ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم

ملک نیپال میں فتنہ قادیانیت اور نیپالی مسلمانوں کی ذمہ داریاں
ابو محمد افضال احمد شمیم سلفی

ناظم جمعیۃ السلام للخدمات الانسانیہ نیپال

الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وخاتم المرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أمابعد:
برصغیر میں انگریزوں کی آمد اورغاصبانہ اقتدار وتسلط نے امت مسلمہ کے لئے جن اہم اور خطرناک فتنوں اورمسائل کو جنم دیا ان میں سب سے تباہ کن فتنہ "قادیان" کی سرزمین سے "احمدی" یا "قادیانی" تحریک کا ظہور ہے، جسے سامراجی اور اسلام ومسلم دشمن قوتوں نے مسلمانوں کو اللہ تعالی کی بندگی اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلصانہ پیروی سے منحرف کرنے اور ان کے مابین افتراق وانتشار پیدا کرکے ان کے اتحاد کو پاش پاش کرنے کے لئے وجود بخشا، اور ان کی ترقی وترویج کے لئے مادی ومعنوی ہر اعتبار سے مساعدت ومساندت کی، چنانچہ اس تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے انگریزی آقاؤں کی اس دیرینہ خواہش کو پورا کرنے کے لئے ان کی حمایت وسرپرستی میں 1891ء میں مسیح موعود اور 1901ء میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا، اور یہ اعلان کیا کہ مسلمان ہونے کے لئے توحید ورسالت محمدی پر ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ میری نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اس پر ایمان نہ لائے وہ توحید ورسالت محمدی پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اور اس بنیاد پر اس نے مسلم معاشرے میں کفروایمان کی ایک نئی تفریق پیدا کی، اور جو لوگ اس پر ایمان لائے ان کو مسلمانوں سے الگ ایک جداگانہ امت اور ایک ایسے معاشرے کی شکل میں منظم کرنا شروع کر دیا جس کا خدا، رسول، کتاب، شریعت، عبادت قانون، دین، شعائر دین، مقامات مقدسہ، تاریخی شخصیات، تقویم، کیلنڈر، جنت ودوزخ اور جزا وسزا کا معیار سب کچھ مسلمانوں سے الگ اور ہرحیثیت سے جدا ہے۔
مگراس کے باوجود قادیانی عام مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قادیانیت اسلام کی مکمل تعبیراور اس کا فرقہ ہے اور قادیانی گروہ مسلم معاشرے ہی کا ایک حصہ ہیں، تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانیت اختیار کرتے ہوئے یہ اندیشہ لاحق نہ ہو کہ وہ اسلام سے نکل کر کسی دوسرے معاشرے میں جا رہے ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں قادیانیت کا پھیلنا زیادہ آسان ہوجائے۔
انیسویں صدی عیسوی کےاختتام پر قادیانیت کی فتنہ سامانیاں جب مختلف شکلوں میں ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو تمام مکاتب فکر کےعلماء خصوصا علمائے اہل حدیث قادیانیت کے خطرناک عزائم اور ایمان کش نظریات کا علمی انداز میں محاسبہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آئے،ان کی سرگرمیوں کا بنظرعمیق جائزہ لیا اور ان کے خلاف تحریری وتقریری جہاد کیا جس میں وہ کامیاب ہوئے اور دنیائے اسلام نے متفقہ طورپر ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا۔
اس کے پیروکار آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم ہیں، بعض ممالک میں ان کے اپنے ریڈیو اسٹیشن اورٹی وی چینلز ہیں جن سے چوبیس گھنٹے وہ اپنے مذھب کی دعوت وتبلیغ کرتے رہتے ہیں، برطانیہ، حیفہ (اسرائیل) کینیڈا اور امریکہ وغیرہ کے بڑے شہروں میں ان کے اہم مراکز قائم ہیں۔

ملک عزیزنیپال میں قادیانی فتنہ کب اور کس راہ سے داخل ہوا؟ اس تعلق سے قطعی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ آج سے تین دہائی قبل ملک کے بعض علاقوں میں بعض مسلمانوں کے مذھب اسلام سے ارتداد اختیار کرکے قادیانیت قبول کرلینے کی خبر سے علماء توحید وسنت اور اصحاب دانش کو ملک میں ان کے وجود کا پتہ چلا، جسے سن کر وہ سناٹے میں آ گئے اور انہوں نے اس باطنی خبیث جماعت کی حقیقت اور اس کے فاسد عقائد ونظریات سے عامۃ المسلمین کو باخبر کرنا شروع کیا، جس کی وجہ سے قادیانی مبلغین کے مذموم ارادے اور مسلمانوں کے قیمتی متاع ایمان لوٹنے کے منصوبے خاک میں مل گئے، اور اس طرح علانیہ طور پر ان کی سرگرمیوں کا سلسلہ بند ہو گیا، مگر حالیہ ایام میں ان شا طروں نے ملک کی راجدھانی کاٹھمانڈو سمیت ملک کے کئی شہروں میں اپنی تنظیمیں قانونی طور پر رجسٹرڈ کروا رکھی ہیں، اور باعمل مسلمان کا روپ دھار کر مختلف حکمتوں اورتدبیروں سے مسلمانوں کواپنی طرف مائل کرنے اوران پراپنی بزرگی اور خدا رسیدی کا سکہ بٹھانے اوراسلامی معاشرہ میں بلا روک ٹوک قادیانیت کی ترویج وتشہیر کرنے، اور مسلمانوں کو ان کے دین حق سے ہٹا کر گمراہ کرنے اور ان میں روح افتراق اور زہر انتشار پھیلانے میں مسلسل سرگرم ہیں، لہذا علمائے امت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اس گمراہ جماعت اور اس کے طریقہ دعوت اور اس کے تباہ کن اثرات سے بچانے کی ہرممکنہ کوشش کریں، حالات کی ان سنگینیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اورقادیانیت کو کیفرکردار تک پہونچانے کے لیے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

