ذیشان خان

Administrator
دوران نماز جسم سے خون بہنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

(عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قصہ شہادت سے مستفاد نصائح اور علمی فوائد)

فائدہ نمبر (8): دوران نماز جسم سے خون بہنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نیزہ مارے جانے کے بعد فجر کی جو نماز ادا کی تھی اس کے متعلق گزشتہ کڑی میں آپ نے پڑھا کہ آپ کے زخم سے بہت تیز خون بہہ رہا تھا۔ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "فصلى وجرحه يثعب دما"۔ مصنف عبد الرزاق الصنعاني (1/150)۔
قاضی عیاض "یثعب" کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : أي: يتفجر. «مشارق الأنوار» (1/132). یعنی خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ یعنی بہت تیز خون بہہ رہا تھا۔

انسان کا خون پاک ہے یا ناپاک؟
اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔ حالانکہ بعض علماء نے اس کی نجاست پر اجماع کا دعوی کیا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ حیض کے خون کی نجاست پر اجماع ہے، حیض کے علاوہ دوسرے خونوں کی نجاست پر اجماع نہیں ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں: شیخ سلیمان العلوان حفظہ اللہ کا یو ٹیوب پر درج ذیل درس :
الرد على من نقل الإجماع على نجاسة الدم || العلامة سليمان العلوان (https://www.youtube.com/watch?v=snz2YHVFoug))

استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "والذي ظهر لي والله أعلم أنه ليس في المسألة إجماع, بل العلماء مختلفون في نجاسته".
(درج ذیل لنک پر کلک کرکے شیخ کی بات سنی جا سکتی ہے:
هل هناك إجماع على نجاسة الدم ؟ الشيخ سليمان الرحيلي (https://www.youtube.com/watch?v=z0NroqdizXE) )

اس دعوائے اجماع کی نفی میں شیخ اسلام منصور عبد الحمید نے ایک گراں قدر مقالہ بعنوان " حكم نجاسة دم الآدمي عدا الحيض والنفاس والرد على دعوى الإجماع على نجاسته" تحریر فرمایا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ اس مسئلہ میں اجماع نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے۔

راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا خون پاک ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔

گزشتہ کڑی میں صحیح بخاری سے جو آثار ذکر کئے گئے تھے وہ بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

علامہ شوکانی، علامہ صدیق حسن خان، شیخ البانی، شیخ ابن عثیمین وغیرہ محققین نے پاک ہونے کو ہی راجح قرار دیا ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الذي يقول بطهارة دم الآدمي قوله قويٌّ جداً؛ لأنَّ النَّصَّ والقياس يدُلاّن عليه". الشرح الممتع على زاد المستقنع (1/ 443)۔

نیز خون کے ناپاک ہونے کی کوئی صحیح صریح دلیل بھی نہیں ملتی۔
استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "لا أعلم دليلا صحيحا صريحا واضحا في نجاسة هذا الدم".
اور براءت اصلیہ کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ طاہر ہے۔

جہاں تک فرمان باری تعالی "قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ" سے استدلال کی بات ہے تو وہ بھی محل نظر ہے، کیونکہ آیت مذکورہ چیزوں کی تحریم کے بارے میں وارد ہوئی ہے، نجاست کے بارے میں نہیں۔ اور تحریم نجاست کو مستلزم نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس میں "فانہ رجس " بھی کہا گیا ہے تو اس میں "فانہ " کا تعلق "لحم خنزیر" سے ہے، "میتۃ" یا " دما مسفوحا" سے نہیں، اسی لئے ضمیرمفرد مذکر ہے، اگر تینوں چیزیں شامل ہوتیں تو "فانہا" یا "فانہن" کی ضمیر ہوتی، "فانہ" کی نہیں۔

المہم، چاہے اسے پاک کہا جائے یا ناپاک، اگر کسی کے جسم سے دوران نماز خون بہہ رہے ہوں تو ان کے نماز کی صحت پر کوئی کلام نہیں ہے۔ حتی کہ جو خون کی ناپاکی کے قائل ہیں یا جن کی طرف دعوائے اجماع کی نسبت کی جاتی ہے ان کے نزدیک بھی ایسے شخص کی نماز صحیح ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے خون کی نجاست پر اجماع کی بات کی ہے حالانکہ آپ کو جب خلق قرآن کے مسئلہ میں اذیتیں دی گئیں تو آپ نے جسم سے خون بہتے رہنے کے باوجود اسی حالت میں آپ نے اپنی نماز ادا کی ۔ اور اس خون کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

امام احمد فرماتے ہیں: حضرت صَلاة الظهر, فتقدم ابنُ سَمَاعةَ فصَلّى, فلما انفتل من الصلاة, قال لى: صَليتَ والدمُ يسيل فى ثوبك؟! فقلت: قد صَلّى عُمر وجرحه يثعب دمًا. (دیکھیں: مناقب الإمام أحمد لابن الجوزی (ص: 444)، سیر اعلام النبلاء 11/252)۔
(ظہر کی نماز کا وقت ہوا ، ابن سماعہ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے سوال کیا : آپ کے کپڑے پر خون بہہ رہا ہے اور اس حالت میں آپ نے نماز پڑھ لی؟ تو میں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کے زخموں سے بھی خون بہہ رہا تھا اور انہوں نے بھی اسی حالت میں نماز ادا کی تھی۔ )

یعنی دوران نماز خون بہنے سے نماز کی صحت پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
 
Top