ذیشان خان

Administrator
نماز عصر کی فضیلت

*ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ

ہم سب یہ جانتے ہیں کہ نماز پڑھنا بہت ضروری ہے اور نماز نہ پڑھنا مشرکوں کا عمل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ" (الروم:31) اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ-
یومیہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا فرض ہے یہ تو سب جانتے ہیں لیکن پانچوں نماز میں نماز عصر کی بڑی اہمیت، شدید تاکید اور بڑی فضیلت ہے، اسی لیے اللہ رب العالمین نے نماز عصر کی خصوصی حفاظت کا مکلف بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ" (البقرة:238) نمازوں کی حفاظت کرو، اور عصر کی نماز کی بھی حفاظت کرو، اور اللہ کے لیے بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ-
مزید اللہ نے عصر کی قسم کھائی ہے: "وَالْعَصْرِ" (العصر:1) قسم ہے عصر کی، مفسرین کے دوسرے قول کے مطابق یہاں نماز عصر مراد ہے-
نماز عصر اتنی اہم نماز ہے کہ اس اہمیت کا اندازہ اس روایت سے لگا سکتے ہیں، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اَلَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ العَصْرِ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ" (صحیح بخاری:552) جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا، یعنی عصر جیسی مبارک نماز کا فوت ہونا بربادی اعمال میں سے ہے-
قارئین کرام! نماز عصر کے بہت سارے فضائل ہیں ان میں سے چند کا میں سرسری طور پر تذکرہ کر رہا ہوں-
اول) عصر وفجر کی پابندی کرنا جہنم سے نجات پانے کا سبب ہے، پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِها يَعْني الفَجْرَ، وَالعَصْرَ" (صحیح مسلم:1468) وہ شخص ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے یعنی جو فجر اور عصر کی نماز ادا کرے-
دوم) نماز عصر وفجر دخول جنت کا ضامن ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" (صحیح بخاری:574) جو فجر اور عصر کی نماز پڑھے وہ جنت میں داخل ہوگا-
سوم) نماز عصر کی حفاظت کرنا دیدار الہی جیسی عظیم الشان نعمت پانے کا ذریعہ ہے، جیسا کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا پھر فرمایا: "أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُّونَ- أَوْ لاَ تُضَاهُونَ- فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَالَ: فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا" (صحیح بخاری:573) تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تم کو کسی بھی قسم کی کچھ مشقت اور تکلیف نہیں ہوگی، اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع سے پہلے (فجر) اور غروب سے پہلے (عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی، "فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا" تم سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اللہ کی پاکیزگی بیان کرو-
ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ رؤیت باری تعالیٰ یہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل جنت کے متعلق فرمایا: "فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ" (صحیح مسلم:467 (جب حجاب کھل جائے گا تو) جنتیوں کو رؤیت باری تعالٰی سے بڑھ کر جنت میں کوئی فرحت بخش (پسندیدہ) چیز عطا نہیں کی گئی-
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز عصر کی اہمیت اور فضیلت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور پنج وقتہ نمازوں کو وقت کی مکمل پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top