ذیشان خان

Administrator
معاشرہ بدلیں

✍⁩عبداللہ بن زبیر

ایک آدمی صبح گھر سے کام کے لئے نکلتا ہے، روزانہ کی مزدوری اسے پانچ سو ملتی ہے اس میں دو کلو اس نے آٹا لینا ہے ، ایک پاؤ گھی ، ایک پاؤ دودھ ، چینی ، پتی ، دو وقت کی سبزی ،بجلی کے بل کی کمیٹی ، لکڑی ، ماں کی شوگر کی گولیاں۔۔۔اور دو چھوٹے بچوں کے لئے سکول کے نئے ماسک ، سرکاری سکول پہنچانے کے لئے موٹر سائیکل کا فیول ،مہمان داری ، گھر کے دال دلئے کے علاوہ صابن ،سرف اور اتفاقی اخراجات اس کے علاوہ ۔۔۔

یہ ایک ان پڑھ بندہ جب گھر سے نکلتا ہے تو ماں دعا دیتی ہے ، بیوی ڈھارس بندھاتی ہے ، بچے امید کی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ بابا جب گھر آئیں گے کوئی فروٹس لائیں گے ۔۔

انہیں کیا خبر ؟؟؟ یہاں تو جان کے لالے پڑے ہیں ۔۔

یہ مزدور بندہ برتن مانجھتا ہے ، قلعی کرتا ہے ، اینٹیں ڈھوتا ہے ، صفائی کرتا ہے، گارڈ بنتا ہے ، کچرا اٹھاتا ہے ، ریڑھی کھینچتا ہے ، ٹیبل صاف کرتا ہے ، گھاس کاٹتا ہے ، گاڑیاں دھوتا ہے ، ٹائر رگڑتا ہے ، لوہا کوٹتا ہے ، تپش سہتا ہے ، چائے بناتا ہے ، پھول بیچتا ہے ، ٹاکی لگاتا ہے ، آواز دیتا ہے ۔۔

اب یہ اخراجات کیسے پورے کرے ؟؟

لیبر قوانین کے مطابق نہ تو اسے تنخواہ ملتی ہے نہ ہی دیہاڑی اور نہ ہی سفید پوش لوگ کام کے مطابق اس کی مزدوری دیتے ہیں ۔۔

ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے ،خوراک ، لباس اور رہائش کی ذمہ داری ریاست پہ ہے ، صحت کی سہولیات ، تعلیم اور بنیادی ضروریات یا ان کے وسائل دینا ریاست کا فرض ہے لیکن یہ فرض کیسے ادا ہو رہا ہے آپ اور میں بہتر جانتے ہیں۔

اب کیا کیا جائے ؟؟

سارے مل کر گورنمنٹ کو گالیاں دیں۔ دھڑا دھڑ پوسٹیں لگائیں ،گونیازی یا گونواز کے نعرے لگائیں ، دھرنے دیں ، احتجاج کریں ، چیخیں چلائیں ، شور شرابا کریں ، اودھم مچائیں ، اچھلیں ، کودیں ۔۔ کچھ بھی کریں اس سے کچھ بھلائی ہوجائے گی ؟؟

جہاں تک میری ناقص فہم ہے یہ اس کا حل نہیں

دانشور اپنی دانش سے ، کالم نگار کالم سے ، قلم کار اپنے قلم کی کاٹ سے ،صحافی تبصرے سے حکومت یا اپوزیشن کو مورد الزام ٹھرائے گا ، ہر ایک کی اپنی دلیل ، ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ۔۔۔ لیکن کیا غریب کو آٹا مل جائے گا ؟ کیا اس کا بجلی کا میٹر کٹنے سے بچ جائے گا ، ایڑیاں رگڑتی ماں کو شوگر کی انسولین مل جائے گی ؟؟ ا سکے بھوک سے بلکتے بچے اچھی تعلیم کا خواب دیکھ سکیں گے ؟؟

نہیں ہر گز نہیں ۔۔۔

باشعور شہری سوال کرتا ہے

میں تو عام سا انسان ہوں ، میرا کیا قصور ؟؟ میں ا سنظام کو تو نہیں بدل سکتا ۔ میں تو کچھ بھی نہیں کرسکتا ، میرے دامن میں سوائے افسوس کے کوئی آنسو ہی نہیں ۔ صرف شکوہ کرسکتا ہوں میں ۔۔

نہیں محترم !! ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں

بس صرف ایک کام کرلیں ۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا مستقبل بدل دیں ، سیلریز بڑھادیں ، آمدنی کے حساب سے ڈیلی ویجز دیں ، سہولیات دیں ، کام کے مطابق معاوضہ دیں ، اپنی حیثیت سے بڑھ کر نوازنا شروع کردیں ، اپنے حالات کے مطابق ان جے حالات بہتر بنانے کی کوشش کریں ۔۔

میرے ساتھ کام کرنے والے سبھی ملازمین جانتے ہیں کہ ان کی ترقی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ، ہنر مند ہے اپنا کام شروع کرنا چاہتا ہے تو ہمارا کندھا اس کا بوجھ اٹھانے کے لئے حاضر ہے ، اس کا درد ہمارا ہے ، اس کو زیادہ مزدوری دینا ہماری ذمہ داری ہے ، محنت سے زیادہ نواز دینا ہم اپنے تئیں فرض سمجھتے ہیں اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے حالت بدل جاتی ہے ۔۔

میرے سکول کی ٹیچرز کاروباری بن گئی ہیں ، سکول کی ماسیوں نے رہنمائی سے کطڑے کا بزنس شروع کرلیا ، شہد اتارنے والوں نے اپنی شاپس کھول لیں ، جانوروں کا کام کرنے والوں نے دودھ کا بیوپار شروع کرلیا ، مالی کاروباری بن گیا ، آٹھ ہزار ماہانہ کمانے والے کو اللہ کے فضل سے ایک لاکھ ماہانہ تک پہنچا دیا ، وابستہ لوگ بزنس مین بن گئے ۔۔

یہ ہمارا کمال نہیں اللہ کا فضل ہے، اسی ذات کے کرم سے توفیق ملتی ہے

بس ہم ایک کام کرلیں

اپنے ماتحت کی زندگی بدلنے کا تہیہ کرلیں

پرسوں کی بات ہے ایک شہد اتارنے والے بھائی نے کہا " سر جی اپنا کام کرنا چاہتا ہوں ، کوئی طریقہ بتائیں " چاردن کی کھیپ اس کے حوالے کی ، ڈبے دئیے ، جگہ بتلائی ، شہر میں ایک دوکان پہ بٹھلایا اور کہا " جب بک جائے اور کاروبار چل پڑے تب پیسے دے دینا " جس قدر فرصت تھی مدد کی !!

اکثر لوگ ہماری پروڈکٹس کے مہنگا ہونے پہ بھی اعتراض کررہے ہیں ، ایسا کیوں ؟؟ میری کمپنی کے مزدور کو دو ہزار دیہاڑی دی جاتی ہے ، میرا سپروائزر تین ہزار لے رہا ہے ،سرچ مین پینتیس سو لیتا ہے ، باغ کی رکھوالی کرنے والا تیس ہزار ماہانہ لیتا ہے ۔۔ کس لئے ؟؟

تاکہ ان کی حالت بہتر ہو جائے۔۔ اور بہتر ہوہی جاتی ہے ، اپنے سرکل کے مزدوروں میں سے یر سال کچھ کو خوشحالی کے راستے پر لگادیتا ہوں اور یہی ایک کام ہے جس سے ہم اپنا معاشرہ بدل سکتے ہے۔
 
Top