*کیا شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا تھا ؟*

✍:مامون رشید ہارون رشید سلفی.

فہم سلف صالحین کے مطابق اتباع کتاب و سنت کے مناد اور دعوت توحید کے پرچارک عظیم سلفی (وہابی) تحریک کو عنفوان تحریک سے لے کر آج تک ہمیشہ دشمنان توحید اور تقلدیوں کی جانب سے بے سروپا الزامات اور کذب وتزویر سے لبریز اتہامات کا سامنا کرنا پڑا ہے،لیکن ہر دور میں تحریک کے جیالوں نے ان الزامات کا دندان شکن جواب دے کر ایسے باطل پرستوں کو لوہے کے چنے چبوائے ہیں.
انہیں اباطیل اور اتہامات میں سے ایک یہ ہے کہ "محمد بن عبد الوہاب نے خلافت عثمانیہ کے خلفاء کے خلاف خروج کیا تھا،اور یہ کہ وھابیوں کی دعوت کا ظہور ہی خلافت عثمانیہ کے زوال کا سبب تھا،دولت اسلامیہ میں وھابیوں نے محمد بن سعود اورپھر ان کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش برپا کی توبرطانیہ نے انہیں مال واسلحہ سے نوازا، ان کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے زیرِ حکومت بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذھبی اساس پر تھی، یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اور ان کے ابھارنے کی بنا پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اور اسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا."اخوانیوں ارہابیوں اور تحریکیوں کی جانب سے یہ اتہام طرازی اس وقت زیادہ زوروں پر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حدیث سلفی علمائے عرب کتاب و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں بارہا خطبات ودروس اور عام مجالس میں اپنی عوام کو حاکم وقت کی سمع وطاعت کی ترغیب دلاتے اور مخالفت سے منع کرتے رہتے ہیں، جبکہ اخوانیت زدہ تحریکی فکر کے علم بردار خطبا ودعاۃ خروج مظاہرے( Protest) اور انقلاب کی دعوت دیتے ہیں اور جب ان کے سامنے سلفی کبار اہل علم کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ یہ الزام لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سلفیوں کے جد اعلی محمد بن عبد الوہاب نے خود خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا تھا تو جب ان کے لیے مظاہرہ اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج جائز تھا تو ہمارے لیے کیوں نہیں؟

اس مختصر سی تحریر میں میں مذکورہ اتہام کی نقاب کشائی کروں گا.

قارئین کرام: اس سے پہلے کہ ہم مذکورہ عقدہ کو حل کریں کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب نے خروج کیا تھا یا نہیں یہ جان لیتے ہیں کہ خود شیخ الاسلام محمد بن عبد کا خروج کے تعلق سے کیا موقف تھا.

شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"میں ائمۃ المسلمین کی سمع وطاعت واجب سمجھتا ہوں خواہ وہ نیک ہوں یا فاسق و فاجر جب تک کہ وہ معصیت الہی کا حکم نہ دیں،اور جو شخص خلیفہ بنا دیا گیا، لوگ اس کی خلافت پر متفق ہو گئے اور اس سے راضی ہو گئے،یا وہ لوگوں پر بزور شمشیر غالب آ گیا یہاں تک کہ خلیفہ بن گیا تو اس کی اطاعت واجب ہو گئی اور اس کے خلاف خروج حرام ہو گیا"(مجموعة مؤلفات الشيخ محمد بن عبد الوھاب"5/11)

ایک دوسری جگہ پر شيخ فرماتے ہیں :"اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں گرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو" ۔
مجموع مؤ‎لفات الشیخ ( 1 / 394 )

اس وضاحت کے بعد عرض ہے کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب اور ان کے معاونین نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا تھا اس کے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں:

پہلی دلیل: نجد کا علاقہ جہاں سے شیخ رحمہ اللہ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا وہ عثمانی خلافت کے زیر اثر نہیں تھا اور نہ ہی عثمانی خلفا اسے اپنے حیطہ حکومت میں شمار کرتے تھے، وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں نجد نہایت بنجر اور بالکل صحرائی علاقہ تھا جہاں سے کسی قسم کے منافع کی امید نہ تھی سو وہ حکمرانوں کی نظر عنایت سے دور تھا، یہی سبب ہے کہ نہ تو عثمانی سلطنت کے رجسٹروں میں ماتحتی امارتوں کی فہرست میں کہیں نجد کا ذکر ہے اور نہ ان لوگوں کی جانب سے کبھی کسی امیر یا والی کے وہاں بھیجنے کا ذکر ہی کوئی تذکرہ ہے.

