ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کا انجام

✍⁩ اسعد اعظمی / جامعہ سلفیہ،بنارس

ہر دور میں کج فہم ، بد باطن اور مغرور افراد پائے جاتے رہے ہیں جو اپنی خباثت ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیکر انسانیت ، رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان میں کسی نہ کسی طرح کی گستاخی کا ارتکاب کردیتے ہیں ، ان ناعاقبت اندیشوں نے پیارے نبی کا تو کچھ نہیں بگاڑا البتہ اس قسم کے عمل سے انہوں نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ، اور کیفر کردار کو پہنچے ۔
خود عہد نبوی میں اس قسم کے بعض گستاخوں کا تذکرہ ملتا ہے جسے تاریخ وسیرت کی کتابوں نے محفوظ کر رکھا ہے ، اس وقت کی عظیم ایرانی سلطنت کا فرمانروا خسرو پرویز بھی ان ہی گستاخوں کی فہرست میں سب سے اوپر نظر آتا ہے ، اس کی گستاخی اور حیرت ناک انجام بد اپنے اندر بڑی عبرتیں اور نصیحتیں لیے ہوئے ہے اس لیے اس کا تذکرہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
نبی آخر الزماں ﷺ پوری دنیائے انسانیت کے لیے نبی بناکر بھیجے گئے ، انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرتے ہوئے قبیلہ ، شہر اور پورے جزیرہ عرب میں اسے پھیلانے کے ساتھ گرد وپیش کے امراء وسلاطین کو اسلام کی دعوت سے متعارف کرانے کے لیے ان کے پاس خطوط ارسال کیے ، ان حکام کے پاس خطوط بھیجنے کا کام زیادہ تر ۷ ھ؁ میںہوا جس وقت اللہ کے رسول صلح حدیبیہ سے واپس ہوئے تھے ، اس وقت جن لوگوں کے پاس خطوط بھیجے گئے تھے ان میں شاہ ایران خسرو پرویز بھی تھا ۔
اس وقت روم اور فارس (ایران) دو عظیم اور طاقتور سلطنتیں تھیں ، جن کا اپنے گرد وپیش میں زبردست رعب ودبدبہ تھا، عددی قوت اور مادی وسائل میں بھی یہ سب سے آگے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایران میں نوشیرواں عادل کا پوتا خسرو پرویز تخت نشین تھا، جس سال آپ نے ہجرت کی تھی پرویز کی بادشاہت کا وہ (۳۲) واں سال تھا ، اس طرح ۷ھ ؁ میں جب آپ نے اس کے پاس خط ارسال فرمایا اس وقت اس کی بادشاہت کے (۳۹) سال پورے ہو چکے تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے جو خط پرویزکے نام تحریر فرمایا تھا ، اس کے الفاظ یہ ہیں :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
من محمد رسول اللہ الی کسری عظیم فارس، سلام علی من اتبع الھدی وآمن باللہ ورسولہ وشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، وأن محمدا عبدہ ورسولہ، أدعوک بدعاء اللہ، فانی أنا رسول اللہ الی الناس کافۃ، لأنذر من کان حیا ویحق القول علی الکافرین، فأسلم تسلم، فان أبیت فان اثم المجوس علیک۔ (تاریخ طبری: ۳/۴۳۹، وغیرہ)
شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ۔ محمد رسول اللہ کی طرف سے ۔۔ کسری شاہ فارس کے نام، اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ گواہی دے کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں تمہیں اللہ کی دعوت پہنچا رہا ہوں کیوں کہ تمام لوگوں کے پاس اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں تاکہ ہر زندہ انسان کو اللہ کا خوف دلائوں اور کافروں پر حجت ثابت ہو جائے ، لہذا اسلام قبول کر لو اور محفوظ ہو جائو ، اگر انکار کروگے تو تمام مجوسیوں کا گناہ بھی تمہارے ہی اوپر ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ خط صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ لے کر فارس گئے اور اسے کسری کے سامنے پیش کیا ، کسری نے ترجمان بلا کر یہ خط