ذیشان خان

Administrator
مدارس اسلامیہ میں قرآن مجید کی تدریس کے طرق واسالیب

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم
ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت صبح وشام کرے، قرآن کو پڑھنے میں اسے کوئی دشواری نہ ہو، محبت وعقیدت سے تلاوت کرے، اس کے معنی ومطالب پر غور کرے اور اپنی روز وشب کی زندگی اس کی تعلیمات کے سایے میں گزارے۔ مکاتب ومدارس اسلامیہ کا ملت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ ان میں طلبہ وطالبات کے لیے ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم کا مناسب اور بہتر انتظام ہے۔ بلکہ ابتدائی مرحلے میں نورانی قاعدہ یا یسرنا القرآن کے بعد قرآن کی ناظرہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور نونہالان ملت ڈیڑھ دو سالوں میں ناظرہ قرآن کی تکمیل کرلیتے ہیں۔
ناظرہ قرآن کی تعلیم کا انتظام ہمارے بعض گھروں میں بھی پایا جاتا ہے جن میں بعض محترم،معزز اور تعلیم یافتہ خواتین اپنے محلے کے بچے بچیوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں اور الحمد للہ یہ خدمت وہ مفت انجام دیتی ہیں، اس کا کوئی معاوضہ سرپرستوں سے طلب نہیں کرتیں البتہ بعض ضرورت مند خواتین ٹوکن کے طور پر تھوڑا بہت نذرانہ قبول کرلیتی ہیں، جو شرعی لحاظ سے درست بھی ہے اور مسلم معاشرے کو ایسی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ یہ خدمت انجام دیتی رہیں اور یہ بابرکت سلسلہ جاری رہے۔
بعض عصری تعلیمی اداروں میں بھی قرآن کریم کی ناظرہ تعلیم کا انتظام ہے اور یہ وہ ادارے ہیں جو مسلمانوں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ یوں تو پورے ملک میں خاص طور پر جنوبی ہند میں پرائیویٹ عصری تعلیمی اداروں کی بہتات ہے لیکن بہت کم ادارے ایسے ہیں جہاں کی انتظامیہ اس کی طرف توجہ دیتی ہو جب کہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی اکثریت مسلم طلبہ وطالبات پر مشتمل ہے اور قرآن کی ناظرہ تعلیم دینے میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
بعض صاحب توفیق حضرات نے مختلف شہروں،محلوں،قصبات اور گاؤں دیہات میں تعلیم بالغان کا بھی انتظام کررکھا ہے جس میں ترجیحی طور پر ایسے افراد کو قرآن کی ناظرہ تعلیم دی جاتی ہے جنھوں نے کسی وجہ سے بچپن میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بہت سے خوش نصیب لوگ اپنی ذاتی دلچسپی سے بچوں کو اپنے گھر بلاکر یا ان کے گھروں میں جاکر بطور ٹیوشن یا بلا معاوضہ ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کے ذریعے بہت سے بچے قرآن مجید کی ناظرہ تلاوت کرنے کی اہلیت اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں۔
اس تفصیلی جائزے سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ مسلمان الحمد للہ کتاب الٰہی سے غافل نہیں ہے اور وہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارے بچے قرآن کی ناظرہ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ اس بابرکت سلسلے کو مزید وسیع کرنے اور اس میں چند ایک باتوں کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
(۱) مسلم آبادی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ دور دراز کے دیہات میں بھی ہے اور شہروں کے غریب اور پس ماندہ محلوں میں بھی۔ اسی طرح مسلمان بعض بڑی اچھی کالونیوں میں بھی رہتے ہیں اور کئی کئی منزلہ پر مشتمل فلیٹوں میں بھی۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دور دراز کے دیہی علاقوں میں سہولیات کا فقدان ہے، وہاں نہ مدرسے ہیں اور نہ مکاتب اسلامیہ، اسی طرح ان کی آبادی ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے جنھیں اپنے دین کا واجبی شعور بھی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض جدید تعلیم یافتہ حضرات جو جدید سہولتوں سے آراستہ مہنگے اور صاف ستھرے علاقوں میں رہتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم تو بڑی محنت سے دلاتے ہیں لیکن دین کی طرف سے ان کے یہاں کسی قدر غفلت پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی اولاد قرآن کی ناظرہ تعلیم سے محروم ہے۔ ہماری دینی تنظیموں کو چاہیے کہ اس طرف بطور خاص توجہ دیں، ایسے دور دراز دیہی علاقوں اورجدید سہولتوں سے آراستہ کالونیوں کا سروے کرائیں اور جہاں جہاں امکان ہو قرآن کی ناظرہ تعلیم کا بندوبست کریں۔مسلمان خواہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، اس سے یہ امید ضرور کی جاتی ہے کہ جب اسے اس اہم کام کی طرف متوجہ کیا جائے گا تو وہ ضرور بیدار ہوگا اور اپنے بچوں کو قرآن کی ناظرہ تعلیم کے لیے فارغ کرے گا۔