ڈاکٹر صالح عبود لکھتے ہیں :
نجد پر عمومی طور پر خلافت عثمانیہ کا اثر و رسوخ قائم ہی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئي اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا ، اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کا ظہور ہوا تو اس وقت تک ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں پہنچی تھی.
اس تاریخی حقیقت پر دولت عثمانیہ کی اداری تقسیمات کا استقراء دلالت کرتا ہے، ایک ترکی لیٹر جس کا عنوان "قوانين آل عثمان مضامين دفتر الديوان " ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین ،جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ الموافق 1609میلادی میں خزانچی تھا، اس لیٹر کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ گیارہ ھجری کے اوائل میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں منقسم تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائے احساء کا علاقہ لیکن وہ بھی اگر ہم اسے نجد میں شامل کریں تو۔۔۔"( عقیدۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی:1/27 (نقلا من كتاب دعاوي المناوئين لدعوة الشخ:1/235)

اسی طرح شیخ عبد اللہ بن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اور جو کچھ بھی ہو لیکن شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کے ظہور سے قبل نجد نے عثمانیوں کے اثر و رسوخ کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا تھا،اسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفوذ نہيں دیکھا جو وہاں حوادث پر اپنی موجودگی کو مسلط کرتا ہو، اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کے نفوذ نے اور نہ بنی خالد کے اورنہ ہی اس کے دوسرے اطراف میں اشراف کے اثر و رسوخ نے کسی قسم کا سیاسی استقرار قائم کیا، نجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں بدستور قائم رہیں اور ان کے مختلف قبائل کے درمیان باہمی کشمکش پر تشدد طریقے پر جاری رہا۔(محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص:11 بحوالہ دعاوی المناوئین (1/235 ) ۔

علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہيں :
"میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا تھا،کیونکہ نجد میں ترکیوں کی کوئی ریاست یا امارت ہی نہ تھی بلکہ نجد تو چھوٹی چھوٹی امارتوں اور بہت سی پھیلی ہوئی بستیوں کا مجموعہ تھا۔اور ان میں سے ہر ایک شہر اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی کیوں نہ ہو ایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اور ان امارتوں کے درمیان لڑائياں، جنگيں اوراختلافات رہتے تھے ،شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا بلکہ ان کا خروج تو اپنے علاقے کے بگڑے ہوئے حالات کے خلاف تھا، انہوں نے اللہ تعالی کے لیے جہاد کیا اور اس کا حق بھی ادا کیا، اس کے راستے میں مسلسل صبر کیا حتی کہ اس دعوت کا نور دوسرے شہروں اور علاقوں تک جا پہنچا ۔( دعاوی المناوئین ص:237 )

دکتور عجیل النشمی لکھتے ہیں:"نجد اور اس کے گرد ونواح کے علاقوں کو خلافت عثمانیہ نے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی،اور شاید ملک نجد کی طرف اس کی اس پالیسی کی وجہ ایک طرف تو سرزمین نجد کی وسعت اور اس کے حدود کی غیر محدودیت تھی،جبکہ دوسری طرف قبائلی اور خاندانی تقسیم کو ممکن بنانا تھا"
(دعاوی المناوئین ص:236)

أمين سعيد لکھتے ہیں:"ہم نے اموی اور عباسی ریاستوں کی تاریخ ،مصر میں ایوبیوں اور مملوکوں کی تاریخ، اور پھر ان کے بعد آنے والے ان کے وارث بننے والے عثمانیوں کی تاریخ کے مطالعہ کے دوران بہت کوشش کی کہ ہمیں کسی ایک والی ، یا حاکم کا نام مل جائے جسے انہوں(امویوں، عباسیوں، ایوبیوں اور عثمانیوں) نے یا ان میں سے کسی ایک نے نجد یا اس کے وسطی ، شمالی ، مغربی ، یا جنوبی صوبوں میں سے کسی ایک میں بھی بھیجا ہو،لیکن ہمیں کچھ بھی نہیں ملا،......."(تاريخ الدولة السعودية ص:23)

مزید لکھتے ہیں:"نجد میں ہر شیخ یا امیر اپنے ملک کو سنبھالنے میں مکمل طور پر آزاد تھا، وہ ترک کو نہیں جانتے تھے، اور نہ ہی ترک انہیں جانتے تھے۔"(دعاوي المناوئين ص:236)

جیکولین پیرن(Jacqueline Perrin) لکھتا ہے:"لیکن جزیرہ نما عرب اپنے ان صحراؤں کی بدولت ترکی کے ہاتھوں فتح ہونے سے محفوظ رہا ، جن میں پیاس کی وجہ سے وہ فوجیں ہلاک ہو گئیں جنہیں سلطان سلیمان نے 1550 ء میں بھیجا تھا"(اكتشاف جزيرة العرب"، نقله إلى العربية قدري قلعجي ص:24)
اسی طرح کی بات علامہ نسیب الرفاعی ، حسین خزعل وغیرہما اہل علم نے بھی ذکر کی ہے...

