ذیشان خان

Administrator
نماز کے سجدوں میں اپنی زبان میں دعا مانگنا

مقبول احمد سلفی
سجدۂ نماز میں عربی کے علاوہ کسی بھی زبان میں دعاء بھی نہیں کرسکتا۔عربی زبان میں دعا کے لئے بہتر اور افضل عمل یہی ہے کہ نماز میں بھی اپنی حاجات کو انہی دعاوں کی صورت میں اللہ کے حضور پیش کیا جائے جو سنت میں موجود ہوں . بعض اہل علم نے کہا کہ جنہیں دعائیں وغیرہ یاد نہ ہو وہ فرض نماز کے سجدوں میں بھی اپنی زبان میں دعا مانگ سکتے مگر افضل یہی ہے کہ فرض نماز میں عربی کے علاوہ غیر زبان میں دعا نہ مانگے جنہیں دعا یاد نہ ہو وہ یاد کرے اور یاد ہونے تک مندرجہ ذیل حدیث کے اذکار پڑھے :
ايك شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور كہنے لگا: ميں قرآن مجيد سے كچھ ياد نہيں كرسكتا، لہذا آپ مجھے كوئى ايسى چيز ياد كرائيں جو ميرے ليے اس سے كفائت كر جائے.
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اكبر، لاحول ولاقوۃ الا باللہ .. كہو"(ابوداؤد)
لیکن اگر نفل نماز ہو تو سجدے کی حالت میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگ سکتے ہیں اور سجدے کی حالت میں دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں:
فأما الركوع فعظموا فيه الرب واما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم۔
جہاں تک رکوع کا معاملہ ہے تو اس میں اپنے رب کی تعظیم بیان کرو اور جہاں تک سجدے کی بات ہے تو اس میں دعا میں اہتمام کرو پس قریب و لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے گی۔
٭ اس روایت کو شیخ البانی نے صحیح الجامع :2746 میں ذکر کیا ہے ۔

واللہ اعلم
 
Top