ذیشان خان

Administrator
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ"

ترتیب : حافظ محمد طاهر بن محمد

سیدنا ومحبوبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فداہ ابی وامی وروحی وجسدی وحیاتی ومالی وکل ما عندی صلوات ربی وسلامہ علیہ کا نمازِ جنازہ فردا فردا ادا کیا گیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک ایک گروہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوتا، ہر شخص اپنی انفرادی نماز جنازہ پڑھتا اور باہر آ جاتا، کسی نے بھی امامت نہیں کروائی تھی، جیسا کہ کئی ایک دلائل سے ثابت ہے.

سالم بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی؟
انہوں نے فرمایا : جی بالکل.
لوگوں نے پوچھا : کیسے؟
فرمایا : لوگ حجرے میں داخل ہوں، تکبیریں پڑھیں ، درود پڑھیں، دعا کریں اور باہر آ جائیں ، پھر دوسرا گروہ داخل ہو، تکبیریں پڑھے، درود بھیجے ،دعا کرے اور باہر آ جائے، اسی طرح سب داخل ہو سکیں گے.

(شمائل ترمذی : 397، السنن الکبری للنسائی : 1719 وسندہ صحیح)

سیدنا بہز بن اسد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت مدینہ میں موجود تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ کیسے ادا کی جائے؟
اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گروہ گروہ کر کے حجرے میں داخل ہو جائیں چنانچہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ ادا کرتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے.

(مسند احمد : 81/5 ح : 21047 وسندہ صحیح)

سیدنا ابو عسیم یا ابو عسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات پر لوگوں نے کہا کہ آپ کی نمازِ جنازہ کیسے ادا کی جائے؟
پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اس دروازے سے ایک ایک گروہ کر کے داخل ہوتے جائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ ادا کریں اور دوسرے دروازے سے نکل جائیں.
(الطبقات الکبری لابن سعد : 2/ 289 وسندہ صحیح)

عظیم تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وفات پا گئے تو آپ کو چارپائی پر رکھا گیا، لوگ (حجرے میں) گروہ در گروہ داخل ہوتے، آپ کی نماز جنازہ پڑھتے اور باہر آ جاتے، کسی نے بھی امامت نہیں کروائی."
(مصنف ابن ابی شیبہ : 7/ 430 وسندہ حسن إلی سعید)

امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں :
"نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعظیم ومنزلت کا خیال کرتے ہوئے فردا فردا نمازِ جنازہ ادا کی اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نمازِ جنازہ کی امامت کروائے."
(السنن الکبری للبیہقی : 4/ 30 وسندہ صحیح)

امام ابن عبد البر اندلسی رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں :
"نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فردا فردا نمازِ جنازہ ادا کیے جانے پر تو تمام سیرت نگار متفق ہیں اور محدثین کا بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں."
(التمہید : 24/ 397)

علامہ شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں :
"بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ فردا فردا ادا کی تھی چونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آخری لمحات تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چاہا کہ کسی دوسرے (امام) کے تابع ہوئے بغیر ہر ایک اس برکت کو خصوصی طور پر حاصل کر لے."
(الجامع لأحكام القرآن : 225/4)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
"اس بات میں کوئی اختلاف نہیں، اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ فردا فردا ادا کی گئی کسی نے بھی امامت نہیں کروائی."
(البدایہ و النہایہ : 5/ 332)

تنبیہ :
سنن ابن ماجہ (1428) وغیرہ میں ایک حدیث ہے کہ پہلے مردوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر خواتین نے اور پھر بچوں نے.
لیکن اس کی سند ضعیف ہے ثابت نہیں، کیوں کہ الحسن بن عبد اللہ بن عبید اللہ، جمہور محدثین کے ہاں ضعیف ہیں.
تنبیہ ثانی :
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا بلکہ صرف درود پڑھا تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ صحیح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کہ صحابہ الگ الگ سے باقاعدہ نمازِ جنازہ ادا کرتے تھے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا.

ختم شد.
 
Top