ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ:۲۹/صفر/۱۴۴۲ھ،مطابق ۱۶/اکتوبر/۲۰۲۰ عیسوی۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل الشیخ
موضوع: ابتلاء وآزمائش کی حکمت۔
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیےہیں جو بلاؤں کو دور کرنے والا اور مصائب کو ٹالنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، دنیا وآخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سرداراور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور چنندہ وبرگزیدہ رسو ل ہیں، اے اللہ تو اُن پر اور اُن نیک آل واصحاب پر درود وسلام نازل فرما۔
امابعد!
اے لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ لوگوں کو اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کیا کرو، وہ تمہارے اعمال کو درست کردے گا اور تمہارے گناہوں کومعاف فرمادے گا، اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے تو اُس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی۔
اللہ کے بندو!
مختلف امتوں کے بارے میں اللہ تعالی اپنی سنت اور نظام کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ ﴿۹۴﴾
اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں اپنا کوئی نبی بھیجا تو اس بستی والوں کو بھوک اور مصیبت میں مبتلا کیا، تاکہ اللہ کے حضور عاجزی وانکساری اختیار کریں۔“(اعراف: 94)۔
بأساء سے مراد رزق میں تنگی اور پریشانی ہے۔
اور ضراء سے مراد دنیاوی مال واسباب میں نقصان اور تنگ حالی ہے۔
اللہ تعالی نےانسانوں کو مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا کرنے کی حکمت یہ بیان کی ہے تاکہ انسان گڑگڑا کر اپنے رب کے سامنے عاجزی وانکساری اختیار کرے، اپنے خالق ومعبود کی جانب لوٹے ،جن چیزوں سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے ان سے اجتناب کرے، اُس کی اطاعت بجالاتے ہوئے، اس کے حکموں کے سامنے جھکتے ہوئے اور اُس کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے ہوئے سچے دل سے توبہ کرے۔

انسان کی زندگی میں جو ابتلا وآزمائش اور سختی ومشقت آتی ہے یا پھر انسان کے جسم کو جو بھی نقصا نیا مرض یا بیماری لاحق ہوتی ہے ان سب کے پیچھے یہ حکمت کار فرما ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اس کے حکم کے سامنے جھک جائے ر ُشدو ہدایت کی جانب پلٹے اور گمراہی وہٹ دھرمی سے باز آجائے۔ شاید انسان کی سنگ دلی میں کچھ نرمی آجائے، وہ کچھ نصیحت حاصل کرلے، اور ہدایت وبھلائی اور سیدھے راستے پر گامزن ہوجائے۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ‏ ﴿۴۲﴾
”اور ہم نے آپسے پہلے دوسری امُتوں کے پاس بھی (انبیاءورُسل) بھیجے ،پھر ہمنے اُنہیں بھوک اورتکلیف میں مبتلاکیا کہ شاید عاجزی وانکساری اختیار کریں۔“(انعام:۴۲)۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، خصوصا ایسے حالات میں جبکہ وہ پے درپے آزمائشوں سے دوچارہو، اور اُسے چاہیے کہ وہ صدقِ دل سے اللہ کے دین کی طرف لوٹے اور ازسرے نَوسچی توبہ کرے،حقیقی معنوں میں اُُس سے مغفرت طلب کرے، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے کا نئے سِرے سے عہد و پیمان کرے۔
سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ انسان ابتلاوآزمائش سے دوچا رہو پھربھی اُس کے دل میں نرمی نہ پیدا ہو، اور اُس کے اعضاوجوارح رب کی اطاعت سےگریز کریں۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰـكِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۴۳﴾
” پھر جب ہمارا عذاب اُن پر نازل ہوگیا، تو اُنہوں نے عاجزی کیوں نہیں اختیارکی،لیکن اُن کے دل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے اُن کے کرتوتوں کو اُن کے سامنے خوبصورت بناکر پیش کیا تھا۔“(انعام:۴۳ )۔
جی ہاں سب سے بڑی مصیبت اور بدترین بدبختی یہی ہے کہ مصیبتیں سر پرکھڑی ہوں لیکن پھر بھی غافل لوگ اپنی غفلتوں میں پڑے رہیں، بھٹکے ہوئے لوگ اپنے لہولعب اور گہری نیند میں ڈوبے رہیں، اور فساد پھیلانے والے اپنے جرائم وفساد میں لگے رہیں۔ “ سبسے بڑی تباہی یہ ہے کہ تم ابتلا وآزمائش کے زمانے میں بھی برائی کا ارتکاب کرو۔”نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: (اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے)۔
اللہ تعالی ہٹ دھرم کافروں کی حالت سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے:
وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُوۡنَ‏ ﴿۷۶﴾
”اور ہم نے اُنہیں عذاب میں گرفتار کیا، لیکن وہ اپنے رب کےسامنےنہیں جھکے، اورنہ وہ گریہ وزاری کرتےہیں۔“(مومنون:۷۶)
یعنی ہم نےاُنہیں مصائب ومشکلات سے دوچارکیا، پھربھی انہوں نے ظاہری وباطنی طور پر اپنے رب کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہارنہیں کیا، بلکہ وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی ڈوبے رہے۔
اللہ کے بندو!