پڑھنے کا حکم دیا ، خط کی ترتیب اور اس کا مضمون سن کر کسری بھڑک اٹھا ، اقتدار وطاقت کے نشہ میں چور اسے یہ وہم وگمان بھی نہیں تھا کہ کوئی میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھنے کی جرأت کر سکتا ہے ، اس نے دیکھا کہ اس خط میں سب سے اوپر اللہ کا نام ہے پھر خط بھیجنے والے یعنی محمد رسول اللہ کا نام ہے اس کے بعد اس کا نام ہے ، اس نے طیش میں آکر مکتوب نبوی کو پھاڑ دیا اور غصے میں بولا ’’ میری رعایا میں سے ایک معمولی غلام ایسی جرأت کر رہا ہے کہ میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھ رہا ہے ، اس نے یمن میں موجود اپنے گورنر ’ باذان‘‘ کو خط لکھا کہ حجاز کے اس مدعی نبوت کو گرفتار کرنے اور میرے دربار میں حاضر کرنے کے لیے فورا دو پہلوانوں کو بھیجا جائے ، باذان نے تعمیل حکم کے طور پر بابویہ اور خرخسرہ نامی دو شخصوں کو مدینہ منورہ روانہ کیا اور نبی اکرم ﷺ کے نام ایک خط دیا کہ آپ فورا ہمارے ان نمائندوں کے ساتھ کسری کے دربار میں حاضر ہو جائیں ، یہ دونوں مدینہ پہنچے، نبی کے پاس حاضر ہو کر مدعابیان کیا اور دھمکی بھی دی کہ اگر حکم کی تعمیل نہ کریں گے تو آپ کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان دونوں سے کہاکہ کل مجھ سے ملنا۔
ادھر قاصد رسول حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کسری کے دربار سے واپس آکر نبی اکرم ﷺ سے پوری تفصیل سنا چکے تھے اور آپ کو مکتوب مبارک چاک کرنے کی خبر دے دی تھی ، اللہ کے رسول نے اسی وقت فرمادیا تھا کہ ’’ اللہ تعالی اس کی سلطنت کے پرزے اڑا دے گا‘‘ ۔
اس سے پہلے ایک اور فرمان میں نبی ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی کہ :
’’ جب کسری ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد اب کسری نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد قیصر نہ ہوگا (یعنی ان دونوں سلطنتوں کے اقتدار کا زوال قریب ہے ) قسم ہے اس ذات اقدس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں سلطنتوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کروگے‘‘ ۔ (احمد،بخاری،مسلم)
بہر حال جب دوسرے دن باذان کے نمائندے خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو اس وقت تک نبی کے پاس آسمان سے یہ خبر آچکی تھی کہ فلاں دن فلاں تاریخ کو خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا ہے اور اس کے خاندان میں بغاوت ہو چکی ہے ، چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں نمائندوں کو یہ خبر دی ، مگر وہ دونوں یقین نہیں کر رہے تھے بلکہ آپ سے کہہ رہے تھے کہ آپ سوچ سمجھ کر بول رہے ہیں ؟ کیا آپ کی یہ باتیں ہم شاہ کے پاس لکھ کر بھیج دیں ؟ آپ نے کہا کہ ضرور لکھ دو اور اس سے (باذان سے) بتا دو کہ میرا دین اور میری سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچے گی جہاں تک کسری کی سلطنت ہے ۔
تاریخ میں ہے کہ خسرو پرویز کے پاس جب مکتوب نبوی پہنچا تھا تو وہ عراق میں نینوی کے مقام پر قیصر روم سے فیصلہ کن جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھا ، اس جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ خسرو کو شرمناک شکست اٹھانی پڑی،اور رومی فوجیں ایران کے دار السلطنت تک پہنچ گئیں ، عین اسی موقع پر خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوگئی اس کے بیٹے شیرویہ نے خسرو کو قید کر لیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ۱۸ بیٹے قتل کردیے گئے ، خسرو کو شیرویہ نے ۱۰ ؍ جمادی الاولی ۷ھ؁ (۶۲۸ء؁) کی شب میں قتل کیا ۔ باذان کے دونوں قاصد مدینہ سے واپس ہو کر یمن پہنچے اور اس سے تمام باتوں کا ذکر کیا اور نبی اکرم نے کسری کے قتل کے بارے میں جو کہا تھا اسے بھی بتایا ، ان سب باتوں کو سن کر باذان بہت متاثر ہوا اور کہا کہ اس شخص کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی نبی ہے ، دوسری طرف ایران کے دار السلطنت مدائن سے شیرویہ کا خط باذان کے نام آتا ہے کہ خسرو کو اس کے مظالم کی وجہ سے قتل کر دیا گیا ہے ، اس خط میں شیرویہ کی طرف سے باذان کو یہ بھی ہدایت تھی کہ اگلے حکم تک نبی عربی سے کوئی تعرض نہ کیا جائے ۔ نبی ﷺ کے فرمان کی صداقت دیکھ کر باذان مشرف بہ اسلام ہو گیا اس کے ساتھ ہی یمن والوں کی ایک بڑی جماعت بھی مسلمان ہو گئی ۔
خسرو پرویز کے بعد پورے فارس میں ابتری پھیل گئی ، اس کے بیٹے شیرویہ نے کل آٹھ مہینے حکومت کی اس کے بعد اس کا بیٹا اردشیر ۷ ؍ برس کی عمر میں تخت پر بیٹھا ، ڈیڑھ برس کے بعد دربار کے ایک افسر نے اس کو قتل کر دیا ، اور خود بادشاہ بن بیٹھا ، چند روز کے بعد در باریوں نے اس کو قتل کرکے جوان شیر کو تخت نشین کیا، وہ ایک برس کے بعد قضا کر گیا ، اب چونکہ خاندان میں یزد گرد کے سوا جو کہ نہایت صغیر السن تھا اولادذکور باقی نہیں رہی تھی پوران دخت کو اس شرط پر تخت نشین کیا گیا کہ یزدگرد سن شعور کو پہنچ جائے گا تو وہی تاج وتخت کا مالک ہوگا، چنانچہ اس کے بعد یزدگرد حاکم بنا ۔
عہد فاروقی میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں اسلامی فوجیں پیش قدمی کرتی اور ایرانی فوجوں سے لڑتی ہوئی جب مدائن میں داخل ہوئیں تو یزدگرد وہاں سے نکل بھاگا ، وہاں ہر طرف سناٹا تھا ، حضرت سعد کی زبان سے بے اختیار یہ آیتیں نکلیں : {کَمْ تَرَکُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ (25)وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ کَرِیْمٍ(26) وَنَعْمَۃٍ کَانُوا فِیْہَا فَاکِہِیْنَ (27)کَذَلِکَ وَأَوْرَثْنَاہَا قَوْماً آخَرِیْن-سورہ دخان: ۲۵ - ۲۸) وہ کتنے باغات اور چشمے چھوڑ گئے ، اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے اور وہ آرام کی چیزیں جن میں عیش کرتے تھے ۔ یہ سب ایسا ہی ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا ۔
اس کے بعد ایوان کسری میں تخت شاہی کے بجائے منبر نصیب ہوا اور اسی میں جمعہ کی نماز ادا کی گئی ۔
اس طرح خسرو پرویز اور اس کی سلطنت رسول رحمت کی گستاخی کے سبب زوال وفنا کا شکار ہوئے اور نبی کی پیشین گوئیاں پوری طرح سچ ثابت ہوئیں ۔
نوٹ: نبی اکرم ﷺ کی جانب سے کسری کے نام بھیجے جانے والے خط کا مضمون فن حدیث اور تاریخ کی معتبر کتابوں میں صحیح سند سے مروی ہے ، اس کے ساتھ ہی نومبر ۱۹۶۲ء؁ میں لبنان کے سابق وزیر خارجہ ہنری فرعون کے آبائی ذخیرے میں یہ مکتوب دریافت ہوا ہے ، موصوف نے ڈاکٹر صلاح المنجد کو یہ خط تحقیق کے لیے دیا، ڈاکٹر المنجد نے بیروت کے اخبار ’’ الحیات‘‘ مورخہ : ۲۲ ؍ مئی ۱۹۶۳ء؁ (۱۳۸۲ھ) میں اس پر ایک مفصل تحقیقی مقالہ شائع کیا ، مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ نے بھی اس مکتوب نبوی کی بچشم خود زیارت کی ہے ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے : الوثائق السیاسۃ از ڈاکٹر حمید اللہ ، مکتوبات نبوی از مولانا سید محبوب رضوی)
(مضمون کے مآخذ: صحیح بخاری ، فتح الباری ، تاریخ طبری ، البدایۃ والنہایۃ ، الفاروق ، رحمۃ للعالمین ، الرحیق المختوم، الوثائق السیاسیۃ ، مکتوبات نبوی وغیرہ ) ۔
 
Top