح یا حسن ہوتی ہے۔ فتح الباری کے مقدمہ میں حافظ نے اس اصول کی صراحت کی ہے لیکن ان کی شرح میں بعض ایسی ضعیف احادیث پائی جاتی ہیں جن کا ضعف ظاہر ہے اور حافظ نے ان پر کوئی حکم بھی نہیں لگایا ہے۔ اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یا تو اسے ابن حجر کا ذہول اور نسیان سمجھا جائے گا یا ان کی ذکر کردہ حدیث کو ترجمۃ الباب میں مذکور حدیث کی تقویت و تائید یا اس کے مفہوم کی وضاحت پر محمول کیا جائے گا۔

امام مسلم نے صحیح مسلم کی تبویب نہیں کی
صحیح مسلم میں اس وقت جو تبویب و ترجمہ ابواب موجود ہیں، وہ امام مسلم رحمہ اللہ کے تحریر فرمودہ نہیں ہیں۔ امام مسلم نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں کتب و ابواب قائم نہیں کیے ہیں بلکہ بعض شارحین حدیث نے اپنے طور پر یہ خدمت انجام دی ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بعد کے تقریباً تمام شارحین صحیح مسلم نے انہی کی پیروی کی ہے۔
[راقم عرض کرتا ہے: صحیح مسلم کی تبویب سے متعلق ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ان کو اس کا موقع نہیں ملا۔ عام طور سے کتب سیر و تراجم میں یہی بات ملتی ہے۔ خاکسار کا خیال ہے( لیکن اس پر اصرار نہیں) کہ امام موصوف نے دانستہ اسے ترک کردیا ہے۔ انھوں نے ترتیب احادیث میں تو مروج طریقے کو اختیار کیا ہے لیکن ان پر کتب اور ابواب کی تعیین نہیں فرمائی کیوں کہ ایسا کرنے سے قاری کا ذہن اس حدیث کو اسی کتاب اور باب میں محدود سمجھ لیتا ہے جب کہ حدیث اپنا ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ استاذ گرامی مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی اپنی شرح ’’منۃ المنعم‘‘ میں امام نووی کی تبویب پر اکتفا نہ کرکے اپنے طور پر صحیح مسلم میں کتب و ابواب قائم کیے ہیں جو ان کی ذہانت اور حدیث فہمی کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے اب صحیح مسلم میں حدیث کی تلاش آسان ہوگئی ہے]۔

حدیث مشہور اور حدیث مستفیض میں فرق
حدیث مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو روایت کرنے والے ہر طبقے میں تین یا تین سے زیادہ راوی ہوں۔ ایسی حدیث چوں کہ واضح، مشہور اور عام ہوتی ہے اس لیے اس کو مشہور کہتے ہیں۔ عربی میں لفظ ’’شہر‘‘ مہینہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیوں کہ وہ لوگوں میں مشہور و معروف ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق مشہور کا دوسرا نام مستفیض بھی ہے لیکن بعض علما مستفیض اور مشہور کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ وہ مستفیض اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے راویوں کی تعداد تمام طبقات میں ایک جیسی ہو جب کہ مشہور حدیث وہ ہے، جس کی سند کے تمام طبقات کے راویوں کی تعداد الگ الگ ہو۔

سنن ابن ماجہ کا امتیاز اور اس کی اہمیت
امام ابن ماجہ کی کتاب حدیث ’’السنن‘‘ جس کا شمار کتب ستہ میں ہوتا ہے، وہ کئی ایک فوائد پر مشتمل ہے۔ اس میں ثلاثیات بھی ہیں اور عوالی بھی، کتاب بہت مفید ہے۔ اس میں تکرار بہت کم ہے جب کہ ضعیف روایات زیادہ ہیں۔ کہنے والوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امام ابن ماجہ جن احادیث کے بیان کرنے میں متفرد (تنہا) ہیں، ان پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق راویان حدیث سے ہو یا خود احادیث سے لیکن یہ ایک طرح کا مبالغہ ہے، سنن ابن ماجہ میں سیکڑوں احادیث ایسی ہیں جن کو بیان کرنے میں امام ابن ماجہ متفرد ہیں لیکن وہ صحیح یا ’’ لابأس بہ‘‘ کے ذیل میں آتی ہیں۔
[راقم سطور نے سنن ابن ماجہ کی ایک اور خصوصیت نوٹ کی ہے کہ وہ ایک باب میں اگر ایک مفہوم کی کئی احادیث ذکر کرتے ہیں تو عام طور پر ہر حدیث کے راوی صحابی الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ متن حدیث مزید کن کن صحابہ کرام سے منقول ہے]۔

