ذیشان خان

Administrator
"الستار" کو اسمائے حسنی میں سے ماننے میں حرج کیا ہے؟

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

میں نے ایک پوسٹ میں ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالی کا کوئی نام ”الستار“ کتاب وسنت میں وارد نہیں ہے، صحیح نام ”الستیر“ ہے، جس پر بعض احباب اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الستار اور الستیر دونوں ستر سے ماخوذ مبالغہ کے صیغے ہیں، اس لئے چاہے الستار کہیں یا الستیر دونوں نام اللہ کے لئے درست ہیں.

میں نے ان سے کہا کہ کسی کا نام والدین نے عبد الغفور رکھا ہو تو اسے عبد الغفار کہہ کر بلانا کیسا ہوگا؟

واضح رہے کہ الغفور اور الغفار دونوں اللہ کے نام ہیں، لیکن کیا وہ شخص ہمیں اس بات کی اجازت دےگا کہ ہم اپنی طرف سے اس کا نام بدل دیں؟
نہیں، اور قطعا نہیں۔

پھر یہ حرکت اللہ کے نام کے ساتھ ہی کیوں؟

جب کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک اللہ تعالی کے نام توقیفی ہیں۔ توقیفی کا معنی یہ کہ ہم اپنی طرف سے اس کا کوئی نام گھڑ نہیں سکتے۔ جو کچھ کتاب وسنت میں وارد ہے بس اسی پر اکتفا کرنا ہے۔

گرچہ الستیر اور الستار دونوں کا معنی ایک ہی ہو، لیکن الستار کتاب وسنت میں نہیں آیا ہے، جب کہ الستیر یہ اللہ کا ایک پیارا نام ہے، اور سنت سے اس کی دلیل موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "إن الله عز وجل حيى ستير يحب الحياء والستر , فإذا اغتسل أحدكم فليستتر".
سنن أبی داود (4012) وغیرہ، علامہ الباني رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل (7/367) حدیث نمبر (2335) میں اسے صحیح کہا ہے۔

اس لئے ہم اپنی طرف سے قیاس کرتے ہوئے نہ اس کا نام الستار رکھ سکتے ہیں، نہ الساتر۔

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں بہت ہی عمدہ بحث پیش کی ہے۔ فرماتے ہیں:
العليم، الخبير یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن العاقل، الفقيه نہیں۔
اسی طرح السميع البصير یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن السامع، الباصر، الناظر نہیں.
البر، الرحيم، الودود، یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن الرفيق، الشفوق نہیں۔
العلي، العظيم، یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن الرفيع، الشريف نہیں۔
الكريم یہ اللہ کا نام ہے، لیکن السخي نہیں۔
الخالق، البارىء، المصور، یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن الفاعل، الصانع، المشكل نہیں۔
الغفور، العفو یہ اللہ کے نام ہیں، لیکن الصفوح، الساتر نہیں۔ (دیکھیں: بدائع الفوائد لابن القیم 1/296)

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس میں ”الرفیق” کے بھی اسمائے حسنی میں سے ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ اسمائے حسنی میں سے ہے۔
اس کی دلیل یہ حدیث ہے: «إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِى عَلَيْهِ مَا لاَ يُعْطِى عَلَى الْعُنْفِ». (صحیح بخاری، حدیث نمبر 6927، وصحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)

خود علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے "نونیہ" (ص208) میں اسے اسمائے حسنی میں سے شمار کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
وهُوَ الرَّفِيقُ يُحبُّ أهل الرِّفْقِ بَلْ ... يُعطيهمُ بالرِّفقِ فَوْق أمَانِي
اسی طرح مدارج السالکین (2/270) میں بھی ”الرفیق“ کو اسمائے حسنی میں سے شمار کیا ہے۔
فسبحان من لا يسهو ولا ينسى.

ان کے علاوہ بھی متعدد علما نے ”الرفیق“ کو اسمائے حسنی میں سے شمار کیا ہے۔ مثلا: حافظ ابن مندہ، ابن حزم، قرطبی، اور معاصرین میں سے شیخ ابن عثیمین، سعید بن علی بن وہف القحطانی اور محمد بن خلیفہ التمیمی۔
اس لئے صحیح یہ ہے کہ ”الرفیق“ اللہ کے بے شمار پیارے ناموں میں سے ایک پیارا نام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 
Top