گزشتہ دنوں میری بعض ایسے نوجوان دوستوں سے ملاقات ہوئی جو اس طرح کی کالونیوں میں قرآن سیکھنے اور سکھانے کا نظم چلا رہے ہیں۔ ان کی مشکلات اور عملی دشواریاں بھی سامنے آئیں۔ وہ ان مقامات پر مساجد تعمیر کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور پھر ان مساجد میں قرآن اور دینیات کی تعلیم دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اللہ ان کی کوششوں کو بارآور اور بابرکت بنائے۔ میں نے ان کو مشورہ یہ دیا کہ مساجد تعمیر کرنے کا خیال بہت اچھا ہے لیکن شاید اس طرح کے علاقوں میں زمین کی فراہمی آسان نہیں ہے لہذا کالونی کے کسی ایک فلیٹ میں اس کا نظم کرنا نسبتاً آسان ہے۔ صرف ایک ذمہ دار استاذ کی تقرری اور اس کے مصارف کے انتظام کا مسئلہ ہے جسے چند ایک حساس لوگ حل کرسکتے ہیں اور کسی پروپیگنڈے کے بغیر خاموشی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی جاسکتی ہے۔
(۲) عصری تعلیم گاہوں کا اپنا نصاب اور اپنا نظم ہے۔ وہ قرآن اور دینیات کے اضافی مضامین کو اپنے نصاب کا حصہ نہیں بناسکتیں۔ممکن ہے جہاں طلبہ کی اکثریت مسلمان ہو اور سرپرست بھی اس کے خواہش مند ہوں تو انتظامیہ ان مضامین کو شامل نصاب کرلے لیکن ایسے اداروں کی تعداد ملک میں نسبتاً بہت کم ہے۔ ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ اولین ذمہ داری تو ان کے سرپرستوں کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس نعمت عظمی سے محروم نہ رکھیں اور ہماری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی مختلف یونٹیں اپنے اپنے علاقوں پر نظر رکھیں اور جہاں ناظرہ قرآن کی تعلیم کا انتظام نہ ہو، اس کا انتظام کریں۔ دینی تنظیمیں سیاسیات میں الجھنے کی بجائے اگر مسلم معاشرے کی ان بنیادی ضروریات پر توجہ دیں تو ان کا یہ ایک بڑا احسان ہوگا۔
(۳) قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔عربی حروف تہجی کی ادائیگی کے اپنے اصول وضوابط ہیں۔ جسے ہم آسان زبان میں تجوید کہتے ہیں۔ اس کی رعایت بہت ضروری ہے۔ ہمارے جو بچے ابتدائی تعلیم میں یہ اصول وضابطے نہیں سیکھ پاتے، وہ زندگی بھر تلاوت قرآن کی لذت وحلاوت سے محروم رہتے ہیں، بسااوقات بعض حروف کی غلط ادائیگی سے قرآن کے مفہوم میں فرق آتا ہے۔تجوید کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہی افراد ناظرہ قرآن کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کریں جو تجوید سے واقف ہوں اور بچوں کی اچھی مشق کراسکتے ہوں۔ مکاتب اسلامیہ کے وہ محترم اساتذہ کرام جو اس خدمت پر مامور ہیں، اگر خدانخواستہ ان کو تجوید نہیں آتی تو وہ دوسرے مضامین کی تدریس فرمائیں، ناظرہ قرآن پڑھانے کی خدمت کسی مجود کے سپرد کردیں۔ اسی طرح ہمارے گھروں میں جو بزرگ خواتین یہ خدمت محض اللہ کی رضا کے لیے انجام دیتی ہیں، وہ خود تجوید سیکھیں اور اس کے بعد یہ خدمت انجام دیں۔ ابتدائی عمر میں اگر حروف کو ان کے صحیح مخارج سے ادا کرنے کی مشق وتربیت نہیں ہوئی تو بعد میں اس کی اصلاح ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے تجوید وتلاوت قرآن کے مسئلے کو بھی اپنے دائرے میں لے لیا ہے، اس سے بھی استفادہ کیا جانا چاہیے۔
حفظ قرآن اور تجوید و قراءت
یہ کلام اللہ کا اعجاز ہے کہ اس کی ایک سو چودہ سورتیں آٹھ سے دس سالہ نوعمر بچے کے سینے میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور وہ ان کو اپنے حافظے سے جب چاہے جہاں سے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ دنیا میں یہ امتیاز وشرف صرف قرآن مجید کو حاصل ہے۔ کسی اورآسمانی کتاب یا دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں کے حافظ آج دنیا میں نہیں ملتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف عربی زبان سمجھنے والے بچے ہی نہیں، وہ بچے بھی اس کے حافظ بن جاتے ہیں جو عربی زبان کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ امت میں حفظ قرآن کی روایت کا ایک تسلسل ہے جو بحمد اللہ آج بھی دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور ان شاء اللہ تاصبح قیامت جاری رہے گا۔ احادیث میں حفظ قرآن کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اور یہ اسی کا فیضان ہے کہ آج ملت پوری ذمہ داری سے اس کا اہتمام کررہی ہے۔