مختلف الحدیث کے موضوع پر کتابیں اور ان کی اہمیت
نصوص حدیث میں موجود تعارض (اختلاف) سے جو اشکال پیدا ہوتا ہے، اس کو مختلف الحدیث اور مشکل الحدیث کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں دور کرتی ہیں۔ تعارض کو اہل علم مختلف الحدیث، مشکل الحدیث اور اختلاف الحدیث کا نام دیتے ہیں۔ اس موضوع کی مشہور کتابیں امام شافعی رحمہ اللہ کی ’’اختلاف الحدیث‘‘، ابن قتیبہ کی ’’اختلاف الحدیث‘‘ اور امام طحاوی کی ’’مشکل الآثار‘‘ وغیرہ ہیں۔

علو اور نزول کا مطلب اور اس کی قسمیں
علو حدیث کی وہ سند ہے جس کے راوی کم ہوں اور نزول اس کے برعکس کو کہتے ہیں یعنی جس کے راویوں کی تعداد زیادہ ہو۔ علو کی افضل ترین قسم نبی اکرم ﷺ کی زیادہ قربت سے حاصل ہونے والا علو ہے۔ علو کی ایک قسم وہ ہے جس میں کسی امام حدیث سے قربت ہوتی ہے، اسی طرح کسی حدیث کی کتاب سے، سماع کے تقدم سے اور وفات کے تقدم سے بھی جو علو حاصل ہوتا ہے، اسے بھی علو کہا جاتا ہے جب کہ نزول ان تمام اقسام میں ان کی ضد کو کہتے ہیں۔

مسند کی اصطلاح کے معانی محدثین کی نظر میں
محدثین کرام کبھی مسند کے لفظ کا اطلاق اس حدیث پر کرتے ہیں جو سند کے ساتھ ذکر کی جائے، کبھی اس کا اطلاق اس کتاب پر کرتے ہیں جس میں تمام احادیث باسند مذکور ہوں۔ اسی لیے صحیح بخاری کے مکمل نام میں یہ الفاظ ملتے ہیں: ’’الجامع الصحیح المسند۔۔۔‘‘۔ اسی طرح کبھی وہ لفظ مسند بول کر اس سے وہ کتاب مراد لیتے ہیں جو مسانید صحابہ پر ترتیب دی گئی ہیں جیسے مسند الامام احمد۔ اسی طرح محدثین کبھی مسند سے وہ حدیث مراد لیتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ تک مرفوعاً بیان کی گئی ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا منقطع ہو۔ بعض محدثین مسند سے صرف وہ حدیث مراد لیتے ہیں جو متصل ہو خواہ وہ مرفوع ہو یا غیر مرفوع ہو، جب کہ بعض محدثین لفظ مسند بول کر صرف وہ حدیث مراد لیتے ہیں جو مرفوع ہونے کے ساتھ ساتھ متصل بھی ہو۔
متفق ومفترق اور مؤتلف و مختلف پر علمائے حدیث کی توجہ کا سبب
علمائے حدیث نے متفق و مفترق پر بطور خاص توجہ اس لیے دی ہے تاکہ دو راویوں، تین راویوں یا چار راویوں کے بارے میں یہ اشتباہ نہ ہوجائے کہ کہیں وہ ایک ہی راوی تو نہیں ہیں۔ ان کے درمیان فرق اور تمیز کرنے کے لیے یہ علم، علوم حدیث کا حصہ بنا ہے۔ رہا سوال مؤتلف اور مختلف کا تو اس کا اہتمام علماء نے اس لیے کیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کسی لفظ پر پل پڑے اور روایت کو دیکھے اور اس پر غور و فکر کیے بغیر اپنے خیال کے مطابق اسے درست کردے۔مثال کے طور پر ایک شخص حروف مٹانے والی کوئی چیز لے کر آئے تاکہ وہ کسی منقوط اسم کا کوئی نقطہ مٹادے اور وہ بغیر علم کے اس لفظ پر پل پڑے اور اس کو اپنے خیال کے مطابق صحیح کردے۔ اس فساد کو روکنے کے لیے محدثین کرام نے علوم حدیث کی ان دونوں قسموں کا بطور خاص اہتمام کیا ہے۔