1 – آل نیپال تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں تمام مذہبی مکاتب فکر کےسرکردہ علماءکرام، مقتدر سیاسی رہنما، اصحاب فکرودانش اور ممتاز قانونی ماہرین ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کی جانب سے کیے جانےوالے کاموں کا گہرائی سے جائزہ لیں پھر ان سرگرمیوں کا سامنا کرنے اور ان کی روک تھام کے لیےمتحد ومتفق ہوکر کوئی مضبوط مشترکہ لائحہ عمل طے کریں ، اوراس کے لیے عملی پیش رفت کریں اورتمام مکاتب فکر کے چند علماء ودانشورحضرات ایک وفدکی صورت میں سربراہان ملک سے ملاقات کرکےانہیں اپنے موقف سے آگاہ کریں اور دلیل ومنطق کے ساتھ قائل کریں کہ قادیانی اسلام سے الگ ایک جداگانہ مذہب رکھتے ہیں تو انہیں اپنے نئے اور الگ مذہب کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی اصطلاحات وشعائر استعمال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،کیونکہ اس سے مسلمانوں کا اپنےمذہبی تشخص کی حفاظت کا حق مجروح ہوتا ہے، لہذا دیگر اسلامی وغیر اسلامی ممالک کی طرح یہاں بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، اور بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی پر غور کرناچاہیے۔

2 :– قادیانیت کے عقائد واعمال ، حقیقی خد وخال اور اس کی تلبیسات سے متعلق اردو ، ہندی اور نیپالی زبانوں میں بامقصد مقالات وکتب اور لٹریچرز تیار کیے جائيں اور اخبارات ورسائل اور سماجی سائٹس کے ذریعےعوام الناس کے درمیان زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔

3 :– مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کی غرض سےائمہ وخطباء حضرات خطبہ جمعہ،اجلاس عام ، دینی پروگراموں اور دیگر عوامی مجالس کے علاوہ ریڈیو ، ٹیلویزن اور یوٹیوب وغیرہ کے ذریعے اردو، ہندی اور خصوصا نیپالی زبان میں عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسی علیہ السلام اور رد قادیانیت جیسے عناوین کو موضوع گفتگو بنائیں۔

4 :– قادیانیوں کی دعوت اور سازشوں کا عمومی میدان دینی مدارس کے طلبہ اور مساجد کے نمازی یا علماءکرام اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ مسجد ومدرسہ سے لاتعلق اور دینی معلومات سے بے بہرہ افراد وطبقات ہیں جن کی طرف ہماری توجہ بہت کم ہے وہ ان کے دجل وفریب کا جلدی شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے رد وتعاقب کے حوالہ سے ملک کے مختلف مقامات پر عوام الناس بالخصوص عصری تعلیم یافتہ حضرات یا عصری تعلیم گاہوں میں زیرتعلیم طلبہ،وکلاء، ڈاکٹر ، سرکاری وغیر سرکاری ملازمین کے لیے مختصر پروگرام اور تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے۔

5 :– پہاڑی میدانی علاقوں کی ایسی بستیاں جہاں مسلمان آباد ہیں مگر وہاں علماء وطلبہ موجود نہیں ہیں،قادیانی اپنے آپ کو بحیثیت امام ومعلم اپنی جگہ بناتے ہیں اور عوام الناس و مسلم بچوں کو قران کریم کے غلط تراجم وتشریحات بیان کرکے ان کے صاف ستھرے اذہان وقلوب میں قادیانی عقائد ونظریات کو راسخ ومستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور قرض ومالی امداد کے بہانے ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں، لہذا علماء ودعاۃ اور اسلامی رفاہی تنظیموں کےذمہ داران کو چاہیے کہ وہ ایسے علاقوں میں آباد مسلم بھائيوں کے حالات پرخصوصی نظر رکھیں اوران کے درمیان دعوتی ورفاہی کام کرنےکااہتمام کریں تاکہ قادیانی ان کی علمی واقتصادی پسماندگی کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
فتنہ قادیانیت سے امت مسلمہ کی حفاظت کے لئے یہ چند تجاویز ہیں جس سے ہر ایک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ، بہرحال مذکورہ تجاویز پر عمل پیرا ہوکر فتنہ قادیانیت کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالی فتنہ قادیانیت سےامت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔آمین
 
Top