ذیشان خان

Administrator
برائی کو بھلائی سے دفع کرو

ابو حماد کریم نگر

کسی بھی قسم کی برائیاں انسانوں میں شیطانی وساوس اور غفلت کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ انسانی فطرت میں رکھا ہے کہ وہ برائی کو نہ پسند کرتا ہے اور اس سے نفرت ہوتی ہے۔
انسانی سماج و معاشرے میں اگر برائی در آئے تو انتشار پیدا ہوتا ہے برائی جس قدر شدید ہوگی انتشار بھی اتنا شدید ہوگا
اس انتشار سے سماج و معاشرے میں بہت سارے رذائل اخلاق وجود میں آتے ہیں۔ بداعتمادی شکوک وشبہات تعلقات میں دراڑ دوریاں حق تلفیاں جھگڑے فساد وغیرہ وغیرہ۔
ایسے مواقع انسانی سماج میں ہر فرد ہر خاندان ہر اکائی اور ہر گروہ و جماعت کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں ایسے حالات و مواقع پر سنجیدگی سے پختہ کار حل اور اس بیماری کے علاج ‌کی ضرورت ہوگی
کسی بھی معاملے میں پختہ کار طریقے اصلاح کارگر اور دیرپا ثابت ہوتا ہے اور اس کے لیے صبر ثابت قدمی اور ایثار درکار ہوگا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
23 : سورة المؤمنون - 96

اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ السَّیِّئَۃَ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَصِفُوۡنَ ﴿۹۶﴾

اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو ۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں ۔

13 : سورة الرعد - 22

وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾

ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں ۔ آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے ،

28 : سورة القصص - 54

اُولٰٓئِکَ یُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۵۴﴾

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی ۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔

رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ دیکھیں تو ان احکامات کا عملی نمونہ نظر آتا ہے
پوری مکی ذندگی اور شعبہ ابی طالب کے واقعات دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے راستے میں ایک عورت رہتی تھی جو ہمیشہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکا کرتی اسکی اس برائی سے غور کریں حضور کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی جسمانی اور ذہنی طور پر۔
یہ واقعہ بیان کرلینا اور کہے لینے سے اسکی کیفیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اسے خود پر محسوس کریں تو اندازہ ہوگا اگر کوئی یہ معاملہ ہمارے ساتھ کرے ایک آدھ مرتبہ ہی کرے ہم پر کیا گزرے گی اور ہم اسکا ردعمل کس طرح دینگے۔
کم از کم اسے برا بھلا تو کہیں گے یا پھر تشدد کریں گے یا وہی کچرا اس پر واپس پھنکینگے
لیکن یہاں اسکا یہ حل نہیں ہے
برائی قابل ناپسندیدہ اور قابل نفرت ضرور ہے یہ اگر کسی فرد میں ہو تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس برائی سے ہی نفرت ہو فرد سے نہیں ملوث فرد بحرحال ہمدردی کا مستحق ہے۔
دیکھیں جب کوئی اپنا بیمار ہو جاتا ہے تو اس بیمار سے ایک خاص قسم کی ہمدردی و غمکساری پیدا ہوجاتی ہے جبکہ بیماری کو کوئی پسند نہیں کرتا لیکن وہ کسی فرد کو لاحق ہوگئی تو اس فرد سے ہم نفرت نہیں کرتے۔
اسی طرح کسی برائی میں ملوث فرد سے متعلق دیکھا جانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو کسی قسم کا بدلے والا ردعمل نہ دیا پھر ایک دن کچرا نہ پھینکا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ وجہ جاننے کے لیے اس سے متعلق دریافت کیا معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے تو اس کی تیمار داری اور دلجوئی اور بیماری کی تکلیف میں ہمت دلانے کے لیے اس کے گھر پہنچے وہاں اپنے ساتھ کیے گئے سلوک کا کوئی تزکرہ نہیں بلکہ صرف اس کی ہمدردی اسکی بھلائی
اور جب برائی کا جواب بھلائی سے دیاگیا تو وہ شرمندہ ہوئی اور اپنے دل کی آواز پر توجہ دی پھر اسے حقیقت پر غور کرنے کا موقع ملا وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لےآئی۔ پھر شدید تکلیف دہ سلوک کا موقع طائف میں پیش آیا اس موقع پر ہم اپنے آپ کو رکھ کر دیکھیں کے وہاں ہمارا ردعمل یا جواب کس طرح کا ہوتا اس واقعے کی شدت کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اس وقت کیسے تھے آپ کن کن مسائل سے گزر رہے تھے ایسے وقت ہم پر کوئی ایسی کیفیت پیش آجائے تو ہمارا کیا ردعمل ہوتا لیکن قربان جائیں ہم اور ہمارے ماں باپ اور ہمارا سب کچھ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت پر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار تک دے دیا کہ پوری بستی کو سزا دینا چاہیں تو اپکا فیصلہ عمل درآمد ہوگا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برائی کو بھلائی سے دفع کیا نتیجہ دیکھیں انہیں موقع ملا کے حقیقت کو سمجھیں پھر وہ ایمان لے آئے
اسکے دیرپا نتائج پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال فرما نے کے بعد لوگ مرتد ہو رہے تھے لیکن مکہ والے ان میں شامل نہیں ہوئے
ایسے حالات میں مخلصانہ غور ہو جذبات کو اپنے آپ پر حاوی ہونے نہ دیں
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور ہدایات و طریقہ کار ہی سیدھا راستہ ہے۔
رزق سے مراد کھانا یا کھائی اور پی جانے والی اشیاء ہی نہیں بلکہ علم اور مختلف میدانوں کی صلاحیتیں طاقت و توانائی صحت وعافیت سہولیات سمجھ بوجھ مال و متاع اولاد خاندان دوست احباب معاشرہ تعلقات عقل و شعور حکمت دانائی گھر بار کھیتی باڑی کارخانے غرض ضروریات کی تکمیل میں کام آنے والے تمام ذرائع و وسائل وغیرہ سب کے سب رزق ہیں انہیں خرچ کرنا اپنے آپ پر گھر بار پر معاشرے سماج پر۔ جس کو جس قسم کی ضرورت ہو اس پر اپنے پاس موجود رزق میں سے۔
پھر جب شعور کے ساتھ عمل ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بہت بڑا مہربان اور قدردان ہے۔ وہ کسی عمل کا عامل کو اس کی کیفیت کے حساب سے دوگنا اور اس سے بھی زیادہ دیگا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطاء فرمائے آمین
 
Top