ذیشان خان

Administrator
نوجوان سلفی اہل قلم کی خدمت میں

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

آج کل جن نوجوان سلفی اہل قلم کی تحریریں عوام وخواص میں مقبول ہیں اور جو پورے اعتماد کے ساتھ اپنے افکاروخیالات کا اظہارصاف ستھری زبان اور بہترین اسلوب میں کررہے ہیں ،ان میں کئی ایک نام نمایاں ہیں۔ ابوالمیزان اور ابن کلیم صاحبان نے جو ’’دی فری لانسر ویب پورٹل‘‘ بنایا ہے اور جس پر نئے نئے مضامین مسلسل آتے رہتے ہیں، اس میں جو حضرات لکھتے ہیں، اگر ان کی فہرست بنائی جائے تو بڑی طویل ہوگی۔ میں نے ذاتی طور پر ابن کلیم صاحب سے کئی ایک نوجوانوں کے نام معلوم کیے جو اس وقت تحریری میدان میں پیش پیش ہیں اور متنوع موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔ تقریباً تین درجن نوجوان سلفی قلم کار صرف ممبئی اور دہلی میں ہیں، ان میں سے کئی ایک سے میری ملاقات بھی ہے،بعض نوجوانوں سے نصف ملاقات ہے اور باقی حضرات کے اسمائے گرامی ان کی خوبصورت تحریروں کی وجہ سے ذہن میں محفوظ ہیں، ابھی تک ان سے شرف گفتگو حاصل نہیں ہے۔ اس وقت میرے سامنے نوجوان سلفی اہل قلم کی جو فہرست ہے، اس میں نمایاں نام مندرجہ ذیل ہیں:
ابوالمیزان، یاسر اسعد، طارق اسعد، کاشف شکیل، ہلال ہدایت، عبدالباری شفیق، شمس الرب، خلیل الرحمن سنابلی، سہیل عامر، رشید سلفی، عزیر احمد، رشید ودود، شمس ودود، سرفراز فیضی، شعبان بیدار، وسیم سنابلی، ابواشعر فہیم، راشد حسن مبارک پوری، سعد احمد فاروقی، خبیب حسن مبارک پوری، جلال الدین محمدی، ابوالمرجان فیضی، صہیب حسن مبارک پوری، ممتاز شاہد، عبدالوحید سلفی، عامر انصاری، ثناء اللہ تیمی،حافظ عبدالحسیب وغیرہ۔

یہ فہرست مکمل نہیں کہی جاسکتی بلکہ بہت سے نوجوانوں کے نام اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں۔ ملک کی بعض دوسری ریاستوں میں بھی نوجوان سلفی قلم کار موجود ہیں اور اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ملت وجماعت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
اگر ان حضرات نے اپنا یہ قلمی سفر جاری رکھا تو مستقبل میں ان شاء اللہ ایک کامیاب مصنف،صحافی اور تجزیہ کار کی حیثیت سے شہرت پائیں گے اور ملت وجماعت کا بیش قیمت سرمایہ ثابت ہوں گے۔ ملی تنزل وانحطاط کی شب تاریک کے یہ وہ جگنو ہیں جو جہاں رہیں گے اور جیسے بھی رہیں گے، اپنی روشنی سے دلوں کو منور کرتے رہیں گے۔ آخری دین کو قیامت تک محفوظ رکھنے کے لیے باری تعالیٰ نے جو قدرتی وسائل فراہم کیے ہیں، ان کا ایک مظہر روئے زمین پر علمائے حق کا وجود بھی ہے۔ حدیث رسول کے مطابق ایک گروہ تاصبح قیامت حق کا علم بردار بنارہے گا۔ اپنے دین کی خدمت کے لیے نئے پودے تیار کرنا اللہ کا کام ہے اور اپنے آخری محبوب ترین دین کی تبلیغ واشاعت اس کے لیے چنداں مشکل نہیں۔
تحریر میں انفرادیت اور پختگی مطالعے کے وسیع ہونے کی دلیل ہے۔جن نوجوانوں نے طالب علمی کے ایام میں سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کرام سے بھرپور استفادہ کیا ہے، درسیات کے ساتھ ہم نصابی کتابوں سے وابستہ رہے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی ذہانت اور اپنی کڑی محنت کے ساتھ طالب علمی کے ماہ وسال گزارے ہیں، وہ میدان عمل میں اترتے ہی اپنی پہچان بنا لیتے ہیں اور اگر ان کو مناسب اور حسب حال مواقع مل گئے تو پھر بہت جلد وہ صحافت اور تصنیف وتالیف کی دنیا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
