ذیشان خان

Administrator
قرآناً عجباً

از قلم استاذہ نگہت ہاشمی

عربی زبان میں تفسیر کے لفظی معنی "کھولنے"کےہیں۔اور اصطلاح میں قرآن مجید کے معانی و مفہوم کو وضاحت سے بیان کرنے کو تفسیر کہتےہیں۔مجھے جن تفاسیر سے استفادہ کا شرف حاصل ہوا اُن میں یہ تفاسیر شامل ہیں:

سبقاْ سبقاّ تفسیر از شیخ القرآن مولانا اللہ یار خان
فی ظلال القرآن از سید قطب
تفہیم القرآن از ابو الاعلٰی مودودی
تدبر قرآن از امین احسن اصلاحی
تفسیر ضیا القرآن از مفتی محمد کرم شاہ الازہری
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

استاذہ نگہت ہاشمی اُن چندقابل فخر خواتین میں سےہیں جنھوں نےخونِ جگر سےچمن کی آبیاری کی ہے۔ قرآن کی تعلیم کو خواتین میں ایک مشن بنانے میں بے انتہا محنت کی ہے ۔ انھوں نے قرآن کا ترجمہ وتفسیر پڑھانے کے ساتھ ساتھ اسے تحریر میں ڈھال کر الگ اور منفرد کام کردیا ہے۔ یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ یہ دوچار سالوں کا نہیں، زندگی کاسفر ہوتا ہے۔دل جلانا پڑتا،روشنی کے لیے۔ پاؤں شل ہوجاتےہیں سفر کی جستجو میں۔منزل اورمحبت بڑی ہوتی ہے سو تھکن اورجلن محسوس نہیں ہوتی۔عمربھر کاریاض،راحت وتسکین میں بدل جاتا ہے۔

میں "قرآناً عجباً"کا مطالعہ کروں گا اور مطالعہ قرآن کا ذوق
 
Top