ذیشان خان

Administrator
جب نماز میں چھینک آئے تو كیا الحمد للہ كہنا
==================

س : جب نماز میں چهینک آئے تو الحمد للہ اور جمائی لے تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہنا یا نہیں؟
ج : جب نماز میں چهنک آئے تو الحمد للہ کہتا ہے اور جمائی آنے پر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہتا نہيں، اس لئے کہ کوئی حدیث وارد نہیں ہے جو اس طرح کرنے پر دلالت کرتی ہے، اور اگر کوئی شخص چهینکے تو اس کے جواب میں حالت نماز میں یرحمک اللہ بهی نہ کہے، اور اگر کوئی سلام کرے تو بهی سلام کا جواب نہ دے، مگر ہاں اشارے سے دے سکتا ہے، اس لئے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سے وارد حدیث کا مفہوم عام ہے: یقینا نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔ نیز اس لئے کہ حضرت معاويہ بن حكم السلمی نے روایت کیا ہے کہ جب ایک شخص نے نماز میں چهنیکا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کو کہا کہ: بے شک ان نمازوں میں لوگوں کی گفتگوں میں سے کوئى چیز درست نہیں ہوتی ہے كہ وه تسبیح، تکبیر اور قرآن مجید پڑھتا ہے۔ اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحيح ميں ذکر کیا ہے۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
 
Top