اہل الحدیث کے نزدیک منکر کے اطلاقات
منکر کا لفظ بول کر اس سے وہ حدیث مراد لی جاتی ہے جس کے ایک ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہو۔ جب ضعیف راوی ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے تو محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ منکر، شاذ سے مختلف ہوتا ہے کیوں کہ شاذ میں ثقہ راوی دوسرے ثقہ راویوں کے مخالف روایت بیان کرتا ہے۔ اگر کوئی ثقہ راوی ضعیف راویوں سے اختلاف کرتا ہے تو اسے شاذ نہیں کہتے ہیں۔ متاخرین کے یہاں ان اصطلاحات کا یہی مفہوم متعین ہے۔ بسااوقات منکر بول کر ایسے راوی کا تفرد مراد لیا جاتا ہے جس میں تفرد کا احتمال نہیں ہوتا۔ بعض حضرات شاذ کے مقابلے میں اس اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ بسااوقات متقدمین محدثین کبار کے یہاں منکر کا استعمال تفرد کے مقابلے میں ملتا ہے خواہ وہ ثقہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ بہر حال منکر کا معاملہ شاذ سے سخت ہے اور اس کا ضعف بھی شدید ہے الا یہ کہ اس کا استعمال تفرد کے مقابلے میں کیا جائے تو یہ ضعف کا فائدہ نہیں دیتا ہے۔
تحریری مواد اور دستاویز سے روایت بیان کرنے کی درستگی
تحریری مواد اور دستاویز سے روایت بیان کرنا صحیح ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احادیث قلم بند کی ہیں اور خود نبی اکرم ﷺ نے حدیث لکھنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا: اکتبوا لأبی شاہ (البخاری: 2434) ’’یہ خطبہ ابوشاہ کو تحریر کرکے دے دو‘‘۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باہم ایک دوسرے کو، اسی طرح تابعین کو بھی احادیث لکھ کر دیا کرتے تھے۔ اسی طرح بعد کے لوگوں نے بھی اپنے بعد کے لوگوں کو تحریر کرکے احادیث دینے کا سلسلہ باقی رکھا ہے یہاں تک کہ مصنفین ائمہ حدیث کے اساتذہ اور شیوخ تک یہ سلسلہ ہمیں ملتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: کتب إلیّ محمد بن بشار (6673 ) ’’مجھے محمد بن بشار نے لکھا ہے‘‘۔اس طرح باہمی مراسلت سے حاصل شدہ مواد اور دستاویز سے روایت بیان کرنا درست ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس قسم کی احادیث کی تخریج صحیحین وغیرہ میں کی گئی ہے۔

فن غریب الحدیث پر کتابیں
فن غریب الحدیث پر بہت سی کتابیں ہیں، اگر کوئی شخص غریب الفاظ کی تشریح کے سلسلے میں کتابوں کو شمار کرنا چاہے تو اسے ابوعبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ کی کتاب ’’غریب الحدیث‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان کا شمار ایسے ثقہ ائمہ میں ہوتا ہے جن کو غریب، لغت اور حدیث کے باب میں شہرت حاصل ہے۔ ان کی نقل پر اعتماد کیا جاتا ہے اور وہ عقیدہ کے باب میں بھی کئی طرح کے انحرافات سے محفوظ ہیں۔ ان کی کتاب کا شمار نفیس اور قابل اعتماد کتابوں میں ہوتا ہے۔ اس موضوع پر ان کے جن معاصرین نے قلم اٹھایا ہے، ان میں ایک ابوعبید معمر بن مثنی ہیں، جو ثقاہت اور علمی مقام کے اعتبار سے ان سے ذرا نیچے ہیں۔ اسی طرح اس فن پر نضر بن شمیل کی ’’غریب الحدیث‘‘ زمخشری کی ’’الفائق فی غریب الحدیث‘‘ قاسم بن ثابت کی’’الدلائل‘‘، خطابی کی ’’غریب الحدیث‘‘ اور ابن جوزی کی ’’غریب الحدیث‘‘ ہے۔ لیکن اس فن کی جامع ترین کتاب ابن اثیر کی ’’النہایۃ فی غریب الحدیث‘‘ ہے۔ اگر کوئی صرف ایک ہی کتاب پر اکتفا کرنا چاہتا ہے تو ان شاء اللہ یہ کتاب اس کے لیے کافی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مختلف نوعیت کی کتابیں دیکھنے اور جمع کرنے کا خواہش مند ہے تو اوپر ذکر کردہ اس فن کی معروف و مشہور کتابیں اس کی آسودگی کا سامان فراہم کریں گی۔

