ذیشان خان

Administrator
تارک صلاۃ کا حکم: تعارف وتبصرہ

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

مصنف: شیخ محفوظ الرحمن فیضی
ناشر: مکتبہ فہیم، مئو ناتھ بھنجن
تبصرہ نگار: رفیق احمد رئیس سلفی


نماز اسلام کا دوسرا ستون اور ام العبادات ہے۔اسلام کے دونوں مصادر قرآن وحدیث میں اس کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اوراس کی بار بار تاکید کی گئی ہے اور جو لوگ نماز ترک کرتے ہیں یا اپنی نمازوں میں سستی وکاہلی کا اظہار کرتے ہیں، ان کو طرح طرح کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ ان وعیدوں میں جہنم کی وعید بھی شامل ہے۔ نماز کی ترغیب وترہیب کے لیے نصوص کتاب وسنت میں جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس کی تاویل وتوجیہ کے سلسلے میں علمائے اسلام کی آراء دور قدیم ہی سے مختلف رہی ہیں۔
اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والا خارج ازاسلام ہے لیکن وہ مسلمان جو فرضیت کا منکر تو نہیں ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا یا پڑھتا بھی ہے تو کبھی کبھی، جب جی میں آتا ہے پڑھ لیتا ہے اور جب جی میں آتا ہے ترک کردیتا ہے، اس کے بارے میں علمائے امت کی آراء مختلف ہیں۔ کوئی اسے کافر قرار دیتا ہے، کوئی واجب القتل کہتا ہے، کسی کا خیال ہے کہ اسے حوالہ زنداں کردینا چاہیے اور کوئی جسمانی سزا دینے کی بات کہتا ہے۔
کسی دینی مسئلے میں جب آراء مختلف ہوجاتی ہیں تو وہ تمام آراء قابل توجہ ہوتی ہیں جن کے پیچھے واضح اور صاف دلائل موجود ہوں۔ اصولی اعتبار سے ہونا تو یہ چاہیے کہ زیر بحث مسئلے میں ان تمام آراء کا احترام کیا جائے جن کے پیچھے صاف اور واضح دلائل ہیں اور اگر کسی ایک کو ترجیح دی جائے تو اس میں اس قدر قطعیت نہ اپنائی جائے کہ دوسرے کی حیثیت بالکل صفر ہوجائے۔
تارک نماز کے مسئلے میں بدقسمتی سے ہم اس اصول کو برقرار نہ رکھ سکے اور بعض علماء قطعیت کے ساتھ تارک صلاۃ مسلمان کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عالم دین اس معاشرے کے تعلق سے کیا رویہ اپنائے جس کے بیشتر افراد بے نمازی ہیں۔ ان سے دعا سلام کرے یا نہیں؟ ان کی تقریبات میں شرکت کرے یا نہیں؟ ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے یا نہیں؟ ان کا نکاح پڑھائے یا نہ پڑھائے؟ ان کے مرنے پر ان کی نماز جنازہ اور تجہیز وتکفین کیسے کی جائے؟ ان کی لاش مسلمانوں کے قبرستان میں دفنائی جائے، سڑک پر پھینک دی جائے یا کسی گڈھے میں دبادی جائے؟ بے نمازیوں کی بیویاں ان کے نکاح میں باقی ہیں یا ان کا نکاح فسخ ہوگیا؟ فسخ ہونے کے باوجود کسی مسلمان عورت کا اپنے بے نمازی شوہر کے ساتھ خلوت حرام کاری ہے یا نہیں؟ اس طرح کے بیسیوں سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دیا جانا ضروری ہے لیکن جو حضرات بے نمازیوں کو کافر کہتے ہیں، وہ کئی ایک سوالات کے جوابات نہیں دیتے اوراس طرح اس مسئلے میں ایک طرح کا کنفیوژن پیدا ہوگیا ہے اور زیر بحث مسئلے سے متعلق تمام نصوص کا انطباق اور ان کے محل کی تعیین مشکل ہوگئی ہے۔
علی گڑھ میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک فیضی فاضل نے اسی مسئلے پر کتاب لکھ دی اور اس میں یہ اعلان کردیا کہ بے نمازی کافر ہے۔جماعت کے بعض لوگوں نے اس پر تشویش ظاہر کی ۔میرے سامنے جب یہ کتاب آئی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تصنیفی ترتیب اور منطقی ربط سے محروم یہ کتاب قابل لحاظ ضخامت لیے ہوئے ہے۔ نصوص کتاب وسنت کے علاوہ اقوال رجال سے بھی مزین ہے ۔ زبان وبیان کی نزاکتیں مصنف اس لیے ملحوظ نہیں رکھ سکا ہے کہ اس کی مادری زبان اردو نہیں ہے، اس لیے وہ معذور ہے لیکن اگر کسی مصنف کو اپنی اس کمزوری کا ادراک ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ کسی اہل زبان سے کتاب پر نظر ثانی کرادے۔ کتاب جب انگلش میں لکھی جائے گی تو انگلش کی تمام نزاکتیں اس میں موجود ہوں گی، اسی طرح جب کتاب اردو میں ہو تو اردوزبان کی بنیادی چیزیں اس کے اندر لازماً موجود ہونی چاہئیں۔