کئی ایک وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق مناسب منصب نہیں دے پاتے اور وہ تن تنہا اپنے مسائل سے جوجھتے ہیں، پھر بھی وہ اپنے ذوق اور اندرونی داعیہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور آخر کار انھیں کوئی نہ کوئی مناسب جگہ مل ہی جاتی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی کہانی دہرائی جارہی ہے اور ہم اگر چشم بینا رکھتے ہوں تو اس صورت حال کے مالہ وماعلیہ کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس وقت ممبئی اور دہلی جیسے بڑے شہر ایسے نوجوان سلفی قلم کاروں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اعلی تعلیم کے حصول اور تلاش معاش میں آئے ہوئے ان نوجوانوں نے اپنی علاحدہ شناخت قائم کرلی ہے اور وہ اپنی اعلی تعلیم یا ملازمت میں مصروف کار ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سلفی نوجوان اہل قلم کی اس قابل لحاظ تعداد کے باوجود ہمارے دینی رسائل وجرائد علمی اور تحقیقی مضامین سے محروم ہیں اور وہ جیسے تیسے نکل رہے ہیں۔ یہ دینی رسائل وجرائد ہمارے فکر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کے قارئین کی بڑی تعداد ایسی ہے جو دین کی اساسیات سے واقف نہیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اپنی تمام تر علمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ یہ نوجوان اپنے اپنے پسندیدہ دینی رسائل کو بھی اپنی نگارشات ارسال کرتے رہیں۔ اس سے جہاں دینی رسائل کی معنویت میں اضافہ ہوگا، وہاں خود دینی اور علمی حلقوں میں ان کی بھی پہچان بنے گی۔ ہمیں آپ کی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے لیکن ملت کے جمع کردہ سرمائے سے آپ نے جو استفادہ کیا ہے، جواب میں اسے کچھ واپس بھی تو کرنا ایک دینی واخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہی وقت ہے جب آپ ملت کو کچھ دینے کی حالت میں ہیں۔ صرف اپنے لیے جینا اور صرف اپنے مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہنا کوئی کمال کی بات نہیں ہے، ایسا تو ہر کوئی کرتا ہے، پھر آپ کا امتیاز کیا رہے گا۔
اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابھی تک ہمارے دینی رسائل وجرائد کے ذمہ داران مضمون نگاری اور مقالہ نویسی کو ایک مفت کی دینی خدمت سمجھے بیٹھے ہیں جب کہ ان نوجوانوں کے مسائل گوناگوں ہیں۔ انھیں اپنے اہل وعیال، والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہے۔ ان کی احتیاجات انھیں موقع ہی نہیں دیتیں کہ وہ کوئی ایسا علمی کام کرسکیں جس میں کوئی یافت نہ ہو۔لیکن یہ درد صرف وہی محسوس کرسکتا ہے جو اس درد کا تجربہ رکھتا ہو، اس ضرورت کا احساس صرف وہی کرسکتا ہے جو سماج کی زمینی حقیقت سے آگاہ ہو۔آسودہ حال حضرات اس کرب کا احساس وادراک کیوں کر کرسکتے ہیں۔