ذیشان خان

Administrator
وضو میں کسی حصے کا خشک رہ جانا
=================
مقبول احمد سلفی
کبھی کبھی نادانستہ طورپر یا عجلت میں وضو کرنے سے اعضائے وضو میں سے کوئی حصہ یا حصے کا تھوڑا مقدار خشک رہ جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں وضو کرنے والا کیا کرے ؟
اس کی دو صورتیں ہیں ۔
(1)پہلی صورت : یہ ہے کہ اگر دوران وضو یا وضو کے وقت فورا کسی حصے کی خشکی معلوم ہوگئی ،اس حال میں کہ اعضائے وضو ابھی بھیگے ہی ہوئے ہیں تو خشکی والے حصے کو دھولے دوبارہ وضو کی ضرورت نہیں ہے ۔
دلیل : دلیل کے طور پہ یہ کہا جائے گا کہ وضو میں موالاۃ یعنی پے در پے وضو کرنا وضو کے لئے شرط ہے، اور یہاں خشکی کا ازالہ فورا کرلیا گیا۔
(2) دوسری صورت: یہ ہے کہ وضو والے کسی حصے کی خشکی وضو کرنے کے کچھ دیر بعد معلوم ہوئی ،اس حال میں کہ اعضائے وضو سوکھ چکے ہیں تو پھر دوبارہ وضو کرنا پڑے گا۔
دلیل : یہاں موالاۃ یعنی پے درپے نہیں پایا جارہا ہے ۔
وضو میں کسی حصے کا خشک رہ جانا باعث گناہ ہے ، اس پہ سخت وعید آئی ہے ،اس لئے اچھے ڈھنگ سے کامل طور پہ وضو کرنا چاہئے ۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :
عن عبدِالله بنِ عَمرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ مِنْ مَكَّةَ إِلَى المَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ العَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا المَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ: «وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أسْبِغُوا الوُضُوءَ. (مسلم :241)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹے یہاں تک کہ جس وقت ہم پانی پر پہنچے جو راستہ میں تھا تو کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لیے وضو کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ بہت جلدی کرنے والے تھے ، چنانچہ جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (خشک رہ جانے کی وجہ سے) کیونکہ ان تک پانی نہیں پہنچا تھا (ان خشک ایڑیوں کو دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے، مکمل طور پر وضو کرو۔
اعضائے وضو میں سے کسی حصے یا حصے کے بعض حصے کا خشک رہ جانا عدم وضو کی دلیل ہے یعنی اس کا وضو ہوا ہی نہیں ۔ بعد میں معلوم ہونے پہ جب وضو کا پانی خشک ہوگیا ہو تو دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔ نبی ﷺ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں :
أخبرني عمرُ بنُ الخطابِ ؛ أنَّ رجلًا توضأ فترك موضعَ ظفرِ على قدمِهِ . فأبصرهُ النبي صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ . فقال ارجِعْ فأحسنْ وضوءَكَ فرجع ثم صلُّى .(صحیح مسلم:243)
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور اس نے اپنے پیر پہ ناخن کے برابر حصہ چھوڑ دیا ۔(یعنی ناخن کے برابر پیر پہ خشک رہ گیا)۔ آپ نے اسے دیکھا اور فرمایا: لوٹ جاؤ، اور اچھے ڈھنگ سے اپنا وضو کرکے آؤ۔ پس وہ لوٹ گیا پھر اس نے (دوبارہ وضو کرکے) نماز پڑھی ۔
یہاں چند باتیں مزید جان لیں ؛
(1) اگر کسی کو وضو میں صرف شک ہوگیا کہ پتہ نہیں فلاں حصہ دھلا تھا کہ نہیں تو شک پہ اعتماد نہیں کرنا ہے۔
(2) شک نہیں بلکہ یقین ہے کہ وضو میں فلاں حصہ نہیں دھلاتھا(اور اعضائے وضو خشک ہوگئے ہوں) تو لوٹ جائے اور دوبارہ وضو کرے ۔
(3) اگر کسی نے وضو کیا اور کوئی حصہ خشک رہ گیااور اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو ان شاء اللہ وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ ایسا اس نے انجانے میں کیا مگر اسے دوبارہ وضو کرکے اسے نماز دہرانی ہوگی ، اس لئے کہ اس کا حکم ایسا ہی ہے جیساکہ کوئی بغیر وضو کے نماز پڑھے ۔ اوپر والی مسلم شریف کی روایت اس کی دلیل ہے جس میں مذکور ہے کہ صحابی نے وضو میں پیر کے حصے میں صرف ناخن کے برابرحصہ خشک چھوڑا تھا مگر آپ نے انہیں وضو اور نماز دونوں لوٹانے کا حکم دیا۔مسلم شریف میں نماز لوٹانے کی صراحت ویسے نہیں ہے مگر دیگرکتب احادیث میں نماز لوٹانے کی صراحت ہے جیسے ابن ماجہ میں :​
رأى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ رجلًا توضَّأَ فترَكَ موضعَ الظُّفرِ على قدمِهِ فأمرَهُ أن يعيدَ الوضوءَ والصَّلاةَ قالَ فرجعَ(صحيح ابن ماجه:546)
ترجمہ :نبی ﷺ نے ایک آدمی نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اپنے پیر پہ ناخن کے برابر حصہ چھوڑ دیا ۔(یعنی ناخن کے برابر پیر پہ خشک رہ گیا)۔ آپ نے اسے وضو اورنماز لوٹانے کا حکم دیا۔
واللہ اعلم​
 
Top