علی گڑھ کی جماعت اہل حدیث کے بعض بزرگوں نے جن میں محترم عبدالباسط صاحب اور جناب محمد طاہر صاحب پیش پیش تھے، یہ خیال ظاہر کیا کہ اس کتاب سے جو غلط فہمی پیدا ہورہی ہے، اس کو کیسے روکا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ جماعت اہل حدیث کے بعض ممتاز علماء سے اس سلسلے میں رجوع کیا جائے اور ان سے اس مسئلے میں ان کا نقطۂ نظر معلوم کیا جائے ۔چنانچہ میں نے کئی ایک علماء سے ذاتی طور پر رابطہ قائم کیا اور ان سے ان کی رائے معلوم کی تو پتا چلا کہ کوئی بھی مصنف کے موقف کا موید نہیں ہے۔
اسی سلسلے میں میں نے حضرت الاستاذ مولانا محفوظ الرحمن فیضی حفظہ اللہ سے بھی رابطہ کیا جو اتفاق سے مصنف کے استاذ گرامی بھی ہیں ۔ مولانا نے فرمایا کہ وہ یہ کتاب لے کر میرے پاس مئو آئے تھے، مجھ سے کتاب پر مقدمہ لکھوانا چاہتے تھے لیکن میں نے نہ صرف مقدمہ لکھنے سے منع کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ کتاب اشاعت کے قابل نہیں ہے۔ میں نے جب انھیں بتایا کہ کتاب شائع ہوگئی ہے اور اس سے جماعت میں تشویش پائی جارہی ہے ،آپ اس کتاب کا جواب تحریر فرمادیں تاکہ یہ مسئلہ صاف اور واضح ہوجائے۔
میں بے انتہا شکر گزار ہوں کہ مولانا نے اس درخواست کو شرف قبول بخشا اور زیر مطالعہ مدلل ومفصل کتاب تحریر فرمائی۔ مجھے امید ہے کہ اس کے مطالعے سے کئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا اور مسئلہ واضح ہوکر ہمارے سامنے آجائے گا۔
زیر مطالعہ مسئلہ اور اس جیسے بعض دوسرے مسائل علمائے اہل حدیث کے یہاں کیوں متنازع فیہ بنے ہوئے ہیں؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اہل حدیث منہج کے اصول کیا کہتے ہیں؟ موجودہ فکری تشتت کی وجوہات کیا ہیں؟ ان پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ میں خود عوام کے درمیان رہتا ہوں ۔کئی طرح کے مسائل سے جوجھتا ہوں۔ اسلاف کی کتابوں اور موجودہ علماء کے فتاوی پر بھی نظر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ اہل حدیث حلقے کسی حد تک اصحاب الظواہر اور فقہ حنبلی سے متاثر ہیں ۔ جب کہ اہل حدیث منہج دونوں نقطہائے نظر کے سلسلے میں اپنے بعض تحفظات رکھتا ہے۔ صفات الٰہیہ کے سلسلے میں ظاہری نصوص سے تمسک امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف رہا ہے جو یونانی منطق اور علم کلام کے مقابلے میں بالکل درست ہے، اس سے عدول کئی ایک خرابیوں کا موجب ہے لیکن دیگر نصوص کے بارے میں ظاہری الفاظ پر کلی اعتماد درست نہیں ہے۔ اگر یہی بات ہوتی تو علم بلاغت کی ضرورت کیا تھی۔ ہر زبان میں بلاغت کے اصول جاری وساری ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ اگر کوئی باپ اپنی اولاد سے کہتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام کیا تو میری اولاد نہیں، اس کا مطلب واضح طور پر یہی ہے کہ باپ اپنی اولاد سے اس کام کی شناعت بیان کررہا ہے، اس سے دور رہنے کی تاکید کررہا ہے ، نہ کہ اولاد کو اپنی جائز اولاد تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے۔احادیث میں یہ اسلوب عام ہے اور نبی اکرم ﷺ نے کسی بات پر زور دینے اور اس کی تاکید کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ اگر اس کو نظر انداز کردیا جائے تو بعض ایسے گناہوں کے ارتکاب سے بھی ایک مسلمان دائرۂ ایمان سے باہر ہوجائے گا جن کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔
مسالک اربعہ میں حنبلی مسلک اہل حدیث منہج سے زیادہ قریب ہے۔ اس مسلک میں فقہ کے فروعی مسائل میں اجتہاد وقیاس سے زیادہ کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ احادیث رسول سے استناد کیا گیا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ فقہائے حنابلہ کے یہاں جمود اور اندھی تقلید نہیں ہے ۔ وہ بالعموم نصوص کتاب وسنت پر اعتماد کرتے ہیں اور ابن قدامہ جیسے بڑے مصنف بھی ’’المغنی‘‘ میں اختلافی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ’’والحق أحق أن یتبع‘‘ کا معروف جملہ نقل کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے فقہی مسائل میں وہ اپنے بعض اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے نصوص کی قطعیت اور اس کی بالادستی کو برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔ بعض حنبلی فقہاء تصوف سے بھی متاثر ہوئے ہیں اور اس کے فکری اثرات حنبلی تراث میں موجود ہیں۔
