ذیشان خان

Administrator
ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

✍⁩ابو احمد کلیم الدین یوسف

وہ سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع الاولین والآخرین، سردار ثقلین، فخر عرب وعجم فی الدارین ہیں، صرف ان کی خاطر اللہ رب العالمین نے تمام انبیاء کرام کو جمع کرکے ان سے وعدہ لیا کہ: سنو! میں نے تم سب کو تاج نبوت سے سرفراز کیا ہے، میرے دین کے لئے تم سب کی قربانیاں بھی ہوں گی، لیکن اس کے باوجود تم سب کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا پڑے گا!!
وہ یہ کہ میرا ایک محبوب ہے جسے میں نے اپنا جگری دوست بنایا ہے، تم سب کے اندر جتنی خوبیاں ہیں اس اکیلے میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں، تم سب کو میں نام لے کر پکار تا ہوں، لیکن اس سے مجھے اس قدر محبت ہے کہ تقاضائے محبت کے پیش نظر میں اس کا نام نہیں لیتا، بلکہ میں اسے نبوت ورسالت کا حوالہ دے کر پکارتا ہوں، میں نے اس کا نام اپنے نام سے کشید کیا ہے چنانچہ اسے محمد و احمد کہتے ہیں اور مجھے حميد کہتے ہیں.
میرے پیارے نبیو! اگر ان کی بعثت تم لوگوں کی موجودگی میں ہوئی، یا تم میں سے کسی نے اسے پایا تو یاد رکھنا تم تمام نبیوں کا وہی نبی ہوگا، تم ان کی اتباع و فرما داری کروگے، ان کی امت کی حیثیت سے زندگی گذاروگے، ان پر ایمان لاؤگے، ان کی نصرت ومدد اور تائید کیلئے ہمیشہ تیار رہو گے.
اور اگر تم میں سے کسی نبی نے بھی اس وعدہ کی پاسداری نہیں کی تو یاد رہے میں اسے فاسقوں کی صف میں شامل کر دوں گا.
محترم قارئین: جو لوگ آج اللہ کے جگری دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے ہیں انہیں یاد رہے کہ اس سے نبی کی شان میں اضافہ ہو گا، کمی کا تو کہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.
لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے نبی کا دفاع فرض ہے، کیوں کہ جس نبی نے ہم سے ملاقات نہیں کی، ہمیں دیکھا نہیں اس کے باوجود وہ ہمارے لئے دعائیں کرتے رہے، اللہ سے اس کی جنت ہمارے لئے مانگتے رہے، ہمارے لئے قیام اور رکوع وسجود میں روتے رہے ایسے نبی کی عزت کے دفاع میں ہم سب کی جانیں بیک وقت قربان ہیں.
ہماری رگوں میں جس طرح خون دوڑتا ہے اس کہیں زیادہ ہمارے نبی کی محبت دوڑتی ہے، ان کے دفاع کیلئے جس حد تک جانا پڑے ہم جائیں، ارے یہ جان کیا چیز ہے، یہ تو مولائے کائنات رب العالمین کی دی ہوئی ہے جس کا خاتمہ آج نہیں تو کل موت کی شکل میں ہونا ہے، لیکن اگر اس کا استعمال رب ذو الجلال کے محبوب کے دفاع میں ہو گیا تو پھر ہمارے نصیبے کا کیا کہنا.

فرانس کے صدر کو تو اللہ نے یہ کہہ کر ٹارگیٹ کر لیا ہے: إنا كفيناك المستهزئين.
رہی بات ہم مسلمانوں کی تو ہم ہر اس شخص کا بائیکاٹ کریں گے جو گستاخی کا مرتکب ہوگا، اور اگر شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہوگا تب تو معاملہ ہی صاف ہے.
ہم فرانس کا بائیکاٹ صرف کھانے پینے کی اشیاء کو چھوڑ کر نہیں کریں گے بلکہ اس کی تمام پیداوار، اس کے تعلیمی نظام، معاشی نظام وغیرہ کا بھی بائیکاٹ کریں گے.
میری ناقص رائے یہ ہے کہ فرانس کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ اس کے اس ماسٹر مائنڈ کا بھی بائیکاٹ کیا جائے جس نے اسے ایسا کرنے کی ترغیب دی ہے، میری مراد شیطان رجیم ہے، اگر ہم مسلمانوں نے شیطان اور اس کے پروڈکٹ کا بالکلیہ بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا تو فرانس جیسے ممالک اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے.
شیطان کے پروڈکٹ مندرجہ ذیل ہیں: شرک، بدعات، سود خوری، زناکاری، قتل وغارت گری، گالی، حسد، بغض، عداوت، غیبت، چغل خوری، جھوٹ اور ان جیسے دیگر پروڈکٹ.
شیطان کے پروڈکٹ کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ اگر ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وفرماں برداری بھی شروع کر دیں تو پھر ہر جگہ سید المرسلین کی فتح کا جھنڈا ہوگا.
اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ صرف فرانس اور اس کی اشیاء کا بائیکاٹ کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وتائید کر رہے ہیں تو یہ محض خام خیالی ہے، کیوں کہ کل ڈنمارک نے گستاخی کی تھی، آج فرانس نے کی ہے، کل کوئی اور کرے گا، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا، لیکن اگر ہم نے فرانس اور ان جیسوں کے ساتھ ساتھ اس کے ماسٹر مائنڈ شیطان رجیم کا مکمل بائیکاٹ کیا تب جاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی مدد ہوگی.
ایک شاعر کے چند اشعار سے اپنی بات ختم کرتا ہوں :

میرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں ترا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تری
نہ تری مدح ہے ممکن ترے خیالوں سے

تُو روشنی کا پیمبر ہے اور میری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے
 
Top