ذیشان خان

Administrator
اگر امام کسی عذر کی بنا پر نماز مکمل نہ کر سکے تو مقتدیوں میں سے کسی کو اپنی جگہ کھڑا کر سکتا ہے

✍⁩از: فاروق عبد اللہ نراین پوری

(13) عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قصہ شہادت سے مستفاد نصائح اور علمی فوائد

فائدہ نمبر (13): اگر امام کسی عذر کی بنا پر نماز مکمل نہ کر سکے تو مقتدیوں میں سے کسی کو اپنی جگہ کھڑا کر سکتا ہے.

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نیزہ مارے جانے کے بعد اپنی جگہ پر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لئے کھڑا کرنا اس بات کی دلیل ہےکہ امام کسی عذر کی بنا پر اگر نماز مکمل نہ کرا سکے تو اپنی جگہ مقتدیوں میں سے کسی کو امامت کے لئے آگے بڑھا سکتا ہے۔
یا مقتدیوں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز مکمل کرا سکتا ہے۔
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نماز مکمل کرانے کا واقعہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سامنے ہوا تھا لیکن کسی نے اس پر نکیر نہ کی ، گویا کہ یہ ان کی طرف سے اجماع تھا۔
(دیکھیں: مرقاۃ المفاتیح 2/794، والموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ 3/253 وغیرہ)۔
اسی طرح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دوران نماز ناک سے خون بہنے کی وجہ سے ایک شخص کو اپنی جگہ امامت کے لئے کھڑا کیا ، اور نکل گئے۔ (دیکھیں: مصنف عبد الرزاق 2/352، السنن الکبری للبیہقی 3/162 وغیرہ)
یہی عمل بعض تابعین سے بھی منقول ہے۔ (دیکھیں: مصنف عبد الرزاق، باب الامام یحدث فی صلاتہ، سنن بیہقی ، باب الصلاة بإمامين أحدهما بعد الآخر، وغیرہ)
اس مسئلہ میں اجماع کا بھی دعوی کیا گیا ہے، صحیح یہ ہے کہ اختلاف بھی موجود ہے۔ (دیکھیں: مرقاۃ المفاتیح 2/794 وغیرہ)
لیکن راجح یہ ہے کہ یہ جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جارى.........
 
Top