ذیشان خان

Administrator
بدعت کے کاموں میں پسینہ بہانا

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

قال عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ :الإقتصادُ فی السُّنّۃِ خیرٌ من الإجتہاد فی البدعۃ۔

’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اعتدال اور میانہ روی سے سنت پر عمل کرتے رہنا بدعت کے کاموں میں پسینہ بہانے سے بہتر ہے‘‘۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو اسلام قبول کرنے کاشرف ابتدائے اسلام ہی میں حاصل ہوا تھا۔ ترتیب کے لحاظ سے اسلام قبول کرنے میں ان کا چھٹا نمبر بتایا جاتا ہے۔ انھوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی اور مدینہ کی طرف بھی ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئے۔ غزوہ بدر میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ایک روایت کے مطابق ابوجہل کو انھوں نے ہی قتل کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل کی تلوار انھیں عطا فرمائی تھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کوفہ کے قاضی اور بیت المال کے ناظم تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں مدینہ منورہ واپس آگئے تھے اور وہیں عہد خلافت عثمانی میں آپ کی وفات ۳۲ہجری میں ہوئی۔
ایمان اور کفر، توحید اور شرک، سنت اور بدعت، اسلام کی وہ اصطلاحات ہیں، جن کی تفہیم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ایمان کی حقیقت اسی وقت آشکارا ہوتی ہے جب ہم کفر کی حقیقت جانتے ہوں، اسی طرح توحید کی خوشبو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم شرک کی آلائشوں کا ادراک رکھتے ہوں۔ اسی طرح سنت اپنی تمام جلوہ طرازیوں کے ساتھ اس وقت ہمارے سامنے آتی ہے جب ہم بدعت کی تاریکیوں کو سمجھتے ہوں۔ قرآن اور حدیث میں جس طرح جگہ جگہ ایمان، توحید اور سنت کا تذکرہ کیا گیا ہے، اسی طرح کفر، شرک اور بدعت کی مذمت بھی قدم قدم پر کی گئی ہے اور ان سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زیر مطالعہ اثر میں ایک دائمی حقیقت کو پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ بدعت کے کام خواہ کتنے ہی بڑے اور صرفے والے کیوں نہ ہوں اور ان پر خواہ کتنی ہی محنت کیوں نہ کی گئی ہو،سب لاحاصل اور فضول ہے۔ اس طرح کے کسی کام پر تو ثواب ملنے سے رہا، الٹا گناہ ملے گا۔ اب کون ناسمجھ ہوگا جو کسی بدعت کے کام میں خود کو ہلکان بھی کرے اور گنہ گار بھی بن جائے۔
بدعت ہر اس کام کو کہتے ہیں جسے دین کا کام سمجھ کر ثواب پانے اور اللہ کو راضی کرنے کی غرض سے کیا جائے لیکن کتاب وسنت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو اور نہ صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اس طرح کا کوئی کام کیا ہو۔ بدعت کے سلسلے میں بعض حضرات اپنے مریدوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دین کی تقویت کے لیے یا دینی شعائر کے احترام میں اضافہ کرنے کے لیے جو کام کیے جاتے ہیں، وہ بدعت کے ذیل میں نہیں آتے جس طرح نئے ڈیزائن کے کپڑے پہننا، مختلف سواریوں کی سواری کرنا اور دینی کتابوں کی تصنیف واشاعت بدعت نہیں ہے۔
یہ بہت بڑا مغالطہ ہے اور دین و شریعت کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا اونٹ پر سواری کرنے سے زیادہ ثواب ملے گا یا ہوائی جہاز کا سفر کرنے سے؟ سواری کے اس مسئلے میں ثواب یا گناہ کا کوئی قائل نہیں ہے، پھر اسے مثال میں پیش کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ اسی طرح دینی شعائر کا نام لے کر جن بدعات کو رواج دیا گیا ہے، ان میں ایک بڑی بدعت جشن میلاد النبی ہے۔ جس محبت رسول کے حوالے سے اس بدعت کا ارتکاب کیا جاتا ہے، کیا وہ محبت صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کے اندر موجود نہیں تھی، کیا بارہ ربیع الاول کی تاریخ ان کی زندگی میں نہیں آتی تھی اور کیا اس کا انتظام کرنے کی اور جلوس نکالنے کی صلاحیت ان کے اندر موجود نہیں تھی؟ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ہر سوال کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ قرون مشہود لہا بالخیر میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ پھر بھی اگر اسلام کی ان بہترین صدیوں میں جو کام نہیں کیا گیا، کیا وہ دین کا کام ہوسکتا ہے، اگر یہ دین کا کام ہے تو پھر بدعت کسے کہتے ہیں؟
بدعت گالی اور منکر کی شکل میں ہمارے سامنے نہیں آتی بلکہ دین کے لبادے میں لپٹ کر آتی ہے۔ اس کی ظاہری چمک سے دھوکا ہوتا ہے اور ہم اسے کارثواب سمجھ لیتے ہیں۔ بیوی بچوں سے بے نیاز ہوکر رات رات بھر نمازیں پڑھنا، مسلسل نفلی روزے رکھنا، ہزار رکعات نفلی نماز پڑھنا، غیر شرعی اوراد و وظائف کا ورد کرنا اور ان کو مقصد براری کے لیے مفید تصور کرنا اور پھر دوسروں تک اس کی تبلیغ کرنا بدعات ہی کے ذیل میں آتے ہیں لیکن آج ہمارے کتنے دین دار ہیں جو اس طرح کی بدعات کو دین سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔
بدعت کی ایک بڑی برائی یہ ہے کہ اس سے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی رسالت اور آپ کے مشن پر حرف آتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی امت کے لیے شفیق ورحیم ہے ۔ آپ نے اس کی خیرخواہی میں اپنی زندگی گزاری ہے ۔ کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک نماز ایسی بھی ہے جس سے ثواب ملتا ہے، ایک وظیفہ ایسا بھی ہے، جس سے ہمارا مقصد پورا ہوتا ہے اور ایک کام ایسا بھی ہے جس سے محبت رسول کا اظہار ہوتا ہے لیکن ہمارے نبی ﷺ نے یہ باتیں ہمیں نہیں بتائیں۔ یہ نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی پر ایک سنگین الزام ہے جو اہل بدعت آپ پر لگارہے ہیں۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت پر بھی حرف آتا ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد بھی کچھ لوگ ایسے پیدا ہورہے ہیں جو آپ ہی کی طرح اللہ کو خوش کرنے والے بعض کاموں کا پتا دے رہے ہیں۔ کیا ایک صاحب ایمان اس طرح کا کوئی خیال اپنے دل میں لاسکتاہے؟
یہ اثر صحیح ہے، اس کی تخریج امام حاکم نے مستدرک (103/1) میں، امام احمد نے الزہد (869) میں، امام دارمی نے اپنی سنن (217)میں، لالکائی نے شرح اصول اعتقاداہل السنہ والجماعہ (99,61) میں، امام مروزی نے السنہ (90) میں، ابن بطہ نے الابانہ (161) میں، ابوذر ہروی نے ذم الکلام واہلہ (429) میں، خطیب بغدادی نے الفقیہ والمتفقہ (391) میں اور ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم (2334) میں کی ہے۔
 
Top