ذیشان خان

Administrator
کیا واقعی سیرت کی کتاب " الرحیق المختوم " ایک سطحی اور غیر علمی مقالہ ہے ؟

✍⁩ثناءاللہ صادق تیمی

سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے " الرحیق المختوم " معروف کتاب ہے ۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اسے اول انعام کا مستحق گردانا گیا تھا جس کا انعقاد رابطہ عالم اسلامی نے کیا تھا ۔پچھلی چند صدیوں میں لکھی جانے والی سیرت کے موضوع پر جب بھی معتبر اور اچھی کتابوں کا ذکرہوگا تو اس کتاب کا ذکر ضرور ہوگا ۔مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی یہ کتاب عالمی شہرت یافتہ ہے ، دنیا کی لگ بھگ ہر زندہ زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور گذشتہ چالیس پچالیس سالوں میں سب سے زیادہ چھپنے والی کتابوں میں سے ایک ہے ۔اس کتاب کو خود مرجع کی حیثیت حاصل ہے ، کتاب کا مطالعہ کرنے والا اگر منصف مزاج ہو تو اسلوب کی تازگی کے ساتھ ہی تحقیق کی باریکی کی داد دیے بنا نہیں رہ سکتا ۔ مولانا مبارکپوری نے بھرپور کوشش کی ہے کہ کتاب کے مندرجات صحیح احادیث کے مطابق ہوں ورنہ یہ بات مشہور ومعروف ہے اور اہل علم اس سے واقف ہیں کہ سیرت کی کتابوں میں بے سروپا روایات کی کثرت ہوتی ہے ۔ امام احمد کا مشہور قول ہے : ثلاثۃ لیس لھا اصل : التفسیر و المغازی و الملاحم ۔ االرحیق المختوم کی قدرو قیمت کا اندازہ لگانا ہو تو آپ سیرت کے موضوع پر لکھی گئی دوسری کتابوں کے ساتھ اس کا مطالعہ کرکے دیکھیے ۔
بر وقت اس کتاب کو لے کر ایک بحث سوشل میڈیا پر گرم ہے جس کی وجہ دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوی ہے جس میں الرحیق المختوم کو ایک نہایت سطحی اور غیر علمی مقالہ کہا گيا ہے ۔مفتی دیوبند کی نظر میں یہ کوئی مستقل کتاب نہیں ۔کاش مفتی صاحب یہ بھی فرمادیتے کہ کتاب کی ان کے نزدیک تعریف کیا ہے ؟ اور کتاب اور مقالہ میں وہ کس طرح فرق کرتے ہیں ؟؟
اس فتوی پر الرحیق المختوم سے استفادہ کرنے والوں کو تکلیف ہونی ہی چاہیے تھی اور انہوں نے اس پر رد عمل کا اظہار بھی کیا ۔جواب میں دیوبند کے پر جوش خوشہ چینوں نے فتوی کو درست قرار دینے کی کوشش بھی کی ۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ گھومنے والی تحریر مفتی عبیداللہ قاسمی کی ہے جن کے بارےمیں لکھا گیا ہے کہ موصوف دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ہيں ۔ہم یہاں اسی تحریر کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے لیکن اس سے قبل دو تین باتیں عرض کرنی ضروری ہیں :
1 ۔ دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوی کے مطابق اہل حدیث ( غیر مقلدین ) اہل سنت والجماعت میں نہیں آتے ۔
2 ۔ دارالعلوم دیوبند ہی کے ایک فتوی کے مطابق صفی الرحمن مبارکپوری ایک نہایت متعصب غیر مقلد ہیں جو جادہ حق سے منحرف ہیں ، ان کی کتابوں سے دور رہنا چاہیے ۔
ان دو باتوں کو سامنے رکھیے تو الرحیق المختوم کے بارے میں دارالعلوم دیوبند کی رائے پر کسی کو تکلیف تو ہوسکتی ہے لیکن تعجب نہیں ہوگا ۔ جب مسلک ہی کسی کو تولنے کا پیمانہ ہو تو اسی قسم کی رائے سامنے آسکتی ہے ۔
اب آتے ہیں مفتی عبید اللہ قاسمی صاحب کی تحریر کا جائزہ لیتے ہیں ۔ موصوف کو چوں کہ اپنے ادارے کے فتوی کو کسی نہ کسی طرح درست ثابت کرنا تھا اس لیے اپنی بھر کوشش کی کہ کتاب میں کچھ خامیاں دکھلائی جاسکیں لیکن بے چارے کو یہاں بھی منہ کی کھانی پڑی ۔ بعض صفحات کا ذکر کیا لیکن کتاب کی طباعت یا سنہ اشاعت وغیرہ کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھا اور باتیں بھی ایسی کہ کسی طالب علم کی بھی ہنسی چھوٹ جائے ۔
