ذیشان خان

Administrator
رسول اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش سے متعلق ایک تحریف شدہ روایت

✍⁩ کفایت اللہ سنابلی

بعض حضرات ”تلخیص المستدرک“ سے ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی تاریخ پیدائش (12 ) بارہ ربیع الاول تھی۔
ان کی پیش کردہ روایت یہ ہے:
”عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : ولد النبي ﷺ عام الفيل لاثنتي عشرة ليلة مضت من شهر ربيع الأول“
”حضرت سعید بن جبیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ بنی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں۔ پیر کے روز ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو ہوئی“
[تلخیص المستدرک ،جلد2، صفحہ 603]

جوابا عرض ہے کہ:
ان الفاظ کے ساتھ مذکورہ روایت کا ذخیرہ احادیث میں کوئی وجود ہی نہیں ہے ، دنیا کا کوئی بھی شخص اس روایت کو کسی سند والی کتاب میں پیش نہیں کرسکتا۔
.
(((اصل کتاب ”مستدرک“ میں یہ روایت مذکورہ الفاظ کے ساتھ موجود نہیں)))
دراصل بات یہ ہے کہ ’’تلخیص المستدرک‘‘ کی اصل ’’المستدرک للحاکم‘‘ ہے، امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسی کتاب کی تلخیص کی ہے ، اوراس اصل کتاب میں بلکہ اس کے کسی بھی مطبوعہ یا مخطوطہ نسخہ میں یہ روایت مذکوہ الفاظ کےساتھ یعنی تاریخ پیدائش والی بات کے ساتھ ہرگزنہیں ہے بلکہ اس میں صرف سال یعنی عام الفیل کا ذکر ہے ، ملاحظہ ہو اصل کتاب مستدرک سے یہ روایت:
امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
”حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ، حدثنا محمد بن إسحاق الصغاني ، حدثنا حجاج بن محمد ، حدثنا يونس بن أبي إسحاق ، عن أبيه ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال :« ولد النبي ﷺ عام الفيل». هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه“
”صحابی رسول عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ «آپﷺ کی پیدائش عام الفیل (ہاتھی والے سال) میں ہوئی»“
[المستدرك للحاكم، ط الهند: 2/ 658 رقم4180]
.
”مستدرک حاکم“ کی اس روایت کو غور سے پڑھیں اس میں صرف یہ ہے کہ : ”آپ ﷺ کی ولادت عام الفیل میں ہوئی“
اسی روایت کو امام ذھبی رحمہ اللہ نے ”تلخیص“ میں نقل کیا ہے لہٰذا جب اصل کتاب ”المستدرک“ میں تاریخ پیدائش والے مذکورہ الفاظ نہیں ہیں تو ”تلخیص“ کا حوالہ بے سود ہے۔
یادرہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب ”تلخیص“ سند والی کتاب نہیں ہے بلکہ اصل سند والی کتاب امام حاکم کی ”مستدرک“ ہے جس کی امام ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص کی ہے ، لہٰذا امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس کتاب میں کوئی بات ایسی ملے جو امام حاکم کی اصل کتاب میں نہ ہو تو امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا حوالہ بے سود ہے ۔
بعض محدثین کا منہج تو یہ ہے کہ کوئی راوی کسی کتاب والے محدث کے طریق سے کوئی منفرد والگ تھلگ راویت بیان کرے اوروہ روایت کتاب والے محدث کی کتاب میں نہ ملے تو ایسی روایت مردود ہوگی ۔
مثلا ولید بن مسلم کے طریق سے ایک ایسی حدیث بیان کی گئی جو ولید بن مسلم کی تصنیف کردہ کتاب میں نہ تھی تو امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277) نے اس روایت کو منکر قراردیا اس پر ان کے بیٹے نے سوال کیا اور اس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا:
”لأن حديث ابن أبي العشرين لم يرو أحد سواه وكان الوليد صنف كتاب الصلاة وليس فيه هذا الحديث“
”کیونکہ ابن ابی العشرین کی حدیث کو اس کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ، اور ولید بن مسلم نے نماز پر کتاب تالیف کی ہے اس میں بھی یہ حدیث نہیں ہے“
[علل الحديث لابن أبي حاتم ت، سعد الحميد: 2/ 422]
