ذیشان خان

Administrator
توبہ کی نماز
=========
مقبول احمد سلفی
آدمی گناہوں کا پتلہ ہے ، خطائیں ہوتی رہتی ہیں ۔ بنی آدم کو ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہئے ۔ جب بنی آدم سے غلطی ہوتی ہے اور وہ شرمندہ ہوکر اللہ تعالی سے معافی مانگتا ہے، تو وہ اللہ تعالی کو بہت زیادہ معاف کرنے والا پاتا ہے ۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو معافی پہ ابھارا ہے ۔ فرمان عالیشان ہے :
وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورة النــور:31)
ترجمہ : اور ایمان لانے والو ! تم سب اللہ کی طرف توبہ (رجوع) کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
اور نبی ﷺ نے جہاں توبہ پہ ابھارا وہیں آپ کا اس پہ کثرت عمل بھی رہا ہے ، آپ دن میں سوسو بار استغفار کیا کرتے تھے ۔
توبہ کے لئے نمازتوبہ شرط نہیں مستحب ہے توبہ کے لئے ندامت ہی کافی ہے تاہم استغفارکا مستحسن طریقہ یہ ہےکہ بندہ کسی خاص یا عام گناہ کے سرزد ہونے پہ توبہ کرنے کی نیت سے وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد نہایت خلوص دل سے اپنے گناہوں پر نادم ہو اور اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ اس گناہ کو چھوڑ دے اور نہ کرنے کا عزم کر لے تو اﷲ رب العالمین اپنے بندہ کو معاف فرمادیتے ہیں ۔
توبہ کی نماز کی دلیل :
ما مِن عبدٍ يذنبُ ذنبًا، فيُحسنُ الطُّهورَ، ثمَّ يقومُ فيُصلِّي رَكْعتينِ، ثمَّ يستغفِرُ اللَّهَ، إلَّا غفرَ اللَّهُ لَهُ۔(ابوداؤد)
ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی جب گناہ کرتا ہے پھر وضو کرکےدو رکعت نماز پڑھتا ہے اور ﷲ سے استغفار کرتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔
٭ اس حدیث کو البانی صاحب نے صحیح قرار دیا ہے ۔ (صحیح ابوداؤد: 1521)
 
Top