ذیشان خان

Administrator
اس روایت کی اصل تحقیق پیشِ خدمت ہے

قادیانی موجودہ دور کے علماء کو بدنام کرنے کے لئے ایک حدیث باربار پیش کرتے ہیں اور علماء کو بدنام کرتے ہیں کہ علماء بدترین مخلوق ہیں.ہر قادیانی بار بار ایک حدیث بیان کر کر کے علماء کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے. یہ اصل حدیث امام بیہقی کی کتاب شعب الایمان میں ہے ( شعب الایمان جلد 3 صفحہ 317 حدیث نمبر1763)
اب قادیانیوں کا دھوکہ دیکھیں کہ کوئی بھی قادیانی کبھی بھی اس حدیث کی سند بیان نہیں کرے گا کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ یہ حدیث سند کے حساب سے ضعیف ہے.
اس حدیث کے حاشیہ میں واضح طور پہ لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ سب سے پہلی بات کہ حضرت علی بن حسین رضی اللہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے نہیں ملے.
اس کے راوی عبداللہ بن دکین کے بارے میں امام یحی بن معین کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے اور امام ابوزرعۃ کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے.
( شعب الایمان جلد 3 صفحہ 317 حدیث نمبر1763)
امام ابن عدی نے عبداللہ بن دکین کا ذکر کر کے امام یحی بن معین کا یہی قول نقل کیا کہ یہ کچھ نہیں ہے. (الکامل فی الضعفاء جلد 5 صفحہ ، 377)
امام رازی اپنی کتاب میں عبداللہ بن دکین کا ذکر کرتے ہوئے امام یحی بن معین کا قول بیان کیا کہ یہ ضعیف ہے اور آگے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمان سے اس راوی کے بارے میں پوچھا تو انہون نے کہا کہ منکر حدیث ہے اور ان کی محمد بن جعفر سے بیان کی گئی حدیث منکر ہے.
( کتاب الجرح والتعدیل جلد 5 صفحہ 49، 50)
 
Top