عن ابی سعيد الخدری صاحب رسول اﷲ عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أنه قال خير صفوف الرجال الاول و خير صفوف النساء الصف الأخر وکان يامر الرجال أن يتجا فوا فی سجودهم يأمر النسآء أن ينخفضن فی سجود هن وکان يأمر الرجال أن يفر شوا اليسریٰ وينصبوا اليمنی فی التشهدو يأمر النسآء أن يتربعن وقال يا معشر النسآء لا ترفعن أبصار کن فی صلاتکن تنظرن إلی عورات الرجال.
بيهقی، السنن الکبری،2 : 222، الرقم : 3014
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز میں مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری ھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرکار مردوں کو نماز میں سجدہ کے دوران کھل کھلا کر رہنے کی تلقین فرماتے اور عورتوں کو سجدوں میں سمٹ سمٹا کر رہنے کی۔ مردوں کو حکم فرماتے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھائیں اور دایاں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو مربع شکل میں بیٹھنے کا حکم دیتے اور فرمایا عورتو! نماز کے دوران نظریں اٹھا کر مردوں کے ستر نہ دیکھنا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إذا جلست المرأة فی الصلاة وضعت فخذها علی فخذها الاخریٰ و إذا سجدت الصقت بطنها فی فخذيها کأستر مايکون لها وإن اﷲ تعالی ينظر إليها ويقول يا ملآ ئکتی أشهد کم إنی قد غفرت لها.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 222، الرقم : 3014
’’جب عورت نماز میں اپنا ایک ران دوسرے ران پر رکھ کر بیٹھتی ہیں اور دوران سجدہ اپنا پیٹ رانوں سے جوڑ لیتی ہیں جیسے اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر فرماتا ھے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر اس کی بخشش کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘
عن يزيد بن أبی حبيب أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم مر علی إمرأتين تصليان فقال إذا سجدتما فضمّا بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأة ليست فی ذلک کالر جل.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 223، الرقم : 3016
’’یزید بن ابی حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے والی دو عورتوں کے پاس سے گزرے۔ فرمایا جب تم سجدہ میں جاؤ تو گوشت کا کچھ حصہ زمین سے ملا کر رکھا کرو! عورت مرد کی طرح نہیں۔‘‘
 
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ


محترم سائل جواب سے قبل سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ آپ "اسلام علیکم" سلام کا تلفظ درست کر لیں اور "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" لکھا کریں.


جہاں تک پہلی روایت کا تعلق ہے تو یہ روایت اپنے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ ضعیف ہے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام بیہقی فرماتے ہیں "ضعيف لا يحتج بمثله" ( السنن الکبری،2 : 222، الرقم : 3014) یعنی یہ روایت ضعیف ہے ان جیسی احادیث سے احتجاج نہیں کیا جاتا ہے...... اسی طرح امام ذہبی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا ہے "فيه عطاء تركوه" یعنی اس میں عطاء بن عجلان نامی ایک راوی ہے جسے محدّثین نے متروک قرار دیا ہے ...اسی طرح شیخ شعیب ارنؤوط نے مسند احمد میں اس کی تضعیف کی جانب اشارہ کیا ہے( مسند احمد حدیث نمبر: 10994)

البتہ اس حدیث کا شروع والا حصہ( خير صفوف الرجال الأول، وخير صفوف النساء الآخر) اور آخری حصہ (يا معشر النساء، لا ترفعن أبصاركن في صلاتكن تنظرن إلى عورات الرجال....) دوسری صحیح اسانید سے آنے کی وجہ سے صحیح ہے جسے شیخ البانی اور شیخ شعیب ارنؤوط وغیرہما رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے....
 
