ذیشان خان

Administrator
نیک اولاد کے لیے پہلے خود نیک بنیں

✍حافظ ابن کثیر رحمه الله فرماتے ہیں :

وقوله : ’’وكان أبوهما صالحا‘‘ فيه دليل على أن الرجل الصالح يحفظ في ذريته، وتشمل بركة عبادته لهم في الدنيا والآخرة، بشفاعته فيهم ورفع درجتهم إلى أعلى درجة في الجنة لتقر عينه بهم، كما جاء في القرآن ووردت السنة به.

"اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک آدمی کی اولاد کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کی شفاعت کی وجہ سے اس کی عبادت کی برکت اس کی اولاد کو بھی دنیا و آخرت میں حاصل ہوتی ہے، نیز اس کی اولاد کے جنت میں بھی درجات بلند کیے جاتے ہیں تاکہ اسے اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہو جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔"

📗 - [ تفسير ابن كثير : ١٨٥/٥ ]

سعید بن المسیب رحمه اللّٰه فرماتے ہیں :

إني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي.

"میں نماز پڑھتا ہوں اور اولاد کا خیال آ جاتا ہے تو نماز اور بڑھا دیتا ہوں۔"

📗 - [ تفسير البغوي : ١٩٦/٥ ]
 
Top