وطن عزیز میں حفظ قرآن کے انتظامات تین سطح پر کیے گئے ہیں: ملک کے مختلف حصوں میں حفظ قرآن مجید کے ادارے قائم ہیں جہاں بالعموم ہاسٹل میں رہ کر بچے قرآن مجید حفظ کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک ان کی مصروفیت ہوتی ہے اور حفط قرآن کے علاوہ کوئی دوسرا مضمون انھیں پڑھایا نہیں جاتا۔ بعض ادارے حفظ کے بعد جب دور کا سلسلہ شروع کراتے ہیں تو بعض مضامین اس لیے پڑھادیتے ہیں تاکہ عربی کی ابتدائی کلاس میں جسے عام طور پر اعدادیہ یا ادنی سے تعبیر کیا جاتا ہے، یہ داخلہ پانے کے مستحق بن سکیں۔
بعض دینی مدارس اور جامعات نے اپنے وسیع انتظام میں حفظ قرآن کا شعبہ قائم کر رکھا ہے جہاں طلبہ قرآن حفظ کرتے ہیں۔ یہاں بھی مذکورہ بالا صورت نظر آتی ہے۔ کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ہے۔ البتہ ان میں کوشش کی جاتی ہے کہ شعبۂ حفظ کے طلبہ کو الگ دارالاقامہ میں رکھا جائے تاکہ ان کے معمولات میں کوئی فرق نہ آئے اور وہ مقررہ نظام الاوقات کے مطابق حفظ قرآن میں مصروف رہیں۔ حفظ قرآن کے لیے طلبہ کو سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور ان کے اساتذہ بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔
ہمارے یہاں بعض مساجد میں بھی حفظ قرآن کا انتظام ہے اور بعض حفاظ اساتذہ کرام اپنی ذاتی دلچسپی سے مسلم طلبہ وطالبات کو حفظ قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے تمام اداروں کا انتظام دین دار اور مخیر حضرات اپنی ذاتی دلچسپی سے چلاتے ہیں اور اسے بجاطور پر کار خیر سمجھتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ نے دہلی میں ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے تحت شعبہ حفظ معہد عثمان بن عفان قائم کیا اور اس کا نظم وانتظام اتنا اچھا بنایا کہ دیکھتے دیکھتے پورے ملک میں اس کے حفاظ پھیل گئے۔ یہاں کے حفاظ کا خاص انداز اور لب ولہجہ ہے جو دلوں کو موہ لیتا ہے اور جب یہ قرآن کی قراءت نماز میں یا نماز سے باہر کرتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ جماعت اہل حدیث میں آج قراء اور حفاظ کی خاصی بڑی تعداد جو نظر آتی ہے، وہ مولانا رحمانی کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو شرف قبول بخشے اور ان کے حق میں اسے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے خلف الرشید عزیز گرامی شیخ محمد رحمانی کو توفیق بخشے کہ وہ شعبۂ حفظ کو اپنے والد گرامی کے ترتیب دادہ نظم وانتظام کے ساتھ چلاتے رہیں اور کلام پاک کی یہ خدمت سدا بہار بنی رہے۔
حفظ قرآن کی مذکورہ بالا تمام صورتوں میں تجوید وقراءت کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے اور بہت سے طلبہ حفظ وقراءت کے عالمی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں اور انعامات سے سرفراز ہوتے ہیں۔
حفظ قرآن کے سلسلے میں ایک کمی جو دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ ہے بعض حفاظ کا مزید دینی تعلیم سے بے بہرہ ہونا۔ بعض ادارے صرف حفظ کراکر بچوں کو فارغ کردیتے ہیں اور بچوں اور ان کے سرپرستوں کو اس کا شعور نہیں ہوتا کہ جس قرآن کو سینے میں محفوظ کیا گیا ہے، اس کے معانی ومفاہیم سے واقفیت بھی ضروری ہے۔عربی زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے حفاظ کو کتاب الٰہی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا بس وہ اسے ثواب یا ایصال ثواب کی ایک چیز سمجھ کر زندگی بھر پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ علوم شرعیہ سے ناواقف حفاظ بڑی تعداد میں ہماری مساجد میں امامت بھی فرماتے ہیں، سماج انھیں عالم دین سمجھ کر ان پر اعتماد کرتا ہے جب کہ دینی علوم کی تحصیل انھوں نے نہیں کی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی اصلاح اور ان کی دینی تربیت کا معاملہ کافی کمزور ہوتا جارہا ہے، اپنی عزت بنائے رکھنے اور روزی روٹی کا مسئلہ مضبوط رکھنے کی وجہ سے بعض جاہل حفاظ فتنہ وفساد کا سبب بھی بنتے ہیں۔ امامت کا منصب چوں کہ انھیں ملا ہوتا ہے، اس لیے مقتدیوں میں شامل کسی عالم کی بات بھی وہ قبول نہیں کرتے بلکہ بسااوقات عوام کو اس عالم دین کے مقابل لاکھڑا کرتے ہیں۔

صورت حال کی اس سنگینی کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جو حفاظ درس نظامی کی تکمیل کے لیے اپنا وقت فارغ نہ کرسکتے ہوں، ان کے لیے سال دوسال کا ایسا کوئی مختصر کورس تیار کیا جائے جس کے ذریعے انھیں اساسیات دین اور فقہی مسائل سے واقف کرایا جاسکے، اس کے بغیر انھیں حفظ قرآن کی سند نہ دی جائے۔