تمام تر تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ نجد کا علاقہ عثمانی سلطنت کے تابع نہیں تھا اور جب نجد اور اہل نجد عثمانی خلیفہ کے رعایا میں شامل نہ تھے تو ان کی مخالفت خروج نہیں کہلائے گا جس طرح کہ ہندوستانیوں کا مظاہرہ کرنا سعودی حکومت کے خلاف خروج نہیں کہلاتا ہے.


دوسری وجہ: اگر بطور مفروضہ یہ مان بھی لیا جائے کہ نجد خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا تو بھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب نے کبھی بھی عثمانی خلافت کے تعلق سے کچھ بھی نہیں کہا تھا اور نہ ہی عملی طور پر ان کے خلاف کچھ کیا تھا آپ کا دائرہ کار نجد اور اور اس کے گرد ونواح تک محدود تھا،حاقدین حاسدین اور علمائے سو کی باتوں میں آکر ظلم و ستم اور جنگ و جدال کی ابتداء تو خود عثمانی خلیفہ نے کی تھی.

دکتور عجیل نشمی لکھتے ہیں:"ہم اطمنان کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تحریروں میں خلافت عثمانیہ کے خلاف کسی قسم کے مخالفانہ موقف کی صراحت نہیں ملتی۔.......
اور ہمیں شیخ کا کوئی ایسا فتویٰ نہیں ملا جس میں وہ خلافت عثمانیہ کی تکفیر کرتے ہوں، اس کے بجائے انہوں نے اپنے فتاویٰ جات قریبی وادیوں تک ہی محدود رکھا تھے جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ یہ شرک میں مبتلا ہیں..."(دعاوی المناوئین ص:238)

مزید لکھتے ہیں:شیخ کی پالیسی اور حجاز کے تعلق سے ان کا رویہ یہ تھا کہ انہوں نے زندگی بھر میں کبھی بھی لوگوں کو اس کے خلاف نہ ہی ابھارا تھا نہ اس سے دشمنی کی تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس سے جنگ کرنے اور اس پر قبضہ جمانے کی دعوت دی تھی، کیونکہ انہیں احساس تھا کہ خلافت کے خلاف خروج کے طور پر اس فعل کی ترجمانی کی جاسکتی ہے"(دعاوی المناوئین ص:238)

تیسری وجہ: اگر مذکورہ بالا ساری چیزیں مان لی جائیں کہ نجد خلافت عثمانیہ کے تابع تھا اور شیخ الاسلام نے ان کے خلاف کچھ کیا بھی تھا تب بھی اس سے خروج ثابت نہیں ہوتا کیونکہ علماء الدعوہ کے نزدیک خلافت عثمانیہ کافر اور عثمانی سلطنتیں دار الحرب تھیں اور کافر حاکم کے خلاف خروج اور ان کی مخالفت جائز ہے.
اس سلسلے میں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کے اتباع کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں:


شيخ عبد الرحمن بن عبد اللطيف بن عبد الله بن عبد اللطيف ال الشيخ رحمہ نے فرمایا ہے: "ومعلوم أن الدولة التركية كانت وثنية تدين بالشرك والبدع وتحميها"
"یہ بات معلوم ہے کہ خلافت عثمانیہ بت پرست تھی شرک وبدعت کو دین سمجھتی اور ان کی حفاظت کرتی تھی"(علماء الدعوة للشيخ عبد الرحمن. ..ص:56)

شیخ سلیمان بن سحمان نے فرمایا ہے:"وما قال في الأتراك من وصف كفرهم فحق فهم من أكفر الناس في النحل
اور ترکوں کو کفر سے متصف کرنے کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے...........وہ حق ہے یہ لوگ دین میں سب سے بڑے کافروں میں سے ہیں.(ديوان ابن سحمان) ص 191.


