ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
نکاح کرنا بھی عبادت ہے
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ

دنیا کے لوگ شادی کو محض نفس کی تسکین اور اپنی جسمانی ضرورت سمجھتے ہیں مگر مذہب اسلام شادی کو عبادت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، یعنی اسلام میں شادی ضرورت بھی اور عبادت بھی ہے، اسی لیے مذہب اسلام نے شادی کی ترغیب دی ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي" (سنن ابن ماجہ:2383/صحيح) نکاح میری سنت ہے-
قارئین کرام! شادی کا مقصد نفس کی تسکین اور استمتاع ہے یعنی بیوی سے جماع کرنا ہے اور جماع کرنا بھی عبادت اور نیکی ہے، بشرطیکہ آدمی شادی کی وجہ سے پاکدامنی اختیار کرے اور زنا جیسی خبیث چیز سے اجتناب کرے، جیسا کہ صحیح مسلم شریف کی مشہور روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ" (صحيح مسلم:2376) ہر تسبیح (سبحان اللہ پڑھنا) صدقہ ہے، ہر تکبیر (اللہ اکبر کہنا) صدقہ ہے، ہر تحمید (الحمدللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تہلیل (لاالہ الاالله پڑھنا) صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، کیا کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرے تو اس پر بھی اجر ملے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم بتاؤ کہ اگر یہ اپنی شرم گاہ کو غلط جگہ پر استعمال کرے تو اسے اس پر گناہ نہیں ملے گا؟ تو اسی طرح جب اس نے حلال جگہ پر اسے استعمال کیا تو اس کے لیے اجر وثواب ہے-
شادی بیاہ یہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ شادی نصف دین ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا تَزَوَّجَ العَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّيْنِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ في النِّصْفِ البَاقِي" ( صحيح الجامع الصغير:للالباني:430/حسن -سلسلة الأحاديث الصحيحة:625) جب بندے نے شادی کر لی تو اس نے نصف ایمان کو مکمل کر لیا، اب شادی کے بعد اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے بقیہ نصف کے متعلق خوف کھائے-
شادی بیاہ یہ وہ عظیم الشان عبادت ہے کہ اس راستے سے اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ"(سنن ترمذی:1657/حسن) تین لوگوں کی مدد کی اللہ نے ذمہ داری لے لی ہے 1) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے 2) وہ مکاتب غلام جو اپنے مالک کو متعینہ رقم ادا کرنے کا عزم مصمم کرلے 3) وہ شادی کرنے والا شخص جو پاکدامنی چاہتا ہے-
ان روایتوں سے یہ صاف معلوم ہوا کہ شادی ہماری ضرورت بھی اور عبادت بھی ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم وقت پر شادی کریں، جلد شادی کریں، سادگی سے شادی کریں، جاہلی رسومات، آبائی روایات اور خرافات سے ہٹ کر سنت وشریعت کے مطابق شادی کریں، شادی میں کم خرچ کریں، اسراف اور فضول خرچی سے بچیں، شادی وہی ہے جو سادی ہو، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ"(سنن ابو داؤد:2116/صحیح) سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو یعنی کم خرچ پر ہو-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شادی ایک عبادت اور نیکی کا کام ہے، لہٰذا ہم سب کو جلد از جلد شادی کر لینا چاہیے اور اپنی شادی میں تاخیر قطعاً نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو پاکیزہ زندگی نصیب کرے اور ہم سب کو شادی کے جملہ فیوض وبرکات سے مالا مال فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top