صورت حال کی اس سنگینی کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی اچھی صلاحیتوں کے حامل نوجوان سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔پانی میں اگر بہاؤ موجود ہے تو وہ اپنا کوئی نہ کوئی راستہ تو بناہی لیتا ہے۔مختلف سطح کے محترم ذمہ داروں نے اگر اس کے استعمال کا کوئی طریقہ نہیں سوچا تو وہ پانی کسی جوہڑ میں مل کر صرف ضائع ہی نہیں زہر آلود بھی بن جائے گا۔دینی تنظیمیں اپنے مزاج کے لحاظ سے یہی خدمت انجام دیتی ہیں کہ وہ ملت کے باصلاحیت افراد سے ملت کو فیض یاب ہونے کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ اگر ان کے کلیدی ذمہ داران صرف اپنی دنیا سنوارنے میں لگے رہیں گے تو یہ قیمتی سرمایہ ضائع ہوجائے گا اور کہیں نہ کہیں اس کے قصور وار ہمارے یہ محترم ذمہ داران بھی ٹھہرائے جائیں گے۔
اپنے ان باصلاحیت نوجوانوں سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات خود طے کریں، زمانہ ان کی قدر کرتا ہے یا نہیں، اس کی پرواہ کیے بغیر وہ اپنے اس علمی اثاثے کی حفاظت کریں جو ہماری جامعات اور ان کے فاضل اساتذہ کرام نے ان کے سپرد کیا ہے۔دینی مدارس سے فارغ ہوکر جب ہم اعلی تعلیم کے لیے کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں تو بسااوقات نہ صرف ہمارے مضامین بدل جاتے ہیں بلکہ ریسرچ اور تحقیق کا انداز اور اس کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔مساجد یا مدارس سے وابستگی ہوئی تو وہاں کی مصروفیات کچھ الگ سی ہوجاتی ہیں اور اگر کسی تجارتی ادارے سے منسلک ہوگئے تو گزشتہ سرمایے سے راست تعلق بالکل ختم ہوجاتا ہے۔بہر حال اپنی پسند اور ذہنی آمادگی کے مطابق ہر کسی کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا حق حاصل ہے۔ہم کسی کو اپنی مرضی کا پابند نہیں بناسکتے لیکن فارغین مدارس سے یہ درخواست تو کرہی سکتے ہیں کہ آپ جہاں بھی رہیں، اپنی پہچان نہ بھولیں، آپ ایک عالم دین ہیں، حلال وحرام کے درمیان تمیز آپ کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے۔متاع دنیا چند روزہ ہے، مہلت حیات بھی محدود ہے، آخرت کا حساب کتاب برحق ہے، اسلام کی ان اساسی تعلیمات کو آپ سے بہتر کون سمجھتا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی زندہ رہنا ضروری ہے کہ آپ اس ملت کی اکائی ہیں، جس نے اپنا سب کچھ لٹاکر آپ کو ایک عالم دین، ذمہ دار مسلمان اور جواب دہ مومن بنایا ہے۔ جس ملت نے آپ کو سنوارا ہے، اس کے کچھ حقوق ہیں جو آپ پر عائد ہوتے ہیں،مسلم سماج کی آپ سے کچھ توقعات ہیں جن پر آپ کو پورا اترنا ہے۔ دنیا کے عام لوگ بھی تو کھاتے کماتے اور مرجاتے ہیں، آپ ان عام لوگوں میں سے نہیں ہیں۔آپ کا امتیاز یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ملت کے لیے بھی فکر مند رہیں، اس کے حق میں کیا بہتر کرسکتے ہیں،اس کی فکر ہمیشہ دامن گیر رہے۔آپ زمانے کے رخ پر چلنے کے لیے نہیں بلکہ زمانے کا رخ بدلنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔کبھی رات کی تنہائی میں جب آپ اس پہلو پر غور کریں گے تو ان شاء اللہ اپنی قیمت کا آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا اور کسی مطالبے کے بغیر آپ کچھ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
