ذیشان خان

Administrator
شریعت کی مخالفت سے بچو ورنہ کہیں...

✍⁩الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: ٦٣]
سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہونچے.

معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم وجوب پر دلالت کرتا ہے، اور حکم عدولی کا لازمی نتیجہ دو سزاؤں سے خالی نہیں، یا تو اس پر دنیوی بلا نازل ہوگی، یا ددرناک اخروی عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔لہذا لوگوں کوظاہر وباطن ہر معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی مخالفت سے ڈرنا چاہئے.
فتنہ کی تفسیر میں سلف صالحین اور علماء مفسرین کے اقوال کچھ اس طرح ہیں:
یہاں بالتفصیل’’ فتنہ‘‘ سے مرادہے: شرک وکفر،بدعت، دل کا نفاق، گمراہی، دل پر اللہ کی جانب سے مہر لگا دیا جانا، مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا کمزور ہونا اور ظالم وجابر سلطان کا مسلط کردیا جانا، قتل، دنیوی مشکلات، زلزلہ، استدراج.
﴿عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ سے مراد: یاتو دنیا میں قتل ہے یا آخرت میں جہنم کا عذاب.

ماخوذ از: [تفسیر الماوردی، تفسیر ابن کثیر، موسوعۃ التفسیر المأثور، فتح البیان، اضواء البیان]
 
Top