ذیشان خان

Administrator
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیسے کریں؟

✍ ⁩افتخار عالم مدنی

رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ سے محبت کا لازمی تقاضا ہے کہ آپ اور آپ کے حقوق کا دفاع کیا جائے اور یہ دفاع مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے:
1- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کا مطالعہ کریں۔
2- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کو اپنی عملی زندگی میں ڈھال لیں۔
3- اپنی خواہشات کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے دین اور شریعت کے تابع کر لیں۔
4- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ہدایات اور تعلیمات پر عمل کریں۔
5- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور پیغام کو وسیع پیمانے پر عام کریں۔
6- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے عمل، اخلاق وکردار، روز مرہ کے معمولات، لوگوں کے ساتھ معاملات اور طرز زندگی سے متعارف کرائیں۔
7- آنے والی نسلوں کی ان کے بچپن سے ہی محبت رسول، اطاعت رسول اور دفاع رسول پر تربیت کریں۔
8- علماء، دعاۃ، ائمہ، خطباء، اساتذہ، طلبہ، خواص اور عوام سب کے سب اپنی اپنی سطح پر اس بابت اپنی ذمے داری بخوبی ادا کریں۔
9- سمیناروں، کانفرنسوں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف اور سیرت طیبہ کی جھلکیاں لگاتار پیش کرتے رہیں۔
10- پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور حقوق کو اجاگر کریں۔
11- نصرت رسول، دفاع رسول، تعارف رسول اور سیرت رسول کے نام سے انٹرنیٹ پر مختلف سائیٹس بنائیں اور متعلقہ مواد اپلوڈ کریں۔
12- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واخلاق اور آپ کے رحمت عالم ہونے پر مختلف زبانوں میں لٹریچرز تیار کر کے بک لیٹ اور پمفلیٹ وغیرہ کی شکل میں شائع کرائیں اور لوگوں میں تقسیم کریں۔
13- توہین رسالت کی کسی بھی مجرمانہ حرکت پر سخت نکیر کریں اور اس کے خلاف زور دار آواز بلند کریں، اور کم سے کم دل سے تو ضرور برا جانیں۔
14- اہانت رسول کے واقعے پر ہر ممکن طور سے شدید رد عمل کا اظہار کریں، اس کے خلاف مختلف پلیٹ فارمز پر زوردار مہم چھیڑ دیں، خاص کر سوشل میڈیا پر خوب ٹرینڈ چلائیں۔
15- جس بھی ملک یا کمپنی یا ادارے نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہو اس کا جہاں تک ہو سکے ہر سطح پر بائیکاٹ کر دیں۔
16- جس میگزین یا چینل نے اس کو نشر کیا ہو اس کا بھی ٹوٹلی بائیکاٹ کریں اور اس کے ذمےداروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اس کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔
17- ارباب حکومت اور صاحبان اقتدار توہین رسالت کے مجرمانہ عمل پر سخت نوٹس لیں، اس مسئلے کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نہایت سنجیدگی سے اٹھائیں، اس کے خلاف مؤثر وکارگر طریقے سے اپنا احتجاج درج کرائیں، اور آئندہ کوئی اس طرح کی ناپاک جسارت نہ کر سکے اور اگر کرے تو عبرتناک سزا پائے اور اس بابت ٹھوس بل پاس کرانے کی ہمہ جہت سعی کریں۔
18- عوام الناس قانون کو اپنے ہاتھ میں ہرگز نہ لیں، بلکہ معاملے کو ماہرین فن کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچا کر مجرمین کے خلاف مقدمہ دائر کرائیں نیز ذمہ داران کو قانونی کاروائی کرنے اور ضروری ایکشن لینے پر آمادہ کرنے کے لئے شرعی وقانونی طریقے سے دباؤ بنائیں۔
20- دعا کریں کہ اے اللہ! توہین رسالت کے مرتکبین کو یا تو ہدایت دے یا ان کے ساتھ وہ معاملہ کر جس کے وہ مستحق ہوں۔
نوٹ: رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے حقوق کا دفاع کرنا واجب ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی حق اور امت مسلمہ کا دینی واخلاقی فریضہ ہے۔
ہمارے پاس ذرا بھی ایمانی غیرت ہوگی تو ہم توہین رسالت کسی صورت گوارا نہیں کریں گے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے حقوق کا ہر ممکن دفاع ضرور بالضرور کریں گے۔
اللہ ہم سب کو اس کی توفیق اور سعادت عطا فرمائے۔
 
Top