ذیشان خان

Administrator
شیطان سے زیادہ علم ،

✍عبد القهار السلفي

شیطان سے بچنے کے لئے شیطان سے زیادہ علم چاہیے، آدم کی پیدائش سے شیطان کو تکلیف ہوئی، اس کے بعد آدم اور حواء کو جنت میں بسا دیا گیا اس سے شیطان کو مزید تکلیف ہوئی جس کی وجہ سے شیطان کی دشمنی اور زیادہ گہری ہو گئی، آخر کار شیطان نے دونوں کو اللہ کی نافرمانی کرنے پر آمادہ کر لیا، شیطان کی فریب میں آنے کی وجہ سے آدم اور حواء سے غلطی سرزد ہوئی اور وہ دونوں جنت سے محروم کر دئے گئے، اور اس کے بعد ان دونوں کو دنیا میں بھیج دیا گیا ، اب یہ دنیا کی زندگی آدم ہوا اور ان کی اولاد کے لیے آخری چانس chance کے طور پر بسا دی گئی، تاکہ آدم ہوا اور ان کی اولاد اپنی کھوئی ہوئی جنت کو دوبارہ حاصل کر لیں،
شیطان اب اچھی طرح جان گیا کہ انسانوں کو بہکانے کا میرے پاس بھی اب آخری چانس ہے،اس لئے شیطان دنیا کی زندگی میں انسانوں کو بہکانے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ ایکٹیو active, ھے انسانوں کو بہکانے کے لئے کوئی بھی موقع گنوانا نہیں چاہتاھے،
اس لئے شیطان نے اللہ کو اور اللہ کے بندوں کو وارننگ warningھے،
(1)شیطان نے کہا اے میرے رب جو کہ تو نے مجھے ورغلایا ہے تو میں بھی دنیا میں لوگوں کو ان کے گناہوں کو خوشنما کر کے دکھاؤں گا اوران سب کو ورغلا کے چھوڑوں گا(الحجر/39)
(2)کہنے لگا تو نے مجھے (شیطان) گمراہی میں مبتلا کیا ہے لہذا اب میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے تیرے صراط مستقیم پر بیٹھوں گا پھر ان کو آگے سے ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں بائیں سے غرض ہر طرف سے انہیں گھیرلوں گا ،اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا،(اعراف/16/17)

اللہ تعالی اپنے بندوں سے کتنا پیار کرتا ہے اوراپنے بندوں کی کمزوریوں کو بھی جانتا ہے ،اور شیطان کی فریب کاریوں سے واقف بھی ہے, اسی لیے اللہ نے اپنے بندوں کو آگاہ کردیا کہ شیطان انسان کے لئے کیا ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
انسان کے دل و دماغ میں شیطان اس طرح گردش کرتا ہے جیسا کہ خون انسانی جسم میں گردش کرتا ہے،
صحیح بخاری/6750,
اللہ تعالی نے فرمایا،
شیطان یقینا تمہارا دشمن ہے لہذا تم بھی اسے دشمن سمجھو،(فاطر/6)
بے شک وہ (شیطان) تمہارا کھلا دشمن ہے(البقرہ/168)
شیطان انسان پر قابض اور مسلط ہوتا ہے لیکن انسان کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے فریب میں ہے،
دنیا کی زندگی کو جس طرح شیطان نے انسان کو بہکانے کے لئے آخری چانس کے طور پر مان چکا ہے،انسان کو بھی سمجھنا ہو گا کے دنیا کی زندگی کا ہر پل ہر صبح وشام
اس کے لیے آخری چانس ہے کہ اس کو اب دوبارہ عمل کا موقع نہیں ملے گا،
انسان کو بہکانے کے لئے شیطان نے جتنی تیاری کی ہے اس سے کہیں زیادہ شیطان کے شر سے بچنے کے لئے آپ کو تیاری کرنا پڑے گا،

شیطان کے شر سے بچنے کے لئے شیطان سے زیادہ علم چاہیے تبھی انسان شیطان سے بچ سکتا ہے ،ورنہ شیطان کے شر اور فریب میں پھنس جانے کا پورا امکان ہے ،
اللہ خوب جانتا ہے کہ شیطان انسان کے لئے کتنا خطرناک ہے،اس خطرناکی کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن سے پہلے، بسم اللہ، اور بسم اللہ، سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنے کی تلقین کی ہے،
ہم شیطان کے شر سے واقف نہیں ہوں گے تو شیطان کے شر سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
اس لئے قرآن مقدس کی بیشتر آیات میں شیطان کا ذکر موجودہے،
شیطان کے شر سے سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے ہے کہ ہم اللہ کی پناہ میں آجائیں،اسی لیے شعور کے ساتھ اور دل کی گہرائی کے ساتھ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھتے رہنا چاہیے،اعوذ باللہ قرآن کی عظیم ترین آیت اور عظیم ترین دعا ہے،
 
Top