مقطوع اثر کو متصل کا نام دینا
علمائے حدیث مقطوع کو اتصال اور انقطاع کے ساتھ خلط ملط کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ مثال کے طور پر ان کے نزدیک کسی اثر کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وہ مقطوع متصل ہے۔ ان کے یہاں مقطوع کو اتصال کا نام دینا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس سے دو کلمات کے درمیان لفظی تنافر لازم آتا ہے لیکن اگر جہت مختلف ہو تو ایسا کرنا ممنوع نہیں ہے بشرطیکہ کوئی اشکال پیدا نہ ہو۔ مثال کے طور پر تم ایک ایسے شخص کے بارے میں جو عمردراز بھی ہے اور پستہ قد بھی، یہ کہو: رأیت الطویل القصیر (میں نے ایک عمردراز پستہ قد شخص کو دیکھا)۔ یہ بھی لفظی مغائرت (تنافر) ہے لیکن جہت مختلف ہے۔ قرآن مجید میں بھی آیا ہے: (فانہ یضلہ ویھدیہ)۔ اسی طرح جہت مختلف ہونے کی وجہ سے مقطوع اثر پر اتصال کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ ایسا اثر اپنی نسبت کے اعتبار سے مقطوع ہے جب کہ تسلسل سند کے لحاظ سے متصل ہے۔ لہذا کسی اثر کو مقطوع متصل کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن محدثین کا خیال ہے کہ ایسا کہنے سے فصاحت میں خلل انداز ہونے والے اسلوب کا ارتکاب لازم آتا ہے اور وہ دو کلمات کے درمیان لفظی تنافر (مغائرت)کی موجودگی ہے۔

غریب الحدیث پر رائے زنی کرنے کے خطرات
کسی مصدر اور مرجع کا حوالہ دیے بغیر غریب الحدیث (حدیث کے مشکل یا قابل تشریح الفاظ) پر گفتگو کرنا پُر خطر ہے کیوں کہ جو شخص غریب الحدیث پر گفتگو کرتا ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہوتی جس کی طرف رجوع کیا جاسکے تو یہ ایک طرح سے نبی اکرم ﷺ کی جانب اپنی طرف سے کوئی بات منسوب کرنا (تقوّل) ہے۔ جس طرح قرآن کی تفسیر میں رائے زنی کرنے سے منع کیا گیا، اسی طرح اس ممانعت کے دائرے میں حدیث کی تشریح اور رائے کی بنیاد پر اس کی تاویل بھی آتی ہے۔ امامان حدیث جیسے امام احمد وغیرہ غریب الحدیث پر بہت محتاط انداز میں گفتگو کرتے تھے۔ غریب الحدیث کے باب میں یہ احتیاط مطلوب ہے تاکہ رائے اور قیاس سے بچا جاسکے۔

پیر اور جمعرات کے دن نفلی روزے کے مستحب ہونے کی حکمت
پیر اور جمعرات کے دن نفلی روزہ رکھنا سنت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں دنوں میں اللہ عزوجل کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’فأحب أن یعرض عملی وأنا صائم ‘‘ (میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال حالت روزہ میں پیش کیے جائیں)۔ یہ حدیث حسن ہے، اس کی تخریج امام احمد(21753)، امام ابوداود(2436)، امام ترمذی(747) اور امام نسائی (2358) نے کی ہے۔ پیر کے دن نفلی روزے کا حکم جمعرات سے زیادہ تاکید کے ساتھ دیا گیا ہے، چنانچہ صحیح مسلم(1162) میں ہے کہ آپ ﷺ سے پیر کے دن نفلی روزہ رکھنے سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ذاک یوم ولدت فیہ وبعثت فیہ أو أنزل علیہ‘‘ (یہی وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھے نبی بنایا گیا یا اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی)۔ نبی اکرم ﷺ نے جن وجوہات کا تذکرہ فرمایا ہے، انہی وجوہات کی بنا پر ان دونوں دنوں کا نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے۔

مرسل روایات کے سلسلے میں علماء کے اقوال
جمہور اہل الحدیث نے مرسل روایات کو ناقابل قبول قرار دیاہے، اگرچہ ابتدائی دور اور صدر اول میں مرسل روایات مقبول تھیں۔ ابن عبدالبر اور ان سے پہلے ابن جریر رحمہما اللہ نے ذکر کیا ہے کہ تابعین عظام بنیادی طور پر مرسل روایات سے حجت لیا کرتے تھے، دوسری صدی ہجری کی ابتدا تک مرسل روایات کو رد کرنے کا چلن نہیں تھا لیکن جب امام شافعی رحمہ اللہ کا دور آیا تو انھوں نے مرسل روایات کو قبول کرنے کے لیے چند شرطیں عائد کیں:
*مرسل روایت کبار تابعین سے ہو۔
*مرسل روایت کا تعلق ان روایات سے ہو کہ جب غیر مذکور راوی کا نام ذکر کیا جائے تو وہ ثقہ ہو۔
*ارسال کرنے والا جب کسی حافظ حدیث کے ساتھ شریک ہو تو اس کی مخالفت نہ کرے۔
*مرسل روایت کا کوئی ایسا مسند شاہد ہو جو اس کو تقویت دے یا کوئی دوسری مرسل روایت ہو جس کے راوی پہلی مرسل روایت کے علاوہ ہوں۔
*عام اہل علم اس مرسل روایت کے مطابق فتوی دیتے ہوں یعنی اہل علم نے اسے قبول کیا ہو اور اسے قبولیت عام کا درجہ ملا ہوا ہو۔
اس قسم کی مرسل روایات کو امام شافعی رحمہ اللہ قبول کرتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے مرسل روایت کو ضعیف احادیث کی قسموں میں شمار کیا ہے جب کہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین مرسل روایت سے حجت لیتے ہیں۔