اہل حدیث منہج ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے اور وہ اصول وفروع میں قرآن، حدیث، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کی پیروی کرنے ہی کو راہ حق وصواب سمجھتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ میت کی طرف سے قربانی کرنے کو درست قرار دیتے ہیں۔ یہی نقطۂ نظر بہت سے سعودی علمائے کرام اور مفتیان ذی احترام کا بھی ہے ۔ امام ابن قیم الجوزیہ قرآن خوانی کے ذریعے میت کے لیے ایصال ثواب کرنے کو درست سمجھتے ہیں جب کہ علمائے اہل حدیث اسے درست نہیں سمجھتے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے فیض اٹھانے والے ہندوستانی اہل حدیث علماء بھی کہیں نہ کہیں اپنے سعودی اساتذہ کے فکر اور ان کے منہج سے متاثر ہیں اور بسا اوقات ان کے قلم سے ایسی تحریریں سامنے آجاتی ہیں جن میں اہل حدیث منہج سے زیادہ حنبلیت کی نمایندگی ہوتی ہے۔
زیر بحث مسئلے میں بھی یہی صورت حال ہے ۔ظواہر نصوص پر کلی اعتماد اور فقہ حنبلی سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ ہمارے درمیان مختلف فیہ بن گیا ہے۔ خوارج اپنے تقوی وتدین میں مشہور ہیں۔ گناہ کبیرہ کے مرتکبین کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں جب کہ مرجئہ ان کے برعکس ہیں ۔ وہ تمام تر بے اعتدالیوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کو بھی تسلی دیتے اور تھپکی دے کر سلاتے رہتے ہیں کہ رب العالمین سے امیدیں وابستہ رکھو، وہ ضرور تمھاری بخشش فرمادے گا۔ اہل حدیث منہج ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے اور یہی وسطیت اس کا امتیاز ہے۔
مجھے حد درجہ خوشی ہے کہ اس مسئلے پر جماعت اہل حدیث کی ایک ممتاز شخصیت مولانا محفوظ الرحمن فیضی حفظہ اللہ نے قلم اٹھایا ہے اور چشم کشا تحقیق پیش کی ہے ۔ مولانا مدظلہ العالی درس وتدریس سے وابستہ رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ بحمد اللہ جاری ہے۔ اس وقت ہمارے جو بزرگ اساتذہ موجود ہیں ، شاید سب سے زیادہ تلامذہ مولانا فیضی حفظہ اللہ ہی کے ہیں۔ تفسیر ، حدیث، فقہ، ادب، معانی و بلاغت اور فلسفہ ومنطق جیسے تمام علوم وفنون کی تدریس ان کے ذمہ رہی ہے ۔ تصنیف و تحقیق کے میدان میں بھی ان کی علمی خدمات نمایاں ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ مجھے ان سے شرف تلمذ حاصل نہیں لیکن ان کی تحریروں اور نصف ومکمل ملاقاتوں سے اتنا استفادہ کیا ہے کہ موصوف کو میں بجا طور پر اپنا استاذ کہہ سکتا ہوں۔ اللہ کرے کہ ان سے استفادے کا یہ سلسلہ تادیر قائم رہے اور مولانا کی خصوصی توجہ اور عنایت مجھے حاصل رہے۔اللہ انھیں صحت وعافیت سے رکھے اور سکون واطمینان عطا فرمائے۔آمین
زیر مطالعہ کتاب ایک تمہید اور تین فصلوں پر مشتمل ہے۔ تمہید میں بعض اصولی باتوں کی توضیح کی گئی ہے، فصل اول میں تارک صلاۃ کا حکم اور اس کی سزا بیان کی گئی ہے،فصل دوم میں ان حضرات کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں جو تارک صلاۃ کو کافر نہیں قرار دیتے اور تیسری فصل میں تکفیر کے قائلین کے دلائل بیان کیے گئے ہیں اور ان دلائل کی کمزوریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ قارئین ذی احترام اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد کوئی واضح موقف اختیار کرسکیں گے اور ان شبہات کا ازالہ ہوسکے گا جو زیر مطالعہ مسئلے کے سلسلے میں پائے جاتے ہیں۔میں مکتبہ فہیم مئو کے اپنے نوجوان، باذوق اور علم دوست ذمہ داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنے مشہور روایتی انداز میں کتاب کو ہر لحاظ سے خوبصورت بناکر شائع کیا۔
اللہ مصنف محترم کو اجر جزیل عطا فرمائے اور کتاب کو حسن قبول بخشے۔ آمین
 
Top