لہٰذا جب کسی محدث کی کتاب کے خلاف اسی کے طریق سے روایت کردہ منفرد روایت حجت نہیں ہے تو پھر کسی محدث کی کتاب ہی سے نقل کردہ روایت جو اصل کتاب کے الفاظ سے ہٹ کر ہو وہ کیونکر قابل قبول ہوسکتی ہے۔
.
(((”تلخیص“ کے ساتھ موجود ”مستدرک“ کے نسخہ میں بھی زیر بحث روایت کے ساتھ مذکورہ الفاظ نہیں)))
زیر بحث روایت کو ”تلخیص“ کے جس مطبوعہ نسخہ سے نقل کیا جاتا ہے وہ ماضی قریب ہی میں دار المعرفہ بیروت ، لبنان سے اصل کتاب ”مستدرک حاکم“ کے ساتھ طبع ہوا ہے اوراس مطبوعہ نسخہ میں جس صفحہ پر ”تلخیص“ کی زیربحث روایت درج ہے اسی صفحہ کے اوپر ”مستدرک حاکم“ میں وہی روایت موجود ہے مگر اس میں ”تلخیص“ والے زائد الفاظ نہیں ہیں ۔
[ملاحظہ ہو اس مطبوعہ نسخہ سے متعلقہ صفحہ کا فوٹو، عکس نمبر ا]
.
معلوم ہواکہ ”تلخیص“ کے محولہ مطبوعہ نسخہ میں کاتب کی غلطی سے ایک روایت میں کچھ الفاظ زیادہ بڑھ گئے ، یہ کیسے ہوا اس کی تفصیل آگے ملاحظہ ہو۔
.
(((کاتب نے کس طرح غلطی کی ؟)))
دراصل ”مستدرک حاکم“ میں زیر بحث روایت کے بعد ایک اور روایت ہے اوراس کے بعد ”ابن اسحاق“ کا یہ قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بارہ ربیع الاول کو ہوئی تفصیل ملاحظ ہو:
مستدرک حاکم میں تین روایات اس طرح ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ » هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ
حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا أَبِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِيلِ» تَفَرَّدَ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ بِمَرْوَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ »
[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 2/ 659]
.
غورفرمائیں کہ :
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت عام الفیل پر ختم ہوگئی ہے۔
اس کے بعد ایک دوسری روایت یوم الفیل کی ہے ۔
اس کے بعد ابن اسحاق کا قول ہے۔
”تلخیص“ میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ان تینوں روایات کو اسی ترتیب سے نقل کیا ہے جیساکہ آگے ہم مخطوطہ سے متعلقہ صفحہ کا فوٹو پیش کررہے ہیں مگر مطبوعہ نسخہ میں کاتب سے غلطی یہ ہوئی ہے کہ اس نے بیچ کی یوم الفیل والی روایت چھوڑدی اور اوراس کے بعد ابن اسحاق کے قول کو ابن عباس کی روایت کے ساتھ ملادیا۔
یہ غلطی تلخیص کے مطبوعہ نسخہ میں ہے جو ٹائپ ہوکر چھپا ہے لیکن تلخیص کے کسی بھی مخطوطہ میں اس غلطی کا کوئی سراغ ہمیں نہیں مل سکا۔
یادرہے کہ تلخیص کے اس مطبوعہ نسخہ کی طباعت کے وقت تلخیص کے کون سے مخطوطہ کو سامنے رکھا گیا تھا اس بات کی وضاحت کتاب میں بالکل نہیں کی گئی ، لہٰذا تلخیص کے اس مطبوعہ نسخہ کی بنیاد وماخذ مجہول ہے ، نتیجتا اصل کتاب کے خلاف اس کا حوالہ بھی یک قلم مردود ہے۔
.
(((724 ہجری میں امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ”تلخیص“ کا قلمی نسخہ)))
زیربحث روایت میں تاریخ پیدائش والے الفاظ کے باطل ہونے کی ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ”تلخیص“ کے قلمی نسخہ میں زیربحث روایت میں مذکورہ الفاظ نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ اس قلمی نسخہ میں زیربحث روایت کے آگے ایک دوسری روایت کا ذکر ہے پھر اس کے بعد ابن اسحاق کا قول درج ہے کی آپ ﷺ کی تاریخ ولادت 12 ربیع الاول ہے لیکن مطبوعہ نسخہ میں زیربحث روایت اور اگے ابن اسحاق کے قول کے درمیان کی پوری عبارت اس طرح غائب ہے کہ ابن اسحاق کا قول زیربحث روایت کے اخر میں جڑ گیا ہے۔
کاتب کی اسی غلطی کی وجہ بعض نے ابن اسحاق کے قول کو زیربحث روایت کاحصہ سمجھ لیا ہے۔
[ملاحظہ ہو امام ذہبی رحمہ اللہ کے قلمی نسخہ سے متعلقہ صفحہ کا فوٹو، عکس نمبر 2]
.
