#أخلاق_العلماء‏
قال ابن القيم
جئتُ يوما إلى ‎#شيخ_الاسلام
أُبشِّره بِموت أكبر أعدائه وأشدهم عداوة وأذى له
فنهرني وتنَكّر لي واسترجع
ثم قام مِن فوره إلى بيت أهله فعزَّاهُم
وقال:
إني لكم مكانه،ولا يكون لكم أمر تحتاجون فيه إلى مساعدة إلاَّ وساعدتكم فيه فسرّوا به ودعوا له .
مدارج السالكين 3/79

ترجمانی: #علماء_کے_اخلاق
امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ایک دن میں شیخ الاسلام کے پاس آیا اور آپ کو آپ کے سب سے بڑے دشمن، آپ سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے اور آپ کو سب سے زیادہ تکلیف دینے والے کی موت کی #خوش خبری دی، آپ نے مجھے جھڑکا، مجھ سے اجنبیوں جیسا برتاؤ کیا اور إنا لله وإنا إليه راجعون پڑھا پھر فورا اس کے اہل خانہ کے پاس گئے، تعزیت کی اور کہا: میں آپ سب کے لیے ان کے قائم مقام ہوں، کسی بھی معاملے میں مدد کی ضرورت ہوگی تو میں ضرور مدد کروں گا، اس سے وہ سب خوش ہوگئے اور آپ کو ڈھیر ساری دعائیں دیے۔
أبو حسان المدني
الہاس نگر۔۳
 

Attachments

Top