اسلام میں شورائیت اور اجتماعیت کی خاص اہمیت ہے۔ہمارے اجتماعی اداروں میں یہ جذبہ سرد پڑتا جارہا ہے۔اب تو کھلے عام بعض معتبر حضرات یہ بات کہتے ہیں کہ میاں تم تنہا جو کچھ کرسکتے ہو کرگزرو، اجتماعیت کو نہ دیکھو اور نہ اس کی کوئی فکر کرو۔یہ فکر اور سوچ اسلامی تعلیمات سے متعارض ہے۔قرآن میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نبی کو اپنے صحابہ سے مشورہ لینے کا پاپند کیا تھا جو وحی الٰہی کی روشنی میں اپنا ہر قدم اٹھاتا تھا۔ ایسی صورت میں شورائیت اور اجتماعیت کے جذبے کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔فرد واحد خواہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو،کسی معاملے کے تمام پہلو اس کے سامنے نہیں آسکتے۔ہمارے چند نوجوان مثال کے طور پر یہ طے کرلیں کہ ہمیں کن کن موضوعات پر قلم اٹھانا ہے تو دین کا کوئی پہلو تشنہ نہیں رہے گا لیکن اگر تمام نوجوان اپنی سمجھ کے مطابق موضوعات کا انتخاب کریں گے تو تکرار سے بچا نہیں جاسکتا اور کئی ایک ضروری موضوعات چھوٹ جائیں گے یا تشنہ رہ جائیں گے۔کاش ہمارے یہ نوجوان کہیں جمع ہوکر باہم تبادلۂ خیال بھی کیا کریں تو اس طرح کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر بہت خوشی ہوتی ہے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ کوئی سلفی قلم کار سیاسیات پر بہت اچھا لکھتا ہے،کسی کا سماجی مطالعہ بہت گہرا ہے اور کوئی خالص دینی موضوعات پر بڑی مثبت تحریر لکھتا ہے۔زبان وادب کی تمام خوبیوں سے آراستہ مضامین لکھنا آسان نہیں ہے۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جو بحمد اللہ آپ کو حاصل ہے۔
سوشل میڈیا پر سطحی اور طفلانہ تبصرے پڑھ کر بہت افسوس بھی ہوتا ہے۔اگر کچھ لکھنا ہی ہے تو سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔آپ کے علمی وقار، عالمانہ حیثیت اور مومنانہ شان سے یہی رویہ ہم آہنگ ہے۔بہت زیادہ دنوں تک اپنے معیار سے ہٹ کر زبان استعمال کرنے سے قلم میں سطحیت پیدا ہوجائے گی اور پھر آپ علمی دنیا میں اپنا کوئی خاص مقام نہیں بناسکیں گے۔ اسی طرح غیض وغضب کے عالم میں جو تحریر لکھی جائے گی، اس میں نہ معروضیت ہوگی اور نہ توازن۔ ایسی تحریریں لوگ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ تنقیدی اور جوابی تحریروں کے اپنے کچھ تقاضے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ضروری نہیں کہ ہر الٹی سیدھی تحریر کا جواب دیا ہی جائے۔ جھوٹی غیرت اور ذہنی دباؤ میں لکھی گئی تحریر کا جواب نہ لکھنا بھی ایک ایسا خاموش جواب ہے جس کا دنیا میں کوئی جواب نہیں۔ مناظرانہ تحریر کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں لفظوں سے کھیلا جاتا ہے، عبارتیں سیاق وسباق سے کاٹی جاتی ہیں، مصنف کی تحریر کو خود ساختہ معانی پہنائے جاتے ہیں، جن سوالات کا جواب دینے سے پسینے چھوٹ جانے کا امکان ہو، ان کا جوابی تحریر میں ذکر بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اسلامیات میں برصغیر کا جو تنقیدی سرمایہ ہے، اگر کبھی وہ آپ کے زیر مطالعہ آئے تو یہ تمام چیزیں آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔
 
Top