ذیشان خان

Administrator
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عید میلاد النبی نہیں منائی، کیوں؟

✍دکتور فضل الرحمن المدنی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں رسول اللہﷺ کے فر امین وارشادات کا سب سے زیادہ علم تھا اور جو آپ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کر نے والے اور شریعت اسلامیہ کی سب سے زیادہ پابندی کر نے والے تھے، انھوں نے کبھی بھی عید میلاد النبیﷺ کا اہتمام نہیں کیا، نہ کبھی عید میلاد النبی کا جلوس نکالا، نہ بارہ ربیع الاول کو چراغاں کیا اور نہ کوئی جشن منایا، کیوں؟کیا ان کے دور میں ربیع الاول کا مہینہ نہیں آیا؟ یا آپ کی ولادت کی تاریخ نہیں آئی؟ یا ان کو آج کے عید میلاد النبیطﷺ منانے والوں کی طرح رسول اللہ ﷺ سے عقیدت ومحبت نہیں تھی؟ یا بخیلی اور دنیاوی کا موں میں مشغولیت کی وجہ سے انھوں نے یہ جشن نہیں منایا؟ حاشا وکلا، ایسا ہرگز نہیں تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کر نے والا کوئی نہیں، انھوں نے تو آپ سے اپنی جان، اپنے والدین اور اہل وعیال سے بھی زیادہ محبت کی، فرمان نبوی:
”لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“ (انظر صحيح البخاري(1):1 /58 [15]، صحيح مسلم(2): 1 /67 [44])
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں، ہمیشہ ان کے مدنظر رہا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جان کی پرواہ نہ کر تے ہوئے شب ہجرت آپ کے بسترپر سوئے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سفر ہجرت میں جس طرح آپ کا ساتھ دیا اور غار ثور میں آپ کے عیش وآرام کا انتظام کیا، غزوۂ احد وغیرہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جس طرح آپ پر اپنی فدائیت کا مظاہرہ کیا، اور صلح حدیبیہ کے مو قع پر آپ سے ان کی محبت واطاعت اور قر بانی وفدائیت کے جو عجیب مناظر دیکھنے میں آئے، جس کا آپ کے مخالفین اہل مکہ نے بھی اعتراف کیا وہ سب تاریخ وسیرت کی کتابوں میں محفوظ ہیں، اسی طرح حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور دیگر ذی ثروت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مالی قربانی کے جو نمونے پیش کئے ہیں وہ بھی تاریخ کے صفحات میں زریں حروف سے لکھے ہوئے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہو تا ہے کہ آپ کے ان فدا کار وجاں نثار صحابہ کرام نے آپ کا جشن ولادت (عید میلاد النبی ﷺ)کیوں نہیں منا یا؟ حالانکہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما آپ کے خسر تھے، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما آپ کے داماد تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادی تھیں، حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما وغیرہ آپ کی ازدواج مطہرات تھیں، حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آپ کے نواسے تھے۔
کیا ان میں سے کسی کو بھی آپ ﷺ سے ویسی محبت نہیں تھی جیسی محبت آج عید میلاد النبیﷺ منانے والوں کو ہے؟ یا یہ کہ انھوں نے اس کو بدعت اور غیر شرعی امر سمجھ کر اس سے احتراز کیا اور چونکہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کبھی اپنی ولادت کا جشن منایا تھا، نہ کسی کو اس کی ترغیب دی تھی، نہ اس کی جانب کوئی اشارہ کیا تھا اس واسطے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾(الأحزاب:21) پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے اس طرح کے جشن کا اہتمام نہیں کیا، یقینا آخری بات ہی درست ہے، اس واسطے جب عہد نبوی، عہد خلفاء راشدین، عہد صحابہ وتابعین اور عہد ائمہ اربعہ میں اس کا وجود نہیں تھا اور خیر القرون کے مسلمانوں اور ہمارے اسلاف کرام نے اسے کبھی نہیں منایا تو یقیناً یہ بدعت ہے، اس سے تمام مسلمانوں کو اجتناب کرنا چاہئے۔
آج جو لوگ بارہ ربیع الاول کو جشن میلاد النبی ﷺ منانے اور اس رات کو خوب چراغاں کرنے اور جلوس نکالنے وغیرہ کی مسلمانوں کو ترغیب دیتے ہیں اور اخبارات واشتہارات اور دیگر وسائل اعلام کے ذریعہ اس کا اعلان کر تے ہیں، انہیں یہ ثابت کر نا چاہئے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے بھی اس کا اسی طرح اعلان کیا اور مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی ہے، اور آپ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام نے یہ جشن منایا ہے۔
________
(1) صحيح البخاري: كتاب الإيمان، باب حب الرسول ﷺ من الإيمان.
(2) صحيح مسلم: كتاب الإيمان، باب وجوب محبة رسول الله ﷺ أكثر من الأهل والولد، والوالد والناس أجمعين.

دیکھئے: عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت، تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی
 
Top