یہ قلمی نسخہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اورنسخہ کے اختتام پر امام ذہبی رحمہ اللہ نے تاریخ نوشت درج کردی ہے، یادرہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے 724 ہجری سے قبل بھی تلخیص کے نسخے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں لیکن یہ نسخہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا آخری نسخہ ہے اس نسخہ میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے بعض مقامات پر اپنی سابقہ تحقیق سے رجوع بھی کیا ہے مثلا:
مستدرک حاکم کی ایک طویل روایت ہے:
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا أَبُو بَلْجٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ،۔۔۔۔۔۔۔وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ» ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ إِنَّهُ رَضِيَ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، فَهَلْ أَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَالَ: ائْذَنْ لِي فَاضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: وَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ»
[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 143 رقم 4652]
.
امام ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص میں پہلے اس روایت کو امام حاکم کی موافقت کرتے ہوئے صحیح کہا تھا اورمطبوعہ کے نسخہ میں بھی امام ذہبی رحمہ اللہ کی موافقت منقول ہے مگر ہم نے جس نسخہ سے ایک صفحہ کا فوٹو پیش کیا ہے اس نسخہ میں متعلقہ مقام پر امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی اس تحقیق سے رجوع کرلیا ہے اور قلمی نسخہ کے جس صفحہ پر یہ حدیث ہے وہاں حاشیہ لگاتے ہوئے لکھا ہے :
”منکر جدا“
معلوم ہوا کہ ہم نے امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ”تلخیص“ کے جس قلمی نسخہ کا فوٹو پیش کیا ہے اس کی امام ذہبی رحمہ اللہ نے نظرثانی بھی کی ہے۔
اس تفصیل سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوگئی کہ ”تلخیص“ کے مطبوعہ نسخہ میں زیربحث روایت کے ساتھ تاریخ پیدائش والے الفاظ کا اضافہ کاتب کی غلطی ہے اورحقیقت میں یہ ”ابن اسحاق“ کا قول ہے جو کاتب کی غلطی کی وجہ سے زیربحث روایت کے ساتھ جڑ گیا ہے ۔
.
(((خارجی شواہد)))
ہماری بات کی تائید کے لئے خارجی شواہد بھی ہیں اور وہ یہ کہ زیربحث روایت کو امام حاکم کے علاوہ بھی متعدد محدثین نے اسی طریق سے روایت کیا ہے مگر کسی کی روایت میں بھی تاریخ پیدائش والے الفاظ کا اضافہ نہیں ہے ، ملاحظہ ہو:
پہلی خارجی شہادت:
امام طحاوي رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
”حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ“
[شرح مشكل الآثار 15/ 216 رقم 5967]۔
دوسری خارجی شہادت:
امام طبراني رحمه الله (المتوفى360)نے کہا:
”حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «وُلِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ
“[المعجم الكبير للطبراني: 12/ 47 رقم 12432]۔
تیسری اورزبردست خارجی شہادت:
بلکہ امام حاکم کے شاگرد امام بیھقی رحمہ اللہ نے امام حاکم ہی کے طریق سے اسی روایت کو نقل کیا اوراس میں تاریخ پیدائش والے الفاظ نہیں ہیں چنانچہ:
امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
”حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:وُلِدَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم، عَامَ الْفِيلِ“
[دلائل النبوة للبيهقي: 1/ 75]۔
.
(((خلاصہ بحث)))
”تلخیص المستدرک“ کے مطبوعہ نسخہ سے آپ ﷺ کی تاریخ پیدائش 12 ربیع الاول بتلانے والی جو روایت نقل کی جاتی ہے اس میں اخیرکے الفاظ کا اضافہ غلط ہے، حقیقت کی دنیا میں ان اضافہ شدہ الفاظ کے ساتھ اس روایت کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے، نہ تو ”تلخیص المستدرک“ میں اور نہ ہی اس کی اصل کتاب ”المستدرک“ میں کمامضی ، لہٰذا مذکورہ روایت بے اصل ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
 
Top