عن ابی سعيد الخدری صاحب رسول اﷲ عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أنه قال خير صفوف الرجال الاول و خير صفوف النساء الصف الأخر وکان يامر الرجال أن يتجا فوا فی سجودهم يأمر النسآء أن ينخفضن فی سجود هن وکان يأمر الرجال أن يفر شوا اليسریٰ وينصبوا اليمنی فی التشهدو يأمر النسآء أن يتربعن وقال يا معشر النسآء لا ترفعن أبصار کن فی صلاتکن تنظرن إلی عورات الرجال.
بيهقی، السنن الکبری،2 : 222، الرقم : 3014
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز میں مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری ھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرکار مردوں کو نماز میں سجدہ کے دوران کھل کھلا کر رہنے کی تلقین فرماتے اور عورتوں کو سجدوں میں سمٹ سمٹا کر رہنے کی۔ مردوں کو حکم فرماتے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھائیں اور دایاں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو مربع شکل میں بیٹھنے کا حکم دیتے اور فرمایا عورتو! نماز کے دوران نظریں اٹھا کر مردوں کے ستر نہ دیکھنا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إذا جلست المرأة فی الصلاة وضعت فخذها علی فخذها الاخریٰ و إذا سجدت الصقت بطنها فی فخذيها کأستر مايکون لها وإن اﷲ تعالی ينظر إليها ويقول يا ملآ ئکتی أشهد کم إنی قد غفرت لها.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 222، الرقم : 3014
’’جب عورت نماز میں اپنا ایک ران دوسرے ران پر رکھ کر بیٹھتی ہیں اور دوران سجدہ اپنا پیٹ رانوں سے جوڑ لیتی ہیں جیسے اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر فرماتا ھے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر اس کی بخشش کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘
عن يزيد بن أبی حبيب أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم مر علی إمرأتين تصليان فقال إذا سجدتما فضمّا بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأة ليست فی ذلک کالر جل.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 223، الرقم : 3016
’’یزید بن ابی حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے والی دو عورتوں کے پاس سے گزرے۔ فرمایا جب تم سجدہ میں جاؤ تو گوشت کا کچھ حصہ زمین سے ملا کر رکھا کرو! عورت مرد کی طرح نہیں۔‘‘



اور دوسری حدیث ( إذا جلستِ المرأةُ في الصَّلاةِ وضَعت فخِذَها على فخِذِها الأُخرى، وإذا سجَدت ألصَقت بطنَها في فخِذَيها كأستَرِ ما يَكونُ لَها، وإنَّ اللَّهَ تعالى يَنظرُ إليها ويقولُ: يا ملائِكَتي أشهدُكُم أنِّي قد غفرتُ لَها)

کو امام بیہقی نے (السنن الكبرى للبيهقي 2‏/223)کے اندر امام ابن عدي نے (الكامل في الضعفاء 2/214) کے اندر اور أبو نعيم نے «تاريخ أصبهان» (1/200) کے اندر روایت کیا ہے...

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام بیہقی فرماتے ہیں "ضعيف لا يحتج بمثله" ( السنن الکبری،2 :223) یعنی یہ روایت ضعیف ہے ان جیسی احادیث سے احتجاج نہیں کیا جاتا ہے......
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں"فيه الحكم ضعفه ابن معين وغيره وتركه جماعة وراويه عنه محمد بن القاسم الطايكاني متهم"(المهذب 2/662) اس کی سند میں (ابو مطیع حکم بن عبد اللہ بلخی) ہے جسے ابن معین نے ضعیف اور محدثین کی ایک جماعت نے متروک قرار دیا ہے ساتھ ہی اس سے روایت کرنے والا راوی محمد بن قاسم طایکانی بھی جھوٹ سے متہم ہے

اسی طرح اسے امام ابن عدی اور ابن القیسرانی وغیرہم نے ضعیف قرار دیا ہے ساتھ ہی یہ حدیث نماز کی کیفیت سے متعلق وارد متواتر اور متفق علیہ صحیح احادیث کے بھی مخالف ہے جس کی وجہ سے یہ سخت ضعیف روایت ہے.
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ


محترم سائل جواب سے قبل سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ آپ "اسلام علیکم" سلام کا تلفظ درست کر لیں اور "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" لکھا کریں.


جہاں تک پہلی روایت کا تعلق ہے تو یہ روایت اپنے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ ضعیف ہے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام بیہقی فرماتے ہیں "ضعيف لا يحتج بمثله" ( السنن الکبری،2 : 222، الرقم : 3014) یعنی یہ روایت ضعیف ہے ان جیسی احادیث سے احتجاج نہیں کیا جاتا ہے...... اسی طرح امام ذہبی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا ہے "فيه عطاء تركوه" یعنی اس میں عطاء بن عجلان نامی ایک راوی ہے جسے محدّثین نے متروک قرار دیا ہے ...اسی طرح شیخ شعیب ارنؤوط نے مسند احمد میں اس کی تضعیف کی جانب اشارہ کیا ہے( مسند احمد حدیث نمبر: 10994)

البتہ اس حدیث کا شروع والا حصہ( خير صفوف الرجال الأول، وخير صفوف النساء الآخر) اور آخری حصہ (يا معشر النساء، لا ترفعن أبصاركن في صلاتكن تنظرن إلى عورات الرجال....) دوسری صحیح اسانید سے آنے کی وجہ سے صحیح ہے جسے شیخ البانی اور شیخ شعیب ارنؤوط وغیرہما رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے....
 
Top