ائمہ جرح و تعدیل نے جن راویان حدیث پر خاموشی اختیار کی ہے
اہل علم نے جن راویان حدیث پر سکوت (خاموشی) اختیار کیا ہے اور ان کے سلسلے میں کسی جرح و تعدیل کا ذکر نہیں کیا، وہ مستورالحال کہے جاتے ہیں اور توثیق کے محتاج ہیں۔ جہاں تک سوال امام ابن حبان کا ایسے راویان حدیث کی توثیق کرنے کا ہے تو اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب وہ کسی راوی کو ثقہ کہتے ہیں اور اس کی روایت کردہ حدیث کسی صحیح حدیث کے خلاف نہیں ہوتی تو اس کی توثیق کے معاملے میں درمیانی راہ اپنائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ اعلی درجہ کی صحیح حدیث ہے اور نہ اسے ضعیف کہا جائے گا بلکہ اس کے معاملے میں درمیانی راستہ اپناتے ہوئے اسے حدیث حسن کہا جائے گا۔

سنن نسائی کی ایک معاصر شرح
سنن نسائی کی ایک شرح معاصرعالم دین شیخ محمد علی آدم اثیوبی نے چالیس جلدوں میں لکھی ہے۔ اس شرح کو مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔ حافظ ابن حجر کی کتاب ’’تہذیب التہذیب‘‘ کے حوالے سے راویان حدیث کے حالات انھوں نے بڑی تفصیل سے ذکر کیے ہیں۔ اسی طرح وہ شارحین سے شرح حدیث میں بھی کافی کچھ نقل کرتے ہیں لیکن کتاب میں جس خاص چیز پر توجہ دی جانی چاہیے تھی وہ ہے امام نسائی کی ذکر کردہ علل حدیث، اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے۔ بہر حال یہ ایک عمدہ شرح ہے، اس سے طلبہ کافی استفادہ کرسکتے ہیں لیکن جس حدیث کی شارح نے مناسب تشریح نہیں کی ہے، اس کے لیے دوسری شرحوں کی طرف مراجعت کے لیے کافی وقت درکار ہوگا اور یہ ایک محنت طلب کام بھی ہے۔

سنن نسائی کا امتیاز
ابوعبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ کی کتاب ’’سنن نسائی‘‘ بڑی عمدہ اور مفید کتاب ہے۔ اس کا امتیاز یہ ہے کہ امام نسائی تراجم ابواب کے ذریعے احادیث کی ان علل کا تذکرہ کرتے ہیں جو راویان حدیث کے اختلافات سے سامنے آتی ہیں۔ سنن نسائی کی اہمیت اسی میں پوشیدہ ہے لیکن اہل علم نے کتاب کے باقی حصوں کے مقابلے میں ان علل پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے سنن نسائی سے کہیں زیادہ سنن ابن ماجہ کو توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سنن نسائی میں موجود علل احادیث کی توضیح کی دشواریاں ہیں۔ اگر کوئی شارح ان پر گفتگو کرتا بھی ہے تو زیادہ اچھی بحث نہیں ہوپاتی لیکن اگر کوئی گفتگو نہ کرے تو بہت بڑا خلل واقع ہوتا ہے۔ ہاں بعض شارحین سنن نسائی نے مختصر طور پر ان علل کی وضاحت کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔
تہذیب سنن ابی داود میں علل حدیث کا خصوصی تذکرہ
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی کتاب ’’تہذیب سنن ابی داود‘‘ علل احادیث کے ذکر میں سب سے عمدہ کتاب ہے۔

سنن ابی داود کی جامعیت
امام ابوداود سجستانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’سنن ابی داود‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں اس کے جلیل القدر مولف نے احکام سے متعلق احادیث جمع کی ہیں۔ اس میں چار ہزار آٹھ سو احادیث ہیں جن کو مولف نے چھ لاکھ احادیث سے بڑی احتیاط کے ساتھ منتخب کیا ہے۔ سنن کا وصف بیان کرتے ہوئے امام ابوداود فرماتے ہیں: ’’إنہ ذکر فیہ الصحیح وما یشبہہ ویقاربہ، وما سکت عنہ فہو صالح‘‘ (مولف نے اس میں صحیح، صحیح کے مشابہ اور صحیح کے قریب احادیث جمع کی ہیں، جن احادیث پر اس نے خاموشی اختیار کی ہیں، وہ صالح ہیں)۔ امام موصوف کے استعمال کردہ لفظ ’’صالح‘‘ کے معنی کی تعیین میں اہل علم کا اختلاف مشہور ہے۔ کیا اس سے حجت کے لیے صالح ہونا مراد ہے یا اس سے عام یعنی استشہاد کے قابل ہونا مراد ہے۔ علوم حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔

صحیح مسلم کی شرحوں میں اختصار واجمال کی وجہ
عام طور پرصحیح مسلم کی شرحوں میں وہ طوالت اور تفصیل نہیں ملتی جو ہم صحیح بخاری کی شرحوں میں دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح مسلم میں ایک موضوع کی احادیث ایک ہی جگہ جمع ہیں، شارحین کو صحیح بخاری کی طرح کئی ایک مقامات پر ان کی شرح کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ایک موضوع کا متن متعین الفاظ کے ساتھ ایک ہی جگہ موجود ہے، شارح کو ان پر ایک ہی جگہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، دوسرے مقام پر ان کے اعادے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم کی شرحوں میں اجمال اور اختصار کی وجہ یہی ہے۔

صحیح مسلم کی شرحیں
صحیح مسلم کی ایک سلسلہ کی شرحیں یہ ہیں: اس کی پہلی کڑی امام مازری کی ’’المعلم ‘‘ ہے، یہ انتہائی مختصر شرح ہے جسے انھوں نے املا کرایا تھا۔ اس کے بعد قاضی عیاض کی ’’اکمال المعلم‘‘ ہے جس میں بہت سی مفید باتیں ہیں۔ اس کے بعد اُبی کی شرح ’’اکمال اکمال المعلم ‘‘ ہے، پھر سنوسی نے ’’مکمل اکمال الاکمال‘‘ لکھی۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ ان سب کو ایک ساتھ جمع کردیا جائے پھر بھی ’’فتح الباری‘‘ کی ضخامت کو نہیں پہنچیں گی۔
صحیح بخاری کا درست نسخہ تیار کرنے میں یونینی کا کردار
صحیح بخاری کا سب سے زیادہ درست اور صحیح نسخہ تیار کرنے میں یونینی کو نمایاں شہرت حاصل ہے۔ انھوں نے صحیح بخاری کو کئی بار ابن مالک کے سامنے پڑھا ہے، ان سے جو احادیث انھیں ملی ہیں، ان کو درست کرتے رہے ہیں اور عربیت کے خلاف عبارتوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ یونینی نے صحیح بخاری کی روایات کے درمیان فرق کو ایک نسخے میں جمع کیا ہے جس کو ’’الیونینیۃ الأصلیۃ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس نسخۂ اصلی کی ایک فرع بھی ہے جس کا بار بار تقابل کیا گیا ہے اور نتیجہ میں اسے ہر طرح سے مضبوط اور متقن پایا گیا ہے۔