حفاظ کرام سے یہ امید کی جاتی ہے کہ اگر انھیں درس نظامی کی تکمیل کا موقع مل گیا ہے تو وہ بطور خاص قرآن اور اس کی تفسیر میں امتیازی شان رکھتے ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ بھی عام علماء کی طرح ہی ہوتے ہیں، اگر کہا جائے کہ نماز سے متعلق قرآن مجید کی دس آیات کی مختلف مقامات سے نشان دہی کردیں تو انھیں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ احکام کی آیات وہ الگ سے پڑھ نہیں سکتے۔ کاش ہم اپنے درس نظامی میں حفاظ علمائے کرام کی اضافی تربیت کا کوئی انتظام کرپاتے تو یہ ان کے حق میں بھی بہتر ہوتا اور خود یہ حضرات بھی اپنی تقریر وتحریر میں اعتماد کے ساتھ قرآنی آیات کا حوالہ دینے میں کامیاب ہوتے۔
حفاظ قرآن کا حفظ باقی رہے اور انھیں سہو لاحق نہ ہو، اس کے لیے ملت میں نماز تراویح کا سلسلہ ہے۔ یہ نفلی نماز انفرادی اور اجتماعی ہر دو طریق پر ادا کی جاسکتی ہے۔ جماعت میں شرکت لازمی نہیں ہے بلکہ جس شخص کو عشاء کی نماز کے بعد سحری سے پہلے پہلے جو وقت مناسب لگے اس میں پڑھ سکتا ہے۔ فقہ کے بعض مکاتب فکر نے با جماعت تراویح کی نماز کو سنت موکدہ قرار دے کر ملت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ آج حال یہ ہے کہ نماز عشاء سے زیادہ نماز تراویح کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ تراویح کے لیے ایک مسجد کا التزام اور سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ الناس تک کی سماعت ایک ہی حافظ کے پیچھے ضروری سمجھ لیا گیا ہے جب کہ ایسی کوئی پابندی شریعت میں نہیں ہے۔ حفاظ کرام کا حفظ مضبوط رہے، اس کے لیے محراب سنانا مستحسن سمجھا گیا ہے، لہذا ہمیں اس کا اسی نقطۂ نظر سے اہتمام کرنا چاہیے اور اگر اللہ توفیق دے تو حالت نماز میں مکمل قرآن سننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن کی تلاوت یا سماعت جو حالت نماز میں ہوتی ہے، وہ زیادہ باعث ثواب ہے بہ نسبت اس تلاوت یا سماعت کے جو نماز سے باہر کی جاتی ہے۔حفظ قرآن کی روایت کو مضبوط بنائے رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
نماز تراویح میں ہونے والی قراءت کے بھی وہی احکام ومسائل ہیں جو عام قراءت وتلاوت کے ہیں،ترتیل کا التزام ہونا چاہیے،سکون کے ساتھ تلاوت ہونی چاہیے اور سوز وگداز کی وہ کیفیت ہونی چاہیے جو قرآنی آیات میں مضمر ہیں۔ جاہل عوام کے مطالبے پر ہمارے حفاظ کی سرپٹ تلاوت اور بغیر سانس لیے مکمل سورہ فاتحہ کا پڑھ جانا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ قرآن کو ترتیل سے پڑھنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور کم وقت میں تراویح سے فارغ ہوجائیں، یہ بندوں کی طبع زاد چیز ہے ۔ظاہر ہے حکم الٰہی کو بندوں کی خواہش کی وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسے عجلت پسند حضرات کی ذہنی تربیت بھی حفاظ کرام کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ تمام آداب کا خیال رکھتے ہوئے قرآن کی قراءت وتلاوت کرسکیں۔قرآن کی تلاوت پر معاوضہ لینے سے اسی لیے روکا گیا ہے کہ اس کمزوری کے در آنے کی وجہ سے حفاظ کرام مشاہرہ یا معاوضہ دینے والوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن جاتے ہیں۔ حفاظ کرام کی خدمت اور ان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل مسلم سماج کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں جو افراط وتفریط مسلم سماج میں دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ ایک بڑی آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ ملت کو اس سے محفوظ رکھے۔
تفہیم معانی و تفسیر کتاب اللہ
جہاں تک سوال قرآن کے ترجمہ اور اس کی تفسیر کاہے تواس کا سلسلہ ہمارے دینی مدارس میں عام طور پر عربی سوم (جماعت ثالثہ)میں شروع ہوتا ہے۔ پہلے سال پارۂ عم اور انتیسویں سیپارے کا ترجمہ کرایا جاتا ہے۔ دونوں سورتوں میں مشکل الفاظ بہت ہیں، آیات چھوٹی چھوٹی ہیں، اسی لیے الفاظ کی تشریح تفصیل سے کرائی جاتی ہے۔ آیات کا ترجمہ لفظی بھی کرایا جاتا ہے اور بامحاورہ بھی۔ لفظی ترجمے کا فائدہ یہ ہے کہ الفاظ قرآنی پر طلبہ کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور وہ آیات میں الفاظ قرآنی کی ترتیب کو عربی قواعد کی روشنی میں سمجھ لیتے ہیں۔ چوں کہ طلبہ کی عمر اس وقت کم ہوتی ہے اور وہ احکام قرآنی کو گرفت میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، شایداسی لیے نصاب میں کسی ایسے سیپارے کا انتخاب نہیں کیا گیا جس کی سورتوں میں احکام وقوانین سے متعلق آیات زیادہ ہوں۔ ورنہ ان دونوں سیپاروں کے مقابلے میں قرآن کے بعض دوسرے اجزاء میں مشکل الفاظ نسبتاً کم ہیں۔ ترجمے ومختصر تفسیر کا یہ سلسلہ بعد کی بعض جماعتوں تک بھی جاری رہتا ہے اور کم وبیش آخر کے پندرہ پاروں کو اسی طرح پڑھایا جاتا ہے۔ جوں جوں طلبہ کی صلاحیت بڑھتی جاتی ہے، استاذ ترجمے کے ساتھ تفسیر کا بھی سلسلہ دراز کرتا جاتا ہے ۔ اس تفسیر میں وہ شان نزول اور آیات سے مستنبط احکام پر بطور خاص توجہ دیتا ہے۔
