ذیشان خان

Administrator
وعد و وعید کا اسلوب اپنایا جائے

✍تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

قرآن و سنت میں انبیاء و رسل کی دعوت الی اللہ کا تفصیلی تذکرہ پایا جاتا ہے ،
اور قرآن و سنت میں انبیاء و رسل کے دعوتی اسلوب کا تذکرہ بھی موجود ہے،
انبیاء و رسل کا دعوتی اسلوب دو طرح کا ہے
اور وہ دونوں اسلوب لازم و ملزوم کی حیثیت سے درحقیقت ایک اسلوب کے مانند ہیں۔
ایک تبشیر کا اسلوب ہے اور ایک إنذار کا اسلوب ہے،
ایک وعد کا اسلوب ہے اور ایک وعید کا اسلوب ہے ،
ایک اجر و ثواب کا اسلوب ہے اور ایک عذاب و عقاب کا اسلوب ہے۔
آسی لئے اللہ تعالٰی نے قرآن میں انبیاء و رسل کو مبشرين و منذرين
خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے کہا ہے۔
یعنی انبیاء و رسل الله کے بندوں کے روبرو اہل ایمان کے لئے دنیا و آخرت میں ملنے والے انعامات و اکرمات کو تعالٰی کے وعدوں کی روشنی میں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔
اور اللہ تعالٰی پر انبیاء و رسل پر اور یوم آخرت ایمان لانے کی اعتقادی اور عملی ترغیب دیتے ہیں۔
اور یہ انبیاء و رسل اللہ کے بندوں کے روبرو اہل کفر و شرک اور اہل معصیت کے لئے دنیا و آخرت میں موجود اللہ کے عذاب و عقاب کو الله کی وعیدوں کی روشنی میں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ۔

آج کے دور میں بھی علماء کرام کو ورثہء انبیاء ہونے کی حیثیت سے غیر مسلموں میں اور مسلمانوں میں دعوت دین پیش کرتے ہوئے اسی انبیائی دعوتی اسلوب کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔

اللہ تعالٰی ہم کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 
Top