توبہ کرنے کی سخت ضرورت ہے ،اورمحاسبہ نفس کی شدید حاجت ہے ، ارشادِباری تعالی ہے:
مَّا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا‏ ﴿۱۴۷﴾
”اگرتم شکر ادا کروگےاورایمان لاؤگےتو اللہ تمہیں عذاب دے کرکیا کرےگا، اور اللہ بڑا قدر کرنے والا اوربڑاعلم والا ہے۔“(نساء:۱۴۷)۔
مصیبتیں نعمتوں سے، اور بھوک وسختیاں خوشحالی و کشادگی سے اُسی وقت تبدیل ہوسکتی ہیں جب کہ بندے اپنے رب سے توبہ کریں، اور اپنے خالق کی طرف رجوع کریں، پھر اُن کا رب اُن پر رحم فرمائے گا، اُن پر اپنی نعمتیں نازل فرمائے گا، اور اُن پر پیش آمدہ بلا ومصیبت کو دور فرمائے گا، غرضیکہ اللہ تعالی مصائب اورسختیوں کے ذریعے اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اُس کی بارگاہ میں رجوع کریں۔
ارشادِباری تعالی ہے:
ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِىۡ الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِىۡ النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿۴۱﴾
” خشکی اورتری میں فسادپھیل گیاہے اُُن گناہوں کی وجہ سے جو لوگوں نے کیے ہیں، تاکہ اللہ اُن کو اُن کے بعض بداعمالیوں کا مزا چکھائے شاید کہ وہ (اپنے رب کی طرف) رجوع کریں۔“(روم:۴۱)۔
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتاہے:
وَلَنــُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿۲۱﴾
”اورہم اُنہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزا چکھائیں گے، شاید کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔“(سجدہ:۲۱)۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَبَلَوۡنٰهُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿۱۶۸﴾
”اورہم نے اُنہیں نعمتیں دے کر اور پریشانیوں میں مبتلا کرکے، دونوں طرح سے آزمایا، تاکہ وہ اللہ کی ” طرف رجوع کریں۔“ (اعراف: ۱۶۸)۔
مؤرخین نے ذکرکیاہے کہ سنہ ۷۴۹ ہجری میں مصر اور شام میں زبردست وبا پھیل گئی جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ مر ے گیتو لوگوں نے مسجدوں میں اکٹھا ہوکر اپنے رب سے گڑگڑا کر دعا مانگی، اپنے گناہوں سے توبہ کیا، اور مختلف طریقوں سے صدقہ وخیرات کیا یہاں تک جلد ہی اُن سے وہ وباٹل گئی۔
اللہ تعالی جن لوگوں کے ساتھ خیر وبھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ لوگ آفتوں اور مصیبتوں کو اللہ تعالی کی تنبیہ اور نصیحت ویاد دہانی سمجھتے ہیں،
ارشادِباری تعالی ہے:
وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ‏ ﴿۱۳۰﴾
اور ہم نے فرعونیوں کو قحط سالی اور پھلوں کی کمی کے عذاب میں مبتلاکیا تاکہ شاید نصیحت حاصل کریں۔“(اعراف:۱۳۰)۔
حاصل کریں، کیونکہ مصیبت سے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے، اور اللہ کے پاس موجود چیزوں کی چاہت اور اُس کی جانب رجوع کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔
اللہ کے بندو!
نفس کی پسندیدہ چیز کا حصول اور ناپسندیدہ چیزوں سے نجات اُسی وقت ممکن ہے جبکہ ہم سچے دل سے اللہ تعالی سے توبہ ر با ی ِ ارشاد ، کریں تعالی ہے:
وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۳۱﴾
” اےمومنو! تم سب مل کرا للہ کے حضور توبہ کرو، تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔“(نور:۳۱)
مخلوق پر اللہ کی رحمت جس سے پریشانیاں دور ہوتی ہیں، اور بلائیں ٹلتی ہیں اُسی وقت نازل ہوگی جبکہ اللہ کی اطاعت کی جائے، اس کا تقوی اختیا رکیا جائے، اس کی شریعت کی اتباع کی جائے، اوراُس کے نبی کی سنت پر عمل کیا جائے۔
ارشادِباری تعالی ہے:
وَاَقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوۡا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡـعُوۡا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ ﴿۵۶﴾
اے مومنو! تم لوگ نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“(نور:۵۶)
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَل لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ‏ ﴿۲﴾
اور جو شخص اللہ سے ڈرتاہے،اللہ اُس کےلیے راستہ پیدا کردیتا ہے۔(طلاق:۲)
نیز اللہ تعالی یہ بھی فرماتاہے:
وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَل لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ یُسْرًا‏ ﴿۴﴾
اور جو شخص اللہ سے ڈرےگا، اللہ اُس کےمعاملات کو آسان کردے گا۔(طلاق:۴)
لہذا اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں، اپنے قول وعمل کی اصلاح کریں، اور اللہ تعالی کے اوامرونواہی کی پابندی کریں تو آپ ہدایت یا ب وکامران ہوجائیں گے۔
ارشادِباری تعالی ہے:
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌ۚ وَّلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۹۷﴾
” جوکوئی مردیاعورت نیک کام کرے گا، اسِ حال میں کہ وہ مومن ہو،تواسُے ہم پا کیزہ اور عمدہ زندگی عطاکریں گے،اوراُن کے اعمال سےزیادہ اچھا بدلہ اُنہیں دیں گے۔“(نحل: ۹۷)
اے تو ہمارے نبی اور رسول محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اُس کےبندے اور رسول ہیں۔
اما بعد!
