ذیشان خان

Administrator
ترجمانی : جبران أحمد ضمير أحمد

وسائل تواصل اجتماعی (سوشل میڈیا، انٹرنیٹ وغیرہ) اور علماء کی طرف رجوع کیئے بغیر صرف کتابوں سے علم کے حاصل کرنے کا کیا حکم ہے....

جواب : علم اہل علم سے ہی لیا جائے، صرف کتابوں کا مطالعہ کرکے علم حاصل نا کیا جائے، اگر آپ دنیا کی ساری کتابیں پڑھ لیں تو بھی آپ عالم نہیں ہوسکتے بلکہ متعالم ہی رہینگے، عالم وہ ہے جو علم کو اہل علم سے حاصل کرے اور علم اہل علم سے ہی لیا جاتا ہے چاھے وہ مدارس میں لیا جائے یا مساجد میں یا معاھد میں یا جامعات وکلیات میں، صرف کتابوں سے علم کا حصول یہ ضلالت و گمراہی کا سبب بھی بن جاتا ہے، بلکہ بہت سے لوگ اس وجہ سے بھی گمراہ ہوگئے کیونکہ انہوں نے علماء کی طرف رجوع کیئے بغیر علم کو صرف کتابوں سے لیا، یہ بات یاد رکھیں کہ کتابوں میں حق وباطل صحیح وغیر صحیح ساری چیزیں ہوتی ہیں اور ان میں تمییز و تفریق صرف اہل علم واہل بصیرت ہی کرسکتے ہیں، کتابیں تو صرف أدوات (آلہ) ہیں اگر کوئی متقن آدمی اسے اٹھاتا ہے تو اللہ اس کے ذریعے اسے نفع بھی پہنچاتا ہے اور اس سے دین کی خدمت بھی لیتا ہے لیکن اگر غیر متقن ہے تو نتیجہ اچھا آنے کے بجائے اس کے برعکس ہوجاتا ہے.
پس علم کو اہل علم سے ہی نسل در نسل حاصل کیا جائے گا اور یہ زمین بإذن اللہ ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہوگی..

صرف سوشل میڈیا اور کتابوں کے ذریعے قانونی معلومات کے حصول کا حکم 👇👇👇

شیخ صالح الفوزان

 
Top