ذیشان خان

Administrator
”کیا ”سبز“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ترین رنگ تھا؟؟؟“

✍ حافظ محمد طاہر بن محمد

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کلر سبز تھا اور اپنی تائید میں وہ ایک روایت بھی پیش کرتے ہیں کہ امام قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سےبیان کیا وہ فرماتے ہیں:
كَانَ أَحَبَّ الْأَلْوَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْـخُضْرَةُ.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پسندیدہ رنگ”سبز “تھا۔“
(المعجم الاوسط للطبرانی :8/81۔6/39،مسند الشامیین :4/15)

اس کی سند ضعیف ہے،”سعید بن بشیر“جمہور کے نزدیک ضعیف ہیں، ان پر امام بخاری (التاریخ الکبیر :3/460، الضعفاء الصغیر:132)،ابوزرعہ(الضعفاء:116)،ابو مسہر(المعرفۃ والتاریخ للفسوی :2/124)،نسائی (الضعفاء:246)وغیرہم رحمہم اللہ نے جرح کی ہے۔
حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اَلْـأَكْثَرُوْنَ عَلَى تَضْعِيْفِهِ.
”یعنی اکثر محدثین نےاس کی تضعیف کی ہے۔“ (البدر المنیر :9/85)
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے ان کی امام قتادہ سے روایات پر جرح مفسر بھی کی ہے۔
(المجروحین:1/319)

نیز اس روایت کو امام قتادہ رحمہ اللہ سے دو مزید راویوں نے بھی بیان کیا ہےجس کی تفصیل یوں ہے۔
1۔ ابو حاتم سوید بن ابراہیم الجحدری العطار
(مسند بزار :13/ 458،کشف الاستار للہیثمی :3/261)
لیکن سوید بن ابراہیم بھی جمہور محدثین کے ہاں ضعیف ہیں۔
علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضَعَّفَهُ الْـجُمْهُوْرُ.
”جمہور محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔“ (مجمع الزوائد:8/23)
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ان کی امام قتادہ سے روایات پر بطورِ خاص جرح کی ہے۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال:4/489)
اس کی سند میں مزید علت یہ بھی ہے کہ اس روایت کو سوید بن ابراہیم سے ابو یعقوب اسحاق بن ادریس اسواری بصری نے بیان کیا ہے اوراس پرامام بخاری(التاریخ الکبیر :1/382، التاریخ الاوسط:2/318)،ابو زرعہ(الجرح والتعدیل :2/213)،نسائی(الضعفاء والمتروکون:46)، دارقطنی (الضعفاء والمتروکون:89) وغیرہم رحمہماللہ نے جرح کر رکھی ہے۔
بلکہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یضع الحدیث۔احادیث گھڑتا تھا۔(تاریخ ابن معین بروایۃ الدوری:4213)
اسی طرح فرمایا :کذاب ۔(ایضا:4677)
یہاں جرح مفسر بھی ہے کہ امام ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس (اسحاق بن ادریس)نے سوید بن ابراہیم اور ابو معاویہ سے منکر روایات بیان کی ہیں۔
(الجرح والتعدیل :2/213)

2۔ ابو بکر سلمی بن عبد اللہ الہذلی البصری
(شعب الایمان للبیہقی :8/342)
ابوبکر الہذلی سخت ضعیف و متروک ہے۔
اس پر امام ابو زرعہ،ابو حاتم ،شعبہ،یحیی بن سعید، محمد بن جعفر غندر (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم :4/313)امام بخاری (التاریخ الکبیر :4/198)،دارقطنی (السنن، ح:120)، بزار(کشف الاستار للہیثمی:1/460)وغیرہم رحمہم اللہ نے جرح کی ہے۔
بلکہ امام حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ ثقہ راویوں کی نسبت سے من گھڑت روایات بیان کرتا تھا۔(المجروحین :1/359)
حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اجماع ہے۔(دیوان الضعفاء :4872)

معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف و غیر معتبر ہے۔ واللہ اعلم
 
Top