عالمیت اور فضیلت کے سالوں میں کتب تفاسیر کی تدریس کا آغاز ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں بالعموم تفسیر جلالین،تفسیر ابن کثیر،تفسیر فتح القدیر،تفسیر نسفی،تفسیر بیضاوی اور تفسیر کشاف کے بعض حصے داخل نصاب ہیں۔ ان کتابوں کی تدریس میں زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ مفسر نے آیات قرآنی کی کیا تفسیر کی ہے۔ استاذ بڑی محنت سے مفسر کی عبارت سمجھاتا ہے اور اس کے اخذ کردہ معانی ومفاہیم کی وضاحت کرتا ہے۔ اگر کہیں مفسر سے کوئی سہو ہوا ہے تو اس کی بھی نشان دہی کی جاتی ہے۔ شمالی ہند کے دو بڑے ادارے مدرسۃ الاصلاح سرائے میراور جامعۃ الفلاح بلریا گنج کے نصاب تعلیم میں کوئی متعین تفسیر داخل نصاب نہیں ہے بلکہ طلبہ اور اساتذہ کو مکلف کیا جاتا ہے کہ وہ از خود کتب تفاسیر دیکھ کرآئیں اور متن قرآن کے سہارے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اصول تفسیر میں مقدمہ فی اصول التفسیر از امام ابن تیمیہ، الفوز الکبیر از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، الاتقان از سیوطی، مناہل العرفان از زرقانی، التفسیر والمفسرون از محمد حسین ذہبی وغیرہ کتابیں بھی داخل نصاب کی گئی ہیں تاکہ طلبہ اصول تفسیر، علوم قرآن اور مفسرین کے منہج تفسیر سے واقف ہوسکیں۔ مولانا حمید الدین فراہی کے بعض رسائل بھی مدرسۃ الاصلاح اور جامعۃ الفلاح میں پڑھائے جاتے ہیں جن کا تعلق تفسیر وتاویل کے ان اصولوں سے ہے جو مولانا فراہی نے اپنی فکر وبصیرت سے متعین کیے ہیں۔ ملت کے دوسرے مکاتب فکر کو چوں کہ مولانا فراہی کے بعض مخصوص نظریات وافکار سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے انھوں نے ان کی تصنیف کردہ کتابیں اپنے یہاں داخل نصاب نہیں کی ہیں۔
کیا تفسیر کا یہ نصاب نظر ثانی کا محتاج ہے؟
برسوں سے تفسیر قرآن کا یہی نصاب ہمارے دینی مدارس میں مروج ہے۔ اس کے ثمرات ونتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ضرورت اور خواہش کے باوجود قرآن مجید پرہمارے طلبہ کی گرفت مضبوط نہیں ہوپارہی ہے۔جس انتاجی صلاحیت کی امت کو احتیاج ہے، وہ صلاحیت طلبہ اپنے اندر پیدا نہیں کرپاتے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اور کمزوری نصاب میں ہے یا نصاب تعلیم میں؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔منتہی طلبہ کو ہمارے مدارس بعض تفسیروں کی تعلیم دیتے ہیں اور یہ تعلیم نصاب میں متعین کتب تفاسیر کے ترجمے اور تشریح تک محدود ہوتی ہے۔متن قرآن پر از خود غور وفکر کرنے کی ترغیب انھیں نہیں دی جاتی اور نہ استاذ اس کی طرف رہنمائی کرپاتا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ سال بھر میں نصاب کی تکمیل کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر وہ کتاب سے ہٹ کر طلبہ کے سامنے تقریر کرے گا تو ظاہر ہے کہ متعینہ کتاب مکمل نہیں ہوپائے گی اور اسے اپنی انتظامیہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اسلامی تراث کے تفسیری ادب سے رشتہ استوار رکھنا بھی ضروری ہے، اس سے بے نیاز نہیں ہوا جاسکتا اور نہ عصری تقاضوں سے پہلو تہی کی جاسکتی ہے۔ قرآن کو ایک زندہ کتاب کی حیثیت سے ہمیں انسانیت کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ وہ کتاب الٰہی کو اپنے لیے بہترین رہنما کی حیثیت سے دیکھ سکے اور مفسرین کے فکری انتاج سے بھی ہمیں آگاہ رہنا ہے تاکہ کتاب الٰہی کو اپنی خواہشات کے تابع بنانے والے منحرفین اور فکری آوارگی کے شکار لوگوں کی پہچان بھی کی جاتی رہے۔ جامعۃ الفلاح اور مدرسۃ الاصلاح میں جو تجربہ کیا گیا اور جہاں متعین کتب تفاسیر کی تدریس کی بجائے متن قرآن کی تدریس کی جاتی ہے اور اساتذہ وطلبہ کو مکلف کیا جاتا ہے کہ وہ کتب تفاسیر پہلے سے دیکھ کر کلاس میں حاضر ہوں، اس کے فائدے اور نقصانات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان دونوں اداروں میں تفسیر قرآن میں احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے بے اعتنائی یا ان کو ثانوی درجے میں رکھنا ایک تکلیف دہ صورت حال ہے۔ ہمیں لغت عربی، جاہلی ادب اور قدیم آسمانی کتابوں پر جتنا بھروسہ ہے اور ہم اپنی فہم کے ذریعے تفسیر قرآن میں ان مصادر سے جتنی مدد لیتے ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ حدیث وآثار کو تفسیر کے اولین مصادر میں شامل نہیں کرتے۔ ان اداروں کے ذمہ داران کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