موصوف کو شکایت ہے کہ صفی الرحمن صاحب نے اردو کتاب رحمۃ للعالمین کا بہ کثرت حوالہ دیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ موصوف کوقاضی سلیمان سلمان منصورپوری کی کتاب رحمۃ للعالمین سے استفادہ کا موقع ملا یا نہیں لیکن اس کتاب کی قدروقیمت کے بڑے قائل مولانا ابوالحسن علی ندوی رہے ہیں ، وہ اس کتاب کو اپنی محسن کتابوں میں شمارکرتے ہیں اور بڑے والہانہ انداز میں اس کا ذکر کرتے ہیں ۔خود سیرت النبی کے شریک مصنف سید سلیمان ندوی بھی اس کے اسیر نظر آتے ہیں ۔ سیرت النبی اردو میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں میں بڑی اہم اور اونچی کتاب تسلیم کی جاتی ہے ۔ جب شبلی نعمانی صاحب نے اس کتاب کا اشتہار دیا تو اس وقت کے صاحبان علم و فضل نے یہ بات بھی کہی تھی کہ جب قاضی سلیمان سلمان منصورپوری " رحمۃ للعالمین " لکھنے کا ارادہ رکھتے ہی ہیں تو اب سیرت النبی کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے ۔(اس بات کا ذکر خود سید سلیمان ندوی نے بھی کیا ہے ) اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب کس درجے کی ہوگی اور جس کسی کو رحمۃ للعالمین پڑھنے کی سعادت حاصل ہوجائے اسے ضرو ریقین ہوجائے گا کہ وہ کس درجے کی تحقیقی کتاب ہے ۔ کسی کا اعتراض اگر یہ ہو کہ کتاب اردو میں ہے تو اس آدمی کے فکر ونظر کی سطح کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے !!!
موصوف کو اس بات کی بھی شکایت ہے کہ کتاب میں ثانوی مصادر ومراجع سے استفادہ کیا گيا ہے ۔موصوف نے کتاب کے دو سو سے زائد صفحات کا سرسری مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں لیکن افسوس کہ موصوف نے ایک چھوٹی سی تحریر میں بھی امانت و دیانت کا ثبوت نہیں دیا ۔
ہاجرکے بارے میں تفصیل ذکر کرتے ہوئے مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے رحمۃ للعالمین کے ساتھ ساتھ تاریخ ابن خلدون کا بھی حوالہ دیا ہے جسے موصوف نے ذکر نہیں کیا ۔ یہ ہے حضرت کی تنقیدی بصیرت !!!
مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے مقدمہ کے اندر اس کتاب میں اختیار کیے گئے اپنے منہج کا ذکر یوں کیا ہے " إنني حين قررت كتابتها رأيت أن أضعها في حجم متوسط متجنبا التطويل الممل و الإيجاز المخل و قد وجدت في المصادر اختلافا كبيرا في تربيب الوقائع أو في تفصيل جزئياتها وفي مثل هذه المواقع قمت بالتحقيق البالغ و أدرت النظرفي جميع جوانب البحث ثم أثبت في صلب المقالة ما ترجح لدي بعد التحقيق "
مبارکپوری 18 پر لکھتے ہیں " وبعد إدارة النظر من جميع الجوانب أثبتنا ماترجح عندنافي هذا الباب من حيث الدليل "
کوئی بھی صاحب علم و نظر اس سے یہی اندازہ لگائے گا کہ صاحب کتاب دلیل کی روشنی میں اس کو اختیار کرے گا جو اسے راجح سمجھ میں آئے گا ۔ قاسمی صاحب اس کا مطلب یوں نکالتے ہیں :
"نوٹ: موصوف مقدمے میں بھی " ثم اثبت صلب المقالۃ ما ترجح لدی بعد التحقیق " لکھ چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جمہور کی تحقیق کے مقابلے میں اپنی تحقیق کو راجح قراردیتے ہیں "
صاحب نظر اندازہ لگائیں کہ دونوں باتوں میں کتنا فرق ہے اور مفتی صاحب نے کیا زبردست مطلب نکالا ہے ۔ تعصب و تنگ نظری کا نتیجہ کچھ اسی شکل میں نکلنا بھی چاہیے تھا ۔
مفتی صاحب نے لکھا ہے : صفحہ 27 : سفرالتکوین نوٹ : مصنف نے اکلوتا حوالہ بائبل کے باب Genesis سے دیا ہے "
جب کہ کتاب میں سفرالتکوین کے ساتھ ہی تاریخ الطبری کا حوالہ بھی درج ہے ۔
انسان نہ دیکھنا چاہے تو نظر بھی نہيں آتا !!!!
