ذیشان خان

Administrator
ایک مہاجر،ایک مسافر

شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ

پرتاب گڑھ ، دہلی، مئواورریاض سعودی عرب سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1994 میں جب آپ ممبئی تشریف لائے توجمعیت اہل حدیث ممبئی کے پاس حالیہ وسائل نہ تھے،
ایل بی ایس روڈ کرلا بھنگار کی دوکان پر بیٹھ کر مولاناعبدالحق سلفی رحمہ اللہ اور اشوک نگرسے مولانا امین ریاضی حفظہ اللہ اپنی بساط بھرجمعیت چلایاکرتے تھے،
آشیانہ اپارٹمنٹ کے گراؤنڈفلوپرآفس کاجب انتظام ہوگیاتودفتریہاں منتقل ہو گیا۔
ابتدا میں شیخ نےجامعہ رحمانیہ کاندیولی کے ایک فاضل استاد کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دی،مؤسسة الحرمين کے مندوب بھی رہے۔مرکزالاحیاء کے اسٹیج سے بھی شاندارکام کیا،جمعیت اہل حدیث بھیونڈی کو بھی دعوت کی ایک نئی تحریک دی۔
پھر جب جمعیت اہل حدیث کی نئی شیرازہ بندی اورنشاةثانیہ ہوئی تو آپ جمعیت سے جڑگئے۔ 2002 میں نظامت کے انتخاب میں شکست پر آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔
چونکہ امیروناظم کا انتخاب شوری کرتی ہے،اس لئے یہاں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے،شایدالیکشن کو کوسلیکشن نہ بناکرجمہوری طریقہ سے انتخاب کراناچاہتی ہو،یاشوری میں باہمی ٹال میل کی کمی کی وجہ سے ایساہواہو۔
سیاست سے قطع نظرہمیں شوری کے فیصلہ کی قدرکرنی چاہئے،جولوگ جمعیت کے امیروناظم اورعاملہ میں ہیں ہمیں ان کا تعاون کرناچاہئے۔
چونکہ جمعیت کادستوراورانتخاب کا طریقہ کارسیاسی پارٹیوں کی طرح جمہوری ہے،جس کی وجہ سے عہدہ و منصب کے لئے رسہ کشی،جوڑتوڑ،سیاسی بازی گری اور بعض دفعہ افسوس ناک مناظر سامنے آنافطری ہے۔
البتہ جمعیت کامنشوراوراس کی اساس وبنیادخالص شرعی اورانبیائی ہے،
منہج انبیاءہی منہج اہل حدیث ہے۔
ردشرک و بدعت واشاعت توحیدو سنت جیسے نبوی منہج پریہ جماعت قائم ہے،اس لئے ہر قسم کے آندھی طوفان کامقابلہ کرنے کی اس کی جڑوں میں صلاحیت پائی جاتی ہے۔
اہل حدیث پر اللہ کابڑافضل ہے کہ یہ اختلاف کے باوجودگروہوں میں نہیں بٹتے،
چند افاضل اورمدراءمدارس وجامعات نے ایک متوازی تنظیم بنائی مگر سب سے پہلے اللہ کی توفیق اورپھراس کے بعد بعض مخلصین کی جدوجہداورمرکزکی مدبرانہ قیادت سےوہ بھی کالعدم ہے۔
جمعیت و جماعت کے موضوع پرجب کبھی گفتگو کی جاتی تو میرے استاذ شیخ محمدبن رمزان الہاجری حفظہ اللہ فرمایاکرتے ہیں کہ
"أهل الحديث يختلفون لكن لايتفرقون""
اہل حدیث باہم اختلاف تو کرتے ہیں مگر گروہ اور فرقہ میں نہیں بٹ جاتے۔
اہل حدیث قرون مفضلہ سے ہیں،اوران کامنہج بھی منھج خیرالقرون ہے۔
منہج تو معصوم ہے،مگر اہل حدیث معصوم نہیں ہیں،اسی لئے ان میں اختلاف توہے لیکن فرقہ بندی نہیں ہے۔
جب کہ دیگرفرقوں نے اختلاف کیااورگروہوں میں بٹ گئے ،
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف اپنی نسبت کرنے والے بھائیوں نے جب اختلاف کیا تو دیوبندی اوربریلوی میں بٹ کرقبوری اورغیرقبوری احناف ہوگئے۔
کو کن اورمالابار کے ساحلی خطہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلدین بھی قبوری اورغیرقبوری شوافع بن گئے،
اہل حدیث اپنی اصل سے نہیں ہٹتے ،اس لئے کہ اہل حدیث ہی اسلام کی سچی تعبیروتشریح ہے،یہی اسلام کے اصل نمائندے ہی۔
مولانامقیم فیضی رحمہ اللہ نے مرکزوصوبہ میں جمعیت کے اسٹیج سے منہج سلف کی بھرپور نمائندگی کی،
جب بھی کوئی نیافتنہ جنم لیتا تواس کی سرکوبی کے لئے بھرپورتیاررہتے،فتنہ داعش،شکیل بن حنیف کافتنہ،وغیرہ کی سرکوبی کئ،اور رقیہ کی دوکانوں کو سنت کی روشنی میں آئینہ دکھایا۔
شمس پیرزادہ صاحب کومحدثین کی عدالت میں پیش کرکے تحریک دعوة القرآن کے نام پرانکارحدیث کے چور دروازے کوبندکرنے کی کوشش کی۔

صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے پاس ابتدا میں وسائل اوراعتماددونوں کی کمی رہی،دین رحمت کانفرنس کے بعداللہ کی خصوصی رحمت نازل ہوئی،وسائل کی فراوانی اورجماعتی اعتماد بحال ہوا۔خود امیرمحترم شیخ عبدالسلام سلفی حفظہ اللہ کی تجارت میں اللہ نے بڑی برکت عطافرمائی۔
چنانچہ جب وسائل فراہم ہوگئے اور صوبائی جمعیت کو عوامی اعتماد حاصل ہوگیاتوقیادت نے اس سے بھرپور استفادہ کیااورممبئی و اطراف میں اہل حدیث مساجدکاایساجال بچھادیاکہ اسے صدیوں تک یاد رکھاجائے گا۔
منہج سلف کے احیاءکے لئے مفیدونادرکتب کی اشاعت،ائمہ ودعاةکے لئے تربیتی کیمپ کاانعقاد،دفتر میں مبلغین ودعاة کی تقرری،جھولامیدان میں سالانہ کانفرنس کاانعقاد،حج تربتی کورس اور مقامی وضلعی اجتماعات کاانعقاد یہ سب کارنامے قابل قدرہیں۔
ویسے بھی ممبئی میں مولانامختاراحمدندوی رحمہ اللہ کے بعد شیخ عبدالسلام سلفی کوجماعتی اعتماد جس قدرحاصل ہواہے وہ شاید ہی کسے کے حصہ میں آیاہو۔
اعتماد کے سلسلہ میں معراج فیض آبادی کا یہ شعربڑی سچائی بیان کررہاہے۔

جس کی جتنی حیثیت ہے اس کےنام اتنا خلوص
بھیک دیتے ہیں ، یہاں کے لوگ کاسہ دیکھ کر

دہلی سے آنے کے بعد شیخ مقیم نے اپنے بچوں کی کفالت اوررزق حلال کے لئے اقرااسکول ممبئی میں ملازمت بھی کی،
وہاں سے مستعفی ہونے کے بعدحکیمانہ قیادت نے کسی اورکا اسیرنہ ہونے دیا،جس پر وہ شکریہ کی مستحق ہے۔
شیخ مقیم آج ہمارے درمیان نہیں رہے،مگر ان کی یادیں،ان کی خدمات اور حق گوئی وبے با کی کی جرات نئی نسل کے لئے سرمایہ ہے۔
جمعیت و جماعت کے نام پرسیاست کرنے والوں کے لئے بھی عبرت کامقام ہے کہ ایک مقیم جومسافراورمہاجرہوتے ہوئے اب راہی عدم ہوگئے اب تم انہیں کبھی نہ پاؤگے،اللہ کے واسطے توبہ کرواورعلماءکواپنے اقتدارکی ہوس کانشانہ نہ بناؤ،
ان کے کارنامے انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے اورتمہاراکرتوت تمہیں ہمیشہ شرمسارکرے گا۔

متعددبارشیخ مقیم رحمہ اللہ ممبئی اور باہرکےبہتیرےاجتماعات میں ساتھ رہتے،ایک ساتھ قیام رہتا، مگر کبھی کوئی شکوہ نہ کرتے۔

اپنی انا کی تسکین اور اپنی سیاست کی افیون کے طورپرعلماءکو استعمال کرنے والوں کو اللہ ہدایت عطافرمائے۔

ان کی وفات کے وقت میں ممبئی سے 1600کلومیٹرکے فاصلہ پرآبائی وطن میں تھا، گزشتہ چندروزقبل ممبئی واپسی ہوئی ہے۔
اس وقت ممبئی میں ان کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہی ہے،جمعیت و جماعت میں ایک خلامحسوس ہورہاہے،اللہ اس کی بھرپائی فرمائے،اور جمعیت و جماعت کوان کا نعم البدل عطافرمائے،
صوبائی ومرکزی جمعیت اہل حدیث کی قیادت علیاءکوان کی خدمت اور حسن تعاون پر بہترین بدلہ عطافرمائے۔
دوستی کا حق ادا کرنے پر اللہ تعالی شیخ عبدالسلام سلفی حفظہ اللہ کوبہترین بدلہ عطافرمائے۔اورانہیں اوران کے اہل خانہ کوہرقسم کی وبااوربلاسے محفوظ رکھے۔آمین ۔
اورشیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائے،اوران کے اہل خانہ کوصبرجمیل عطافرمائے۔
رحمه الله رحمة واسعة واسكنه فسيح جناته۔

كتبه
انصاربن زبيرمحمدي الأعظمي
ممباي.
 
Top