میری اپنی رائے یہ ہے کہ اسلامی تراث کے تفسیری ادب سے بے نیازی خسارے کا سودا ہے۔ جن کتب تفاسیر کو شامل نصاب کیا گیا ہے، ان کی تدریس سے یہ بآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کلام الٰہی کی تفہیم وتفسیر کیسے کی جاتی ہے۔ ان کتابوں کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے سے یہ صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے محض اپنے طور پر کسی خاص مقام کو دیکھ لینے سے متقدمین کے انداز تفسیر کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ اسلامی تراث سے بے نیازی بسااوقات ہمیں مذموم تفسیر بالرائے کی طرف لے جاتی ہے اور طلبہ میں فکری انحرافات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ متن قرآن پر غور وفکر نہ کرنے اور صرف مفسرین کی کتابوں تک محدود رہنے کی وجہ سے جو کمزوری پیدا ہوتی ہے، وہ بھی ہمارے سامنے ہے لہذا درمیانی راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ تفسیر کے دو پیریڈ رکھے جائیں، ایک میں نصاب میں شامل کسی تفسیر کی تدریس ہو اور دوسرے میں متن قرآن سے براہ راست استفادہ وافادہ کا طریقہ اپنایا جائے۔ ویسے بھی کتاب الٰہی کے لیے صرف ایک پیریڈ خاص کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ ہم کتب حدیث،کتب فقہ اور عربی گرامر کے لیے ہر جماعت میں ایک سے زیادہ پیریڈ رکھتے ہیں تو کتاب الٰہی کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟
تفسیر کے نصاب اور اس کے طریقۂ تدریس پر نظر ثانی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ آج قرآن کے تعلق سے جو مسائل ہمارے سامنے ہیں اور مغربی اسکالرس اور ان کے زیر اثر بعض مشرقی دانشور جس قسم کی باتیں کرتے ہیں، کیا ہمارے فارغین ان کا علمی اور مثبت جواب دینے کی قدرت رکھتے ہیں؟ مناظرہ بازی کی ذہنیت سے اوپر اٹھ کر سنجیدگی سے علمی دلائل کی روشنی میں گفتگو کرنا آج کی ضرورت ہے اور اسی اسلوب میں گفتگو علمی حلقوں میں پسند کی جاتی ہے۔ قرآن کے الہامی ہونے پر جو سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے، اس کا جواب یہ دے کر ہم دنیا کو مطمئن نہیں کرسکتے کہ یہ ہمارے ایمان وعقیدے کا حصہ ہے، اس لیے ہم اس پر یقین رکھتے ہیں اور دنیا کو بھی ہمارے یقین پر ایمان لے آنا چاہیے۔ بلکہ الہامی ہونے کو علمی انداز میں ہمیں دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا اور ایسا کیا بھی جارہا ہے، خود مغرب کے بہت سے اہل علم قرآن مجید میں موجود سائنسی حقائق کو دیکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ قرآن جس صدی میں زمین پر آیا، اس صدی تک سائنس ان حقائق تک نہیں پہنچی تھی اور نہ اسے ان کا ادراک تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایسے انصاف پسند مغربی مصنفین کی آواز محدود ہے یا اسے دبا کر رکھا جاتا ہے۔ سائنسی حقائق کے تعلق سے جو باتیں قدمائے مفسرین کے یہاں موجود ہیں، وہ صرف ان کے علم وتحقیق کا حاصل ہیں، پوری ذمہ داری اور امانت داری سے انھوں نے سائنسی حقائق سے متعلق آیات قرآنی کی تفسیر کی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں لیکن ان کے اخذ کردہ مفاہیم کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کی نمایاں مثال لفظ ’’نطفہ‘‘ ہے۔ کئی ایک مفسرین نے اس کی تفسیر’’ ماء الرجل‘‘سے کی ہے لیکن جس نطفے سے علقہ بنتا ہے، وہ ’’ماء الرجل اور ماء المرأۃ‘‘ دونوں کا امتزاج ہے جسے سورہ دہر میں ’’نطفہ امشاج ‘‘کہا گیا ہے۔تجربہ اور مشاہدہ نے یہ حقیقت واضح کردی ہے، اس لیے نطفے کی تشریح ’’ماء الرجل‘‘سے کرنا درست نہیں ہوگا۔ قرآن سات زمین، سات آسمان اور ان میں اللہ کی مخلوق کی موجودگی کا تذکرہ کرتا ہے۔ ابھی تک سائنس اس کی دریافت نہیں کرسکی ہے لہذا اس نوع کی آیات کی تفسیر کو مستقبل کے لیے چھوڑ دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ اگر ماضی میں ہمارے محترم مفسرین نے اس قسم کی آیات کی کوئی تفسیر کی ہے تو وہ ان کے علم وتحقیق کا نتیجہ ہے، قرآن کی حتمی تفسیر نہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن بار بار تفکر وتدبر کی دعوت دے رہا ہے اور اس کی یہ دعوت زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ ہر دور کے انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ خالق کائنات کے کلام کو سمجھے، اس پر غور وفکر کرے اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے تاکہ آخرت میں اس کا انجام بہتر ہو۔ اس صورت حال میں کیا یہ مناسب ہوگا کہ ہم مفسرین کے سرخیل امام ابن جریر طبری، حافظ ابن کثیر، امام سیوطی اور دوسرے ان مفسرین کے فہم وبصیرت کے دائرے میں خود کو بند کرلیں، جنھوں نے اپنی کتب تفاسیر میں احادیث نبویہ اور آثار صحابہ وتابعین کا بہ کثرت تذکرہ کیا ہے۔ اسلامی تراث سے فائدہ اٹھانا ہماری دینی وعلمی ضرورت ہے لیکن اس میں خود کو محدود کرلینا ہمارے عصری چیلنجز کا جواب نہیں ہے اور نہ خود کو اسی دائرے میں محدود رکھ کر عصر حاضر کے مسائل کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حل کرپائیں گے۔ عصری تقاضوں کے پیش نظر دور جدید کی بعض تفاسیر کے تعلق سے ہمارا یہ رویہ ہرگز درست نہیں ہے کہ وہ چوں کہ تفسیر بالرائے کے ذیل میں آتی ہیں، اس لیے ہم ان سے استفادہ نہیں کریں گے یا ان سے استفادہ کرنا منہج سلف کے خلاف ہے۔ یہ بھی ایک دل چسپ بات ہے کہ آج تک کسی نے متعین طور پر یہ نہیں بتایا کہ فہم قرآن کا سلفی منہج کیا ہے۔صرف دوسرے کی علمی حیثیت کو ختم کرنے یا اپنے خاص حلقے میں اس کو بدنام کرنے کے لیے یہ تعبیر واصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو امام ابن جریر اور حافظ ابن کثیر تک فہم قرآن کو محدود کردینا تھا تو پھر وہ ہر دور کے انسان کو قرآن پر غور وفکر کرنے کی دعوت کیوں دیتا۔ بات صرف اتنی ہے کہ تفکر وتدبر کے جو فطری اصول ہیں، ان سے انحراف نہ کیا جائے، نہ پہلے سے طے کردہ اپنی آراء کو قرآن سے کشید کیا جائے اور نہ کسی آیت سے ایسا مفہوم اخذ کیا جائے جو قرآن اور حدیث کے عمومی مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو۔
موجودہ تفسیری نصاب پر غور و فکر کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ عصر حاضر کے کئی ایک مسائل ہمارے لیے چیلنج بن گئے ہیں اوراسلام کے خلاف مغرب کی فکری یلغار انہی مسائل کے حوالے سے مسلسل جاری ہے۔ ان مسائل میں دو مسئلے ’’انسان کے فکر وعمل کی آزادی اور عورت کے حقوق واختیارات‘‘ کافی حساس ہیں اور اسلام کے کئی ایک قوانین کے حوالے سے ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔ جہاں تک انسان کے فکر وعمل کی آزادی کا مسئلہ ہے، قرآن اس کو خاص اہمیت دیتا ہے اور شاید دنیا کے کسی دوسرے مذہب اور نظریے میں انسان کو وہ آزادی نہیں دی گئی ہے، جو قرآن نے اسے عطا کیا ہے لیکن تاریخ کے طویل ترین دور میں رونما ہونے والے بعض واقعات (جن کے منظر وپس منظر واضح نہیں ہیں) کا حوالہ دے کر اسلام کو مطعون کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دور حاضر کے بعض مسلم ممالک کے رویوں کو عین اسلام سمجھ کر اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ تنقید کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔مسلمانوں کی بے عملی اور ان کا غلط طرز عمل اسلام نہیں ہے اور اس حوالے سے قرآن پر تنقید کرنا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے دعوتی نظام کو اتنا وسیع اور مستحکم نہیں کرپارہے ہیں کہ عام مسلمانوں کی کردار سازی کرسکیں اور وہ چلتے پھرتے اسلام اور قرآن نظر آنے لگیں۔ اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ہمارا یہ جواب شاید ہمیں وقتی طور پر خوش کردے لیکن سچائی یہی ہے کہ دنیا اسلام کو مسلمانوں کے کردار وعمل سے ہمیشہ سمجھتی رہی ہے اور آیندہ بھی وہ اسلام کو اسی راہ سے سمجھنا چاہے گی۔ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو منطقی دلائل کے پردے میں چھپانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہی وہ طرز فکر وعمل ہے جو ہمیں اپنی اندرونی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا اور ہم شیطانی تھپکیوں سے مزید غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
رہا سوال مسلمان عورت کی آزادی اور اس کے حقوق واختیارات کا تو یہ حقیقت واقعہ ہے کہ قرآن میں اسے جو حقوق دیے گئے ہیں، غیر مسلم سماج کی طرح مسلم سماج بھی آج اسے دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایک ظالم شوہر کے شکنجے میں کس کر وہ یہ سوچنے پر خود کو مجبور پاتی ہے کہ کیا میرا عورت ہونا کوئی گناہ ہے۔ سماج میں اگر عورت کو وہ عزت واحترام ملے جس کی وہ مستحق ہے تو وہ روکھا سوکھا کھاکر بھی اپنے شوہر کے ساتھ گزارا کرلے گی لیکن سونے اور چاندی میں ملبوس رہنے کے باوجود اگر وہ عزت نہیں ملتی اور شوہر کی بے اعتنائیاں بڑھتی جاتی ہیں تو اس کی زندگی جہنم بن جاتی ہے یا پھروہ شیطان کے ہتھے چڑھ کر اندھیری گلیوں میں بھٹکنا شروع کردیتی ہے۔ ظالم شوہر سے نجات پانے کا ایک راستہ اس کے لیے خلع کا موجود تھا لیکن بعض محترم فقہاء نے اسے بھی شوہر کی جانب سے دی جانے والی ایک طلاق سے معلق کردیا۔ اگر طلاق ہی ضروری تھی تو پھر اسے خلع کا نام کیوں دیا گیا۔ بیوی پسند نہ آئے، معیار پر پوری نہ اترے، والدین کی نگاہوں سے گر جائے تو شوہر کو طلاق دینے میں دیر نہیں لگتی لیکن یہی اختیار اسے اسلام نے بھی دیا تھا، اسے ہمارے فقہاء نے کیسے چھین لیا۔ کہا جاتا ہے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے، کم عقل ہوتی ہے، بغیر سوچے سمجھے اپنے فیصلے لیتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی زندگی کے اس نازک معاملے میں اسے تنہا فیصلہ کرنے کا حق نہ دیا جائے۔ عورت کی شخصیت اور اس کی ذہانت کا یہ تجزیہ سراسر غلط ہے، آج کی دنیا ہماری اس منطق پر قہقہے تو لگاسکتی ہے، اسے تسلیم نہیں کرسکتی۔ قرآن میں مذکور کتنی خواتین ہیں جن کے عمل وکردار کو اللہ نے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔حسن عمل کے بدلے اسے جنت کی بشارت دی ہے اور کئی ایک مقامات پر مردوں کے اوصاف کا تذکرہ جن الفاظ میں کیا ہے، انہی الفاظ میں عورتوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا ہے۔قرآن سے اگر ان تمام آیات کو جمع کرلیا جائے جن میں عورت کا کسی انداز میں ذکر کیا گیا ہے تو پتا چلے گا کہ قرآن عورت کی کیا تصویر پیش کرتا ہے اور ہمارے موجود مسلم سماج نے اس کی کیا حالت بنادی ہے۔ چالیس پچاس سال کی عمر میں شوہر اسے طلاق دے دیتا ہے، جوان بچوں کو اپنے پاس رکھ لیتا ہے، چھوٹے اور ناسمجھ بچے اس کے ساتھ کردیتا ہے اور وہ سڑک پر دکھائی دیتی ہے۔ بھائیوں نے باپ کی جائیداد پر قبضہ کرلیا، بھاوجیں ایک وقت کا کھانا نہیں کھانے دیتیں۔ اب وہ بے چاری کہاں جائے۔ عورت کی یہ تصویر دکھا کر ہم دنیا کو اسلام کی دعوت آخر کیوں کر دے سکتے ہیں اور ہمارا یہ دعوی کون تسلیم کرلے گا کہ اسلام ہی سارے مسائل کا حل پیش کرسکتا ہے اور کسی دوسرے مذہب اور نظریے میں یہ طاقت نہیں۔
مختصر یہ کہ عصر حاضر کے یہ سلگتے مسائل استاذ کے سامنے رہیں اور وہ متقدمین اور متاخرین کے علمی سرمایے اور ان کی فکر قرآنی سے واقف ہو تو طلبہ کی صحیح رہنمائی کرسکتا ہے اور قرآن واقعی ایک زندہ کتاب کی حیثیت سے ہمارے سامنے آسکتا ہے۔صحیح دینی فکر کے حامل افراد اور اداروں نے اگر اس پر توجہ نہیں دی تو وہ دن دور نہیں جب قرآن ہمارے یہاں بھی اہل بدعت کی طرح تعویذ گنڈے کی ایک کتاب اور مردوں کو بخشنے کا ایک حکیمی نسخہ بن جائے گا۔
جنوبی ہند کے بعض دینی اداروں میں تفسیر پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، کہیں کہیں تفسیر میں تخصص کا بھی انتظام ہے۔ شمالی ہند میں بھی اس کی ضرورت ہے کہ کسی بڑے دینی ادارے میں تفسیر میں تخصص کا شعبہ قائم کیا جائے۔ دوسالہ نصاب اس طرح متعین کیا جائے کہ اسے پڑھنے کے بعد طلبہ کے اندر قرآن فہمی کی بھرپور صلاحیت پیدا ہوسکے۔ اس شعبے میں داخلے کے لیے کڑی شرطیں بھی عائد کی جائیں، مثلاً طالب علم حافظ قرآن ہو، تفسیر سے اسے خصوصی دل چسپی ہو اور وہ ایک مفسر کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تفسیر میں تخصص کرنے کے بعد ہمارے مدارس آگے بڑھ کر ان کو اپنے یہاں مناسب مشاہرہ دے کر تفسیر کی تدریس کے لیے دعوت دیں۔ کیوں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جس سامان کی مارکیٹ میں کھپت نہ ہو، اس کو تیار کرنے والے کارخانے بند ہوجاتے ہیں اور ان کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ دور تخصص کا ہے۔ عصری علوم کے مختلف شعبوں میں متخصصین کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، ہمیں اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے یہاں تفسیر کے متخصصین پیدا کرکے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
طلبہ کے اندر قرآنی ذوق پیدا کرنے کا ایک موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مدارس سال میں کئی ایک محاضرات قرآن مجید اور اس کے علوم ومعارف پر کرائیں۔ اس سے بھی طلبہ کے اندر حوصلہ پیدا ہوگا اور وہ بعض ایسی باتوں سے بھی واقف ہوں گے جو دوران درس زیر بحث نہیں آتیں۔ یہ محاضرات ان اصحاب فضل وکمال سے دلائے جائیں جن کی قرآن اور کتب تفاسیر پر گہری نظر ہو اور جو بطور خاص قرآنی علوم میں مہارت رکھتے ہوں۔ وہ محاضرے کے دوران بہت سے مراجع ومصادر کی نشاندہی کردیں گے جن سے طلبہ کو مطالعہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ یہ محاضرے بعض نمایندہ کتب تفاسیر پر بھی کرائے جاسکتے ہیں، اس سے طلبہ کو مختلف مفسرین کے رجحانات اور ان کی ترجیحات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
 
Top