ذیشان خان

Administrator
اذان کے وقت بات کرنا

حترم جناب مقبول احمد صاحب السلام علیکم گذارش ہے کہ آپ کی ویب سائٹ بلاگ سے حاصل شدہ تصویر آپ کو ارسال کر رہا ہوں ،آپ سے گذارش ہے کہ قرآن و احادیث کے واضح حوالہ جات کی روشنی میں دوران اذان بات چیت ،درس و تدریس کی اجازت کے مسئلہ کے بارے میں اظہار خیال فرمائیں .
سوال : کیا دوران اذان تعلیم وتدریس کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے ؟اگر ہاں آیت قرآن یا حدیث یا صحابہ کے عمل کے بارے میں صحیح اسناد سے معلومات دیں تاکہ معاملہ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
آپ کی راہنمائی کا منتظر
کے-مشتاق احمد اسلام آباد
الجواب بعون اللہ الوھاب
اس میں کوئی شک نہیں کہ افضل یہی ہے کہ اذان کے وقت خاموشی اختیار کی جائے اور بغور اذان سنی جائے اور اس کا جواب دیا جائے ۔ مگر عقلی اور نقلی دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ ضرورتا اذان کے دوران بات کرنا جائز ہے ۔ مثلا درس و تدریس ہو، کسی کو ضرورتا مخاطب کرنا ہو یاکوئی کام سوپنا ہویا پھر کوئی کام ہی کیوں نہ ہو وغیرہ ۔
دلائل ملاحظہ ہوں۔
(1) اولا بات کرنا ایک جائز عمل ہےاس کی ممانعت کہاں کہاں ہے اسلام نے وضاحت کردی ہے ، اذان وہ مقام نہیں جہاں اسلام نے بات کرنے سے منع کیا ہو۔
(2) ثانیا اذان کے وقت بات کرنے کی صریح دلیل ملتی ہے ، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے : "باب الكلام في الأذان" یعنی باب : اذان کے دوران بات کرنے کے بیان میں
اور اس بات کے تحت مندرجہ ذیل نصوص ذکر کرتے ہیں۔
وتكلم سليمان بن صرد في أذانه. وقال الحسن لا بأس أن يضحك وهو يؤذن أو يقيم. ترجمہ : اور سلیمان بن صرد صحابی نے اذان کے دوران بات کی اور حضرت حسن بصری نے کہا کہ اگر ایک شخص اذان یا تکبیر کہتے ہوئے ہنس دے تو کوئی حرج نہیں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد، عن أيوب، وعبد الحميد، صاحب الزيادي وعاصم الأحول عن عبد الله بن الحارث قال خطبنا ابن عباس في يوم ردغ، فلما بلغ المؤذن حى على الصلاة. فأمره أن ينادي الصلاة في الرحال. فنظر القوم بعضهم إلى بعض فقال فعل هذا من هو خير منه وإنها عزمة.
ترجمہ : ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی اور عبدالحمید بن دینار صاحب الزیادی اور عاصم احول سے بیان کیا، انھوں نے عبداللہ بن حارث بصری سے، انھوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو رہی تھی۔ مؤذن جب حی علی الصلوٰۃ پر پہنچا تو آپ نے اس سے الصلوٰۃ فی الرحال کہنے کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انھوں نے بھی کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔
پہلے نص میں دوران اذان ہنسنے کا ذکر ہے ، یہ بھی ایک عمل ہے ، اتفاقا اگر کوئی دوران اذان ہنس دے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح دوسرے نص میں دوران اذان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے باقاعدہ کلام ثابت ہے ۔ معلوم ہوا کہ ایسے خاص موقع پر دوران اذان کلام کرنا درست ہے۔
(3) ثالثا اذان ہوتے وقت اس کا جواب زبان حال سے دینا ہے ، اور کلام کا تعلق زبان قال سے ہے ۔ ایک آدمی بات کرتے ہوئے بھی اذان کا جواب دے سکتا ہے ۔
(4) اہل علم سے دوران اذان کلام کرنا بھی منقول ہے ، اور اس پہ جید علماء کے فتاوے بھی ہیں۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اذان کے دوران اور اس کے بعد کلام کرنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مؤذن اور اس کا جواب دینے کے لئے سنت یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ (کلام کا جزء)
(5) لوگوں میں اذان کے دوران بات کرنے کا خوف جھوٹی روایات منتشر ہونے کی وجہ سے ہے ۔جیساکہ لوگوں میں مشہور ہے :"اذان کے وقت بات کرنے موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا"۔ یہ جھوٹی بات ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔
اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ :"اذان کے وقت بات کرنے والے پہ فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے"۔ یہ بھی جھوٹی اور گھڑی ہوئی بات ہے ۔ اس لئے ان باتوں کو نبی ﷺ کی طرف قطعی منسوب نہ کریں۔
خلاصہ کلام ضرورت کے تحت دوران اذان بات کرسکتے ہیں مگر یاد رہے اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اذان ہوتے وقت فضول باتیں کی جائیں ۔ کتنے تعجب کی بات ہے لوگ اذان کے وقت بات کرنے سے ڈرتے ہیں مگر اس وقت برائی کرنے سے نہیں ڈرتے ، یا اذان کی پکار پہ مسجد کو نہیں جاتے جو کہ فریضہ ہے ۔
فاعتبروا یااولی الالباب
آپ کا بھائی
مقبول احمد سلفی
دفترتعاونی برائے دعوت و ارشاد شمال طائف (مسرہ) سعودی عرب​
 
Top