اے مسلمانو! جب امت مسلمہ کے افراد حقیقی اور سچے معنوں میں اور ظاہری وباطنی ہر طور پر اللہ تعالی پر ایمان لے آ ئیںگے، اور جب وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں اور سرگرمیوں میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگیں گے تو اللہ تعالی اُن پر اپنی برکت کے دہانے کھول دے گا اور پھر وہ بغیر کسی غم وپریشانی کے خوشحال اور پاکیزہ زندگی بسرکریں گے، جیسا کہ
ارشادِباری تعالی ہے:
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿۹۶﴾
اور اگر بستی والے ایمان لے آتے اور تقوی کی راہ اختیار کرتے ، تو ہم آسمان و زمین کی برکتیں اُن پر کھول دیتے،لیکن اُنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا، تو ہم نے اُن کے کیے کی وجہ سے اُنہیں پکڑلیا۔(اعراف:۹۶)
اللہ کے بندو!
یقینا سب سے بہتر عمل نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ہے۔ اے اللہ تو ہمارے محبوب وسردار اور نبی محمد ﷺپر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔

اے اللہ تو خلفائے راشدین اورتمام صحابہ کرام اور آل بیت سےراضی ہوجا اوراُن سےبھی راضی ہوجا جو تاقیامت اُن کی اتباع کریں۔
اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطافرما، اور شرک ومشرکین کو ذلیل و رسوا فرما۔
اے اللہ جو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو اُسے خود میں مشغول کردے، اور اُس کی تدبیر کو اُسی کی تباہی کا ذریعہ بنادے، اے سارے جہانوں کے پروردگار!
اے اللہ ! جو ہمارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو اُسے خود میں مشغول کردے، اور اُس کا دائرہ تنگ کردے، اے سارے جہانوں کے پروردگار!
اے اللہ تو اُس پر اپنی فوج مسلط کردے! اور اُسے بھٹکا دے ، اے زندہ وجاوید ذات!
اے اللہ تو ہمارے اگلےپچھلے، ظاہری وباطنی گناہوں کو بخش دے۔
اے اللہ تو ہمارے چھوٹے بڑے ، ظاہری وباطنی، اول وآخر تمام گناہوں کو بخش دے۔
اے اللہ ! جو مسلمانوں میں مر گیے ہیں تو اُن کی مغفرت فرما، اے اللہ! تو اُن کی مغفرت فرما، اُن پر رحم فرما، اُنہیں عفو وعافیت عطا فرما، اور ان کی بہتر مہمان نوازی فرما۔
اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! ہم وبا وبلا سے، مہنگائی وزناسے، زلزلے اورآزمائش سے، اور ظاہری وباطنی فتنوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ! تو ہماری اور تمام مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ ! تو مسلمانوں کے غموں کو دور فرما، اے اللہ تو ُان کی تنگیووں کو دور فرما۔
اے اللہ تو اُن کی قیمتوں کو سستی کردے، اے اللہ! اُن میں جو فقیر ہیں اُنہیں مالدار کردے، اے اللہ تو نوجوانوں کی اصلاح فرما، اے اللہ تو مسلمانوں کی زندگی درست کردے، اے اللہ تو اُنہیں خوشحال اور پاکیزہ زندگی عطا فرما، اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ ہم تجھ سےاسِ مبارک گھڑی میں سوال کرتےہیں کہ تومسلمانوں کوحق پرمتحدکردے ، اور اُن پرجومصیبت،تنگی اوربد حالی ہے اُُسے دور کردے ، اے ارحم الرا حمین۔
اےاللہ! توہمارے بادشاہ کو اپنی پسند اور رضامندی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اےاللہ تو اُنہیں اور انکے ولی عہدکو اپنی پسند اور رضاکے کام کرنے کیتوفیق عطا فرما۔
اے اللہ! تو تمام مسلم حکمرانوں کو اپنی پسند کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اے اللہ تو اُنہیں اپنی رعایا پر رحمت کرنے کی توفیق عطا فرما، اے زندہ وجاوید ذات!
اے اللہ تو مالدار
ہےاور ہم فقیر ہیں، تو مالدارہے اور ہم فقیر ہیں، اے اللہ تو بارش نازل فرما، اے اللہ تو بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہمارے ملک میں اور مسلمممالک میں بارش نازل فرما، اے اللہ اےروزی دینے والے، اے مالدار، اور قابل تعریف ذات!
اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پرنفع بخش ومبار ک بارش نازل فرما۔
اللہ کے بندو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، اور صبح وشام اُس کی تسبیح بیان کرو، اور ہماری آخری دعا یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں۔
 
Top