ذیشان خان

Administrator
ہر شخص کے لئے عدل ایک امتحان ہے۔

تحریر: شعبان بیدار

جس عدل وانصاف کیلئے ہم لمبے لمبے مضامین لکھتے ہیں، لچھے دار تقریریں کرتے ہیں، حکمرانوں اور جماعتوں کو کوستے ہیں، چار چار آنسو بہاتے ہیں، حسر ت وافسوس کرتے ہیں اور قوم وملت کے غم میں اپنی صحت خراب کرتے ہیں اس کیلئے اتنی دوری، اتنی گہرائی، اتنی بلندی سر کرنے کی حاجت نہیں ہے اسے ایک چھوٹے سے سرکل میں دیکھئے اور برتئے پھر ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے عدل خود بہ خود پھیلتا چلا جاءےگا.
مثلا آپ کسی دائرے میں ذمہ دار ہیں تو لوگوں کی بابت کوئی راءے قائم کرنے میں اور کوئی فیصلہ لینے میں اصولوں کا لحاظ فرماییے ذاتی رجحانات ذاتی تعلقات اور اپنے مفاد کے نقطہ نظر سے کبھی کوئی فیصلہ مت لیجئے.
کسی کی لیاقت وصلاحیت پر راءے قائم کرنی ہے تو مخالفات کے باوجود درست راءے کا اظہار کیجئے.
کوئی آپ سے مشورہ طلب کررہا ہے تو دل کی آلودگیوں کو ایک جانب شور کرنے دیجیے مشورہ وہی دیجیے جس کا تقاضا عقل کررہی ہو.
تنظیموں میں، مساجد میں، تجارتی فرموں میں، کمپنیوں میں، اسکولوں، اداروں، مدراس، جماعتوں ہر جگھ پر اس عدل کا امتحان ہے. یہ امتحان ان تمام متعین اور محدود دائروں میں پاس کرلیجیے تب مطالبہ کیجیے کہ پھیلے ہوءے دائروں میں بھی انصاف ہو ان شاء اللہ تعالیٰ اس مطالبہ کی نوبت ہی نہیں آءےگی اور مطالبہ کے بغیر یک گونہ انصاف بہر حال ملے گا.
آپ کے چھوٹے سے گھر میں جہاں بیوی بچے ماں باپ بھائی بہن اور قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں ایک اسی زندگی پر سرسری نگاہ ڈال لیجیے کہ آپ کارویہ کتنا منصفانہ ہے.
لیکن حال تو ہمارا یہ ہے کہ کسی نے مزاج شریف کی موافقت میں کوئی بات کھ دی بس اس کیلئے زمین وآسمان ہم ایک کردیتے ہیں بلکہ بعض متلون تو دعوت بھی کرڈالتے ہیں اور کسی نے ہزار خلوص کے باوجود ذرا سا اختلاف راءے کیا کیا ہم اس کے پیچھے اس کی ایسی تیسی کر ڈالتے ہیں.
دھیان دیجیے تو عدل کا دائرہ بہت وسیع ہے ایک عادل شخص بدگمانی تک سے پرہیز کرتا ہے کیونکہ عدل خیالات کو متوازن کرتا ہے اعمال کو معتدل کرتا ہے افکار میں نظام لاتا ہے طریق اظہار کو سسٹمیٹک کرتا ہے.
سو کہنا یہ ہے کہ ہم آج وطن عزیز میں جس غیر عادلانہ طریق کا شکوہ کررہے ہیں وہ جزاء من جنس العمل ہے اور کچھ نہیں ہے۔
 
Top