صحیح بخاری کی شرحوں کے امتیازات اور ان کے درمیان موازنہ
حافظ ابن رجب کی کتاب ’’فتح الباری‘‘ طلبہ کے لیے صحیح بخاری کی تمام شرحوں میں سب سے زیادہ مفید اور عمدہ شرح ہے۔ البتہ یہ شرح نامکمل ہے، اگر مکمل ہوگئی ہوتی تو اس کا شمار عجائبات میں ہوتا۔ یہ شرح سلف کے مسلک کی ترجمان ہے، اس میں سلف صالحین کے اقوال پر اعتماد و انحصار کیا گیا ہے اور یہ شرح ہر اس علم سے پاک ہے جس نے باہر سے اسلامی تراث میں دراندازی کی ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری کی ایک دوسری شرح کرمانی رحمہ اللہ کی ’’الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری‘‘ ہے۔ یہ ایک بڑی لطیف اور نفیس شرح ہے۔ اس میں کئی طرح کے فوائد ہیں اور ایسے نوادرات ہیں جن کو پڑھنا ایک طالب علم پسند کرتا ہے لیکن اس میں کئی طرح کے اوہام بھی ہیں، پھر بھی اہل علم نے اسے نظر انداز نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک شارحین حدیث کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ وہ لکھتے ہیں: کرمانی نے فرمایا ہے۔ بعض شارحین ان کی باتیں ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بعض لوگ ان کے نام کی طرف انتساب کیے بغیر ان کی باتیں نقل کرلیتے ہیں۔ اس پہلو سے ان کو فضیلت حاصل ہے لیکن جب ان سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو لوگ ان کی تردید بڑے زور شور سے کرتے ہیں، اس وقت مشہور عربی تمثیل ’’شعیر مأکول مذموم‘‘ یاد آتی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح ’’فتح الباری‘‘ کے نام سے لکھی ہے اور اس میں زیادہ تر ان کا اعتماد کرمانی کی شرح بخاری پر رہا ہے۔ کرمانی کے تمام اوہام پر انھوں نے نقد کیا ہے۔ٖ حافظ ابن حجر کی یہ شرح بہت عظیم اور انتہائی مفید ہے، کوئی طالب علم اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ متن کتاب کی وضاحت انھوں نے بڑی محنت سے کی ہے اور وہ ساری تفصیلات فراہم کی ہیں، جن کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ انھوں نے راویان حدیث کے تراجم (حالات زندگی اور علمی مقام) پر بہت اچھی گفتگو کی ہے۔ احادیث کے درمیان ربط قائم کیا ہے، ترجمۃ الباب سے ان کا ربط اور مناسبت واضح کی ہے، احادیث کی شرح کی ہے، صحیح روایات ذکر کی ہیں اور دیگر تمام ضروری باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی ابوذر کی روایت پر اعتماد کیا ہے۔ ضرورت کے وقت اس کی دوسری روایات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ کوئی طالب علم ’’فتح الباری‘‘ سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ امام شوکانی سے جب صحیح بخاری کی شرح لکھنے کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے مشہور تاریخی جملہ ’’لا ہجرۃ بعد الفتح‘‘ کہا۔ اس جملے میں ’’الفتح‘‘ سے مراد ’’فتح الباری‘‘ ہے۔
صحیح بخاری کی شرحوں میں ایک شرح علامہ عینی کی ’’عمدۃ القاری‘‘ بھی ہے۔ یہ بڑی عمدہ، مفید اور جامع شرح ہے، اس کی ترتیب بڑی نرالی ہے، خاص طور سے کتاب کے اولین چوتھائی حصے کی، دوسری چوتھائی میں انھوں نے اختصار سے کام لیا ہے اور پھر شرح کا نصف آخر بہت مجمل ہے۔شارحین اور مفسرین کا عام طور پر یہی طریقہ ہے، ابتدا میں بڑے نشیط اور چست ہوتے ہیں، پھر سستی اور کسل مندی آجاتی ہے، اس کے برعکس حافظ ابن حجر کی شرح میں غضب کا توازن ہے، ابتدا سے آخر تک ان کی شرح احادیث ایک جیسی ہوتی ہے۔ انھوں نے صحیح بخاری کی پہلی حدیث ’’الأعمال بالنیات ‘‘ کی شرح جس انداز میں کی ہے، اسی انداز میں اس کی آخری حدیث: ’’کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان (البخاری:6406)‘‘ کی شرح کی ہے۔ ابن حجر کی شرح کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے۔ علامہ عینی نے اپنی شرح صحیح بخاری میں زیادہ تر اعتماد ابن حجر کی ’’فتح الباری‘‘ پر کیا ہے، ان سے بہت کچھ نقل کیا ہے اور تنقید بھی کی ہے۔
جہاں تک سوال قسطلانی کی شرح ’’ارشاد الساری‘‘ کا ہے تو یہ صحیح بخاری کی انتہائی مختصر شرح ہے، تہذیب و تنقیح کی بڑی خوبصورت مثال ہے، کلی طور پر علامہ عینی اور حافظ ابن حجر کی شرحوں سے ماخوذ ہے۔ کوئی طالب علم اس سے بھی بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں الفاظ حدیث کو بڑی باریکی سے ضبط کیا گیا ہے خواہ اس کا تعلق متون احادیث سے ہو، سندوں سے ہو یا ادا کے صیغوں سے، مشکل سے کوئی لفظ ان کی گرفت سے باہر نکل پاتا ہے۔

ماجہ کا صحیح تلفظ
مشہور یہ ہے کہ ماجہ، داسہ اور مندہ کی طرح ہائے ہوز کے ساتھ ہے اور آخری حرف پر ساکن ہے۔ لہذا اسے تاء کے ساتھ ’’ماجۃ‘‘ نہیں لکھا اور پڑھا جائے گا۔ اگرچہ بعض حضرات اسے تاء کے ساتھ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں کیوں کہ یہ لفظ جب عربوں کے یہاں متداول ہوا تو اس کی حیثیت ایک عربی اسم کی ہوگئی لیکن اصلاً یہ ہائے ہوز کے ساتھ ہی ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی کی طرف سے مسند احمد کا دفاع
شافعی المسلک ہونے کے باوجود جب حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’’القول المسدد فی الذب عن المسند‘‘ لکھ کر مسند احمد کا بھرپور دفاع کیا تو انھوں نے فرمایا: یہ نبوی عصبیت ہے، جب ہم اس جلیل القدر امام، محدث اور فقیہ کی کتاب سے اظہار عصبیت کرتے ہیں تو اسے امام احمد کی ذات سے عصبیت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ امام موصوف چوں کہ نصوص سے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان پر خاص توجہ دی جائے اور ان کے اقوال وافعال کا احاطہ کیا جائے۔