مفتی صاحب نے قبا کے قیام سے متعلق مبارکپوری کے اختیارچار دن پر بھی اعتراض کیا ہے جو ابن اسحاق کی روایت ہے اور جسے منصورپوری نے بھی اختیار کیا ہے جس کے بالمقابل ابن قیم کا چودہ دن کا موقف ہے ۔ بخاری میں چوبیس ،بضع عشرۃ لیلۃ اور چودہ راتوں کا ذکر ہے ۔مبارکپوری نے ابن قیم کے موقف کا ضعف بتلانے کی کوشش کی ہے البتہ انہوں نے خود اپنے اختیار کے دلائل فراہم نہیں کيے لیکن دیانت داری سے سب کچھ بیان ضرور کردیا ہے اور سیرت کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ سیرت نگاروں کے یہاں اس سلسلے میں کتنے سارے اقوال پائے جاتے ہیں !!!
قاسمی صاحب نے وحی کی ابتداء سے متعلق بھی مولانا صفی الرحمن صاحب کے بارے میں درست بات نہیں لکھی ہے ۔ قاسمی صاحب لکھتے ہیں : صفحہ 66: موصوف نے اپنی عقل سے فرمایا ہے کہ نزولِ وحی کی ابتداء 21 رمضان کو ہوئی جس کا حوالہ نہ صرف یہ کہ ندارد ہے بلکہ یہ تک فرمایا کہ اس کا قائل کوئی نہیں ہے"
جب کہ مبارکپوری صاحب نے اختلاف کا ذکر کرنے کے بعد اکیس رمضان کو راحج قرار دینے کی بنیاد صحیح مسلم ، احمد ، بیہقی اور حاکم کی حدیث پر رکھی ہے جس میں کہا گيا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سموار کے دن پیدا ہوئے اور اسی دن آپ پر وحی نازل ہوئی اور تقویم علمی سے اس کو جوڑ کر دیکھا ہے تو اکیس تاریخ سامنے آئی ہے ۔ اس تفصیل کو صرف عقل سے جوڑنا عجیب وغریب بات ہے ۔ آپ کو ایک بے حد متعصبانہ بلکہ جاہلانہ فتوی کو درست قراردینا تھا تو ظاہر ہے کہ آپ یہی سب کرنے پر مجبور ہوتے !!!
قاسمی صاحب نے کتاب میں مذکور دوحدیثیں ذکر کی ہیں ۔ ایک کو ضعیف کہا ہے اور ایک کے بارے میں محدثين کی بات نقل کی ہے کہ لا اصل لہ بھذا اللفظ ۔ قابل ذکر یہ ہے کہ صفی الرحمن مبارکپوری نے دونوں حدیثوں کے مصادر ذکر کردیے ہيں ۔
ان دو حدیثوں سے متعلق قاسمی صاحب کی بات درست لگتی ہے ۔ سیرت نگاروں نے عام طور سے اس بابت تساہل سے ہی کام لیا ہے ۔ صاحب الرحیق المختوم کا امتياز یہ ہے کہ انہوں نے محدثین کی کاوشوں سے فیض اٹھاتے ہوئے کوشش کی ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں ہی کتاب ترتیب دی جائے تبھی تو پوری کتاب سے موصوف کو ایسی دوحدیثیں ہی مل پائی ہیں جن کے بارےمیں کلام کیا جا سکتا ہے، ان میں بھی ترمذی والی روایت سے متعلق محدثین کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے اور اس معنی کی دوسری روایتیں موجود ہیں ۔میں امید کرتا ہوں کہ مفتی صاحب سیرت کی اپنے ہم مسلک علماء کی کتابوں میں ذکر کی گئی حدیثوں کا محدثین کے اصول کی روشنی میں جائزہ لینے کی کبھی ضرور زحمت کریں گے اور موضوع و ضعیف احادیث کی تفصیل بیان کریں گے اور پھر کتاب کو غیر علمی اور نہایت سطحی جیسے القاب سے بھی ضرور نوازیں گے ۔ میں مفتی صاحب کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو اپنے کسی بھی بزرگ کی کسی بھی کتاب کا کچھ ہی حصہ پڑھنے کی زحمت کرنی ہوگی ۔ دو ضعیف موضوع حدیثوں کو نکالنے کے لیے آپ کو دو سو ڈھائی سو صفحات نہیں پڑھنے ہوں گے۔ آپ مولانا عبدالرؤف صاحب داناپوری کی اصح السیر ، مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب کی النبی الخاتم ،مولانا ادریس صاحب کاندھولوی کی سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کی السیرۃ النبویہ کا سرسری مطالعہ ضرور کریں اور ہاں اپنی تحقیق سے مطلع ضرور کیجیے گا !!!