شیخ عبد الله بن عبد اللطيف رحمه الله تعالى (متوفی 1339 هـ) نے فرمایا ہے:"من لم يعرف كفر الدولة ولم يفرق بينهم وبين البغاة من المسلمين لم يعرف معنى لا إله إلا الله، فإن اعتقد ......" جو شخص خلافت عثمانیہ کے کفر کو نہیں پہچانتا اور ان کے اور شرکش مسلمانوں کے مابین تفریق نہیں کر پاتا وہ لا الہ الا اللہ کے معنی کو نہیں جانتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خلافت عثمانیہ مسلمان ہیں تو یہ اور زیادہ شدید اور سنگین ہے، یہی کافروں کے کفر میں شک کرنا ہے، اور جو شخص انہیں بلاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ان کا تعاون کرتا ہے چاہے کسی بھی قسم کا تعاون ہو وہ صریح ارتداد ہے" (الدرر السنية 8/242)

علامہ حمد بن عتیق رحمہ اللہ(1301ھ) اس حکومت کے سب بڑے مخالفین میں سے تھے جب عثمانی افواج جزیرہ عرب میں داخل ہوئیں اور بعض خائنین اور گمراہ دیہاتی افراد ان کی صفوں میں گھس کر ان کا تعاون کرنے لگے تو آپ نے ایسے لوگوں کی تکفیر اور ان کے مرتد ہونے کے بیان میں ایک کتاب لکھی جس کا نام "سبيل النجاة والفكاك من موالاة المرتدين والأتراك" تھا،غور کریں جب ترکوں کی حمایت کرنے والے مرتد ٹھہرے تو خود عثمانی ترک کیا قرار پائیں گے.

اسی طرح امام سعود بن عبد العزيز رحمہ اللہ (الدرر السنية) 7/397)، شیخ سليمان بن عبد الوهاب بن الشيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ .(الدرر السنية) 7/ 57 - 69)، شيخ عبد اللطيف بن عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ (الدرر السنية) 7/184)،اور شیخ عبد الله بن محمد بن سليم رحمہ اللہ (تذكرة أولي النهى 3/ 275) نے بھی خلافت عثمانیہ کو کافر قرار دیا ہے .

خلاصہ یہ ہے کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کے متبعین کے ہاں خلافت عثمانیہ کافر ہے اور کافر کے خلاف خروج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے.

چوتھی دلیل: اگر شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کو خارجی اور سعودی حکومت کو خوارج کی حکومت تسلیم کر لیا جائے تو عثمانی خلافت پر کیا حکم لگایا جائے گا اس سے قبل عباسی خلافت اور اس سے بھی قبل اموی خلافت پر کیا حکم لگایا جائے گا.....کیا یہ ساری خلافتیں خارجی تھیں؟؟؟ اگر سعودی حکومت خلافت عثمانیہ کی مخالفت کی وجہ سے خارجی حکومت مان لی جائے تو یہ ساری حکومتیں بھی اپنے سے ماسبق خلافتوں کی مخالفت کی وجہ سے خارجی حکومت قرار پائیں گی.فما ھوا جوابھم فھو جوابنا

جہاں تک وہابیوں اور انگریزوں کے مابین دوستی اور تعاون کا الزام ہے تو اس قدر کمزور اور بے بنیاد ہے کہ اس کے سلسلے میں زیادہ بحث وتفصیل کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ تاریخ آزادی ہند سے واقفیت رکھنے والے اس امر سے آگاہ ہیں کہ انگریزوں کے ہاں وہابی سب سے بڑا دہشت گرد متصور ہوتا تھا چنانچہ ہندوستان میں اگر وہ کسی کو سزا دینا چاہتے تو اس پر وہابیت کا لیبل لگا کر پس دیوار زنداں پھینک دیتے تھے.

مولانا محمد منظورنعمانی صاحب لکھتے ہیں :
ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتے ہوئے اپنے مخالفین کو وہابی کہنا شروع کردیا اور اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وہابیت کا نام دیا ۔
اور اسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کو بھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وہابی کہنا شروع کیا اور ان پر تنگی شروع کردی ۔( دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 - 106 )

اخیر میں عرض ہے کہ یہ سب دشمنان توحید کی شبہات اور فتنہ انگیزیاں ہیں جو شرک وبدعت اور قبر پرستی ومزار پرستی کو رواج دینے کے لیے سر توڑ محنت کر رہے ہیں لہذا ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کے سروں کو کچلنے کی ضرورت ہے اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توحید وسنت پر استقامت عطا فرمائے آمین.
 
Top