جامع ترمذی کی احادیث اور ان کے شواہد کی تخریج پر خاص توجہ
مولانا محمد عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ کی سنن ترمذی کی مشہور شرح ’’تحفۃ الأحوذی‘‘ میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ زیر ترجمۃ الباب حدیث پر امام ترمذی کے حکم کے بعد مشہور مصادر سے اس کی تخریج کی جائے۔ چنانچہ جب امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے تو شارح فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تخریج فلاں فلاں نے کی ہے۔ عام طور پر شارح احادیث کی تخریج اسی مقام پر کرتے ہیں۔شارح موصوف حدیث کے شواہد کی تخریج پر بھی مکمل توجہ دیتے ہیں۔ جب امام ترمذی یہ کہتے ہیں کہ اس باب میں فلاں فلاں سے بھی احادیث منقول ہیں تو شارح ان کی تفصیل سے تخریج کرتے ہیں اور ان کے مصادر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ بہت اہم اور مفید کوشش ہے اور کتاب کی دیگر بہت سی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے۔ ان شواہد کی تخریج حافظ عراقی نے اپنی کتاب ’’اللباب فیما قال عنہ الترمذی: وفی الباب‘‘ میں کی ہے۔ اسی طرح ان شواہد کی تخریج پر حافظ ابن حجر عسقلانی کی بھی ایک کتاب ہے۔ ایک معاصر عالم نے ’’کشف النقاب‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کی پانچ جلدیں شائع ہوچکی ہیں، مجموعی اعتبار سے یہ کتاب بہت اچھی ہے۔ علامہ مبارک پوری بعض شواہد کی تخریج نہیں کرسکے ہیں اور ایسے مواقع پر وہ کہتے ہیں کہ ’’رہی فلاں کی حدیث تو دیکھنا چاہیے کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے‘‘، یہ کتاب میں کوئی عیب نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی نقص لازم آتا ہے۔ [ایک پاکستانی اہل حدیث عالم نے ’’تحفۃ الأحوذی‘‘ میں موجود اس خلا کو حواشی کے ذریعے پُر کیا ہے لیکن ابھی تک اس ایڈیشن کی زیارت سے محروم ہوں، دیکھنے کے بعد ہی کہا جاسکتا ہے کہ کتنے فیصد حصے میں انھیں کامیابی ملی ہے]۔

جامع ترمذی میں مکرر احادیث کم ہونے کی وجہ
یہ بات معلوم و معروف ہے کہ کتب ستہ میں جامع ترمذی ہی وہ واحد کتاب ہے جس میں مکرر احادیث بہت کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ترجمۃ الباب میں جس حدیث کو چاہتے ہیں، ذکر کرتے ہیں اور پھر شواہد کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کردیتے ہیں کہ اس باب میں فلاں فلاں سے بھی احادیث مروی ہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں شاذ و نادر ہی مکرر احادیث ملتی ہیں۔

علم حدیث کے موضوع کی تعیین میں علامہ عینی کا امام کرمانی کی تقلید کرنا
علم حدیث اور اس کی اساسیات کے موضوع کی تعیین علامہ عینی نے امام کرمانی کی شرح بخاری سے کی ہے۔ اسی لیے جو غلطی امام کرمانی نے کی تھی، اسی کے مرتکب خود علامہ عینی ہوگئے ہیں۔ علامہ عینی لکھتے ہیں: علم حدیث کا موضوع رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ٹھیک یہی تعبیر ان سے پہلے امام کرمانی نے اختیار کی تھی، بعد میں اسی کی پیروی علامہ عینی نے کی۔ اسی لیے امام سیوطی تدریب الراوی کے مقدمے میں لکھتے ہیں: ہمارے استاذ محی الدین کا فیجی بار بار امام کرمانی کے اس قول پر اظہار تعجب کیا کرتے تھے کہ علم حدیث کا موضوع رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ کی ذات گرامی تو علم طب کا موضوع ہے، نہ کہ علم حدیث کا۔ بہر حال مقصد یہ بتانا ہے کہ تقلید بسااوقات بعض حضرات سے اس قسم کی غلطیاں کرادیتی ہے۔

واللہ المستعان

(سلسلہ جاری ہے)
 
Top