قاسمی صاحب کو اس بات سے بھی پریشانی ہے کہ مبارکپوری نے ترمذی سے حدیث کا حوالہ دینے کی بجائے تحفۃالاحوذی شرح ترمذی سے دیا ہے !!!آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ موصوف کتنے اعلا درجے کے محقق ہیں !!!
موصوف قاسمی صاحب کی نظر میں کتاب اس لیے بھی غیر علمی اور نہایت سطحی ہے کہ اس میں ثانوی مصادر سے استفادہ کیا گيا ہے جیسے تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی ، محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ لحضری بک، تفہیم القرآن از مولانامودودی اور مختصر سیرۃ الرسول لمحمدبن عبدالوھاب وغیرہ ۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا کوئی کتاب اس لیے ثانوی مصدر کا درجہ اختیار کرلے گی کہ آپ اسے ثانوی درجے کی سمجھتے ہیں یا پھر اس کا کوئی باضابطہ کلیہ بھی ہوگا اور پھر دوسری بات یہ کہ کیا واقعی ثانوی مصادر سے استفادہ کرنا علمی بحث و تحقیق کے خلاف ہے ؟ اور تیسری بات یہ کہ کیا آپ اس اصول کو خود اپنے اور اپنے ہم مسلک لوگوں کی کتابوں پر منطبق کریں گے ؟ یہ باتیں صرف اس لیے لکھی گئی ہیں کہ فتوی کو درست ثابت کیا جائے ورنہ تحقیق کا ایک ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ بنیادی مصادر کے ساتھ ساتھ ثانوی مصادر سے استفادہ کوئی معیوب بات نہیں اور پھر سیرت کی کتابوں سے متعلق عدم جانکاری کا شاخسانہ ہی ہے کہ موصوف اس قسم کی بے تکی باتیں کرتے ہیں ، سیرت نگاری مولانا مبارکپوری کے وقت جس مرحلے میں پہنچ چکی تھی اس میں بعد والے اپنے سےپہلے والے لوگوں کی کاوشوں سے استفادہ کرتے ہی ہیں ۔ آپ اپنی کم علمی کی بنیاد پر کسی کتاب کی علمی حیثیت سے واقف نہ ہوں اور اسے چوتھے درجے کی کتاب باورکریں تو آپ کی علمی قابلیت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔مبارکپوری کی دیانت داری یہ ہے کہ انہوں نے جس کتاب سے استفادہ کیا اس کا حوالہ دیا اور یہ نہیں دیکھا کہ کوئی مصنف کس مسلک سے منسلک ہے ۔ علم والوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے ۔ تعصب و تنگ نظری کے خول میں بند آپ کا ذہن اہل علم سے بھی یہی تقاضا کررہا ہے کہ وہ آپ ہی کی طرح تنگ نظر ہوجائیں۔
صفی الرحمن مبارکپوری صاحب نے کتاب کے اخیر میں مراجع ومصادر ذکر کردیے ہیں ۔ مفتی صاحب موصوف کو اتنی محنت کی بھی ضرورت نہیں تھی اگر وہ مراجع ومصادر پر ایک نظر ڈال لیتے ۔ موصوف کا دعوی ہے کہ سرسری مطالعے سے وہ اس نتیجے تک پہنچے ہیں اگر وہ بالاستیعاب جائزہ لیں گے تو کیا صورت حال ہوگی ، ہم عرض کریں گے کہ آپ ضرور مکمل جائزہ لیجیے اور کتاب کی خامیاں باہر لائیے تاکہ ہم جیسے لوگ استفادہ کرسکیں ، ہم تو ایسے بھی غلطیوں کی تقدیس کے قائل نہیں ہیں ، آپ درست بات لکھیں گے تو ہم ضرور کان دھریں گے البتہ یہ گزارش ضرور کریں گے کہ اس مختصر سے مضمون میں جس تلبیس و کذب بیانی سے آپ نے کام لیا ہے ، وہ اللہ کے واسطے نہ کريں گے تو اچھا ہوگا ۔ آپ کے نام کے ساتھ پرفیسر اور مفتی دونوں لگا ہوا ہے ، ان دونوں کا لحاظ ضرور کیجیے گا !!!
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مولانا مبارکپوری کو الرحیق المختوم لکھنے کے عوض جنت الفردوس میں اعلا مقام دے ، کتاب کو ان کےلیے صدقہ جاریہ بنائے رکھے اور تنگ نظر لوگوں کو تنگ نظری سے نجات دے ۔ آمین
 
Top