ذیشان خان

Administrator
رحمت اللعالمین

✍⁩ابو حماد کریم نگر

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے انہیں نبی رسول پیغمبر اور اسوہء حسنہ بناکر بھیجا ہے۔
تاکہ ظلمات کے اندھیروں میں ہدایت و فلاح کی روشنی سے صراط مستقیم کو پا سکیں اور منزل مقصود دنیا وآخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق فرماتا ہے
21 : سورة الأنبياء -107

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اے نبیﷺ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
رحمت کیا ہے
مراد ہے کرم مہربانی تحسین شاباش۔
رحمت سے بھلائی ہمدردی غمکساری بے لوث محبت ہوگی۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے اور وہ اپنی اس خصوصیت کو بہت پسند کرتا ہے اسی لیے وہ جنہیں بھی اپنا رسول اور پیغمبر بنایا ہے وہ بھی اس صفت کی بھر پور پاسداری کرتے تھے۔
جب تدریجی عمل یہاں تک پہنچا کہ ساری دنیا ایک عالمی گاؤں کی سی کیفیت اختیار کر رہی تھی تو پھر آخری پیغمبر مبعوث فرمایا اور انہیں عالمی ہی نہیں بلکہ عالمین کے لیے رحمت بنا یا۔
غور کریں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ساری کی ساری تخلیقات انسانوں کے لیے کی ہیں۔
3 : سورة آل عمران 191

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
جو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے ، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ ﴿ وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں﴾ پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے ، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے ۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ،
اس جہاں کی ہر شئے براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسانیت کی خدمت پر معمور ہے
اب یہ سب سے بڑی رحمت ہے پھر یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو بھی مقصد کے تحت ہی بھیجا ہے لیکن دوسروں سے مختلف۔
اسے اپنی چند صفات عطاء کیں اور ارادے و عمل کا اختیار دیا جس سے حضرت انسان خود اپنا مستقبل طے کر سکیں۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اب جبکہ یہ حقیقت معلوم ہوچکی کے ہمیں یہاں سب کچھ خود سے ہی کرنا ہوتا ہے۔
اسے سمجھنے کے لیے دنیوی معاملات کو دیکھیں میری ضروریات کو مجھے ہی پورا کرنا ہوتا ہے میری طاقت توانائی کے لیے مجھے ہی کھانا ہوتا ہے میری بھلائی کے لیے مجھے ہی کچھ کرنا ہوتا ہے اسی طرح میرے مستقبل کے لیے بھی مجھے ہی کچھ کرنا ہوتا ہے جیسے عام طور پر جوانی کی کمائی بڑھاپے کے لیے کام آتی ہے اس میں بھی دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ تعلقات اولاد اور سماج بھی درکار ہوتے ہیں تو ان سب کو بھی کمانا ہوتا ہے۔
دولت تو محنت سے اور ہوشیاری سے کمائی جاسکتی ہے لیکن اولاد و تعلقات اور سماج کو صرف رحمت سے کمایا جا سکتا ہے۔
رحمت کیا ہے حق و انصاف ہے جس کا مقام جو ہے جس کی قیمت جو ہے جس کے لائق جو ہے اسے وہی مقام و مرتبہ دیں یہ انصاف ہے پھر اس میں رحمت یہ ہے کہ غلطیوں کو ڈھانک لیں مجبور ہوں تو اس کے ساتھ ایثار و قربانی ہمدردی والا معاملہ رکھیں
پھر ایک اہم بات توقعات اور امیدیں پوری کی پوری قابل اور قادر سے ہی وابستہ رکھیں جو اس لائق ہے وہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات ہی ہے۔
جس سے عمل بے لوث اور خالص ہوگا۔ تب کہیں جا کر معاشرے و سماج کے لیے رحمت بن سکیں گے۔
پھر رحمت کوئی چھوپی ہوئی چیز نہ ہو گی جیسے خوشبو کو چھوپاۓ نہیں چھپتی اسی طرح رحمت بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔
گھر میں رحمت یہ ہے کہ سب کے حقوق ادا ہورہے ہوں سب کو اپنا مقام و مرتبہ مل رہا ہو سب کا خیال رکھا جا رہا ہو پھر یہی کچھ خاندان میں بھی یہی کچھ معاشرے و سماج میں بھی اس سے رحمت اور برکت دونوں بھی ظاہر ہونگے۔
دیکھیں اللہ تعالیٰ ہر متنفس پر وہی بوجھ ڈالتا ہے جو کہ اس کی قدرت یا اختیار میں ہو
2 : سورة البقرة - 286
اللہ کسی متنفّس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے ، اس کا و بال اسی پر ہے ۔
﴿ ایمان لانے والو! تم یوں دعا کرو ﴾ اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں ، ان پر گرفت نہ کرنا ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔
اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیے اسوائے حسن قرار دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی ہماری طاقت و حیثیت میں ہے اس پر جتنا عمل ہوسکتا ہے اپنے آپ کو اتنا اس دیے گئے (ماڈل) اسوۂ کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
اسی میں فلاح اور اسی میں کامیابی اور یہی مقصود بھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون کرے یہاں کون کس کی سنتا ہے۔ یہ تو صراصر بہانا ہے شیطانی وسوسہ ہے۔
میں خود میرا ذمدار یوں مجھے انعام یا سزا کے لیے میرے نامہ اعمال کو ہی اسوے کے مطابق پرکھا جائے گا۔ وہاں نہ کرپشن ہوگا اور نہ کسی کی مداخلت۔
2 : سورة البقرة - 48

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا ، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا ، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔

اس طرح کی آیات قرآن مجید میں دیکھ سکتے ہیں۔
2-48
2-123
2-254
2-255
4-85
6-51
7-53
11-37
19-87
21-28
32-4
34-23
74-48
رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے وفاداری کریں
اپنے گھر والوں کے لیے رحمت دوست احباب کے لیے رحمت اڑوس پڑوس کے لیے رحمت مسلمانوں کے لیے رحمت غیر مسلموں کے لیے رحمت سارے سماج کے لیے رحمت حشرات الارض نباتات حیوانات ماحول کے لیے رحمت بنیں۔
اللہ تعالیٰ ہو توفیق عطا فرمائے آمین۔ ثم آمین۔
 
Top