ذیشان خان

Administrator
حسب ضرورت فرض نماز بھی توڑی جا سکتی ہے۔

✍⁩ فاروق عبد اللہ نراین پوری

(عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قصہ شہادت سے مستنبط عقدی وفقہی مسائل اور علمی فوائد)

فائدہ نمبر (14): حسب ضرورت فرض نماز بھی توڑی جا سکتی ہے۔

ملعون مجوسی ابو لؤلؤۃ فیروز جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ کرکے بھاگنے لگا تو اس کے دائیں بائیں جو بھی صحابہ کرام آئے انہیں بھی اپنے دو دھاری خنجر کا نشانہ بناتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ تیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اس نے خنجر سےوار کیا، جن میں سے سات صحابہ کرام شہید ہوگئے۔ اس منظر کو جب مسلمانوں میں سے ایک شخص نے دیکھا تو انہوں نے اسے پکڑنے کے لئے اس پر بُرنُس (ایک ایسا کپڑا جس کے ساتھ سر کی ٹوپی بھی ہوتی ہے) پھینکا، جس سے وہ بھاگنے میں ناکام رہا، جب اسے لگا کہ میں پکڑا جاچکا ہوں تو اسی خنجر سے خود کشی کر لی۔ (صحیح بخاری 3700 وغیرہ)

علامہ کرمانی فرماتے ہیں: ایک عراقی شخص نے اس پر اپنا برنس پھینکا، اور اس کے سر پر بیٹھ گیا، جب اسے (ابو لؤلؤۃ کو) یقین ہو گیا کہ اب وہ بھاگ نہیں سکتا تو خود کشی کر لی۔ (دیکھیں: الکواکب الدراری 14/236)۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صحابی کا نام ابن فتحون کی کتاب "ذیل الاستیعاب" میں حطان التمیمی الیربوعی آیا ہے۔ (دیکھیں: الاصابہ 2/85)۔
ابن فتحون نے اس کا نام "الاستلحاق على الاستيعاب في معرفة الأصحاب" رکھا تھا۔
استاد محترم شیخ عواد الرویثی حفظہ اللہ اپنی کتاب رواۃ الحدیث (ص310) میں فرماتے ہیں کہ یہ کتاب (یعنی ذیل الاستیعاب) مفقود ہے۔
اس لئے اس کی سند سے براہ راست واقف نہ ہو سکا۔ البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابہ میں اس کی جو سند ذکر کی ہے اس میں ایک راوی مبہم ہے۔ اس لئےمتعین طور پر یہ نام کہنا مشکل ہے۔
دوسرے قصے میں اس شخص کا نام ہاشم بن عتبہ آیا ہے، اور بعض میں ہے کہ وہ عبد اللہ بن عوف تھے۔ (دیکھیں: الاصابہ 2/85)۔

بلکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ پکڑنے والے کئی لوگ تھے۔ (دیکھیں: عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 211) وغیرہ۔

المہم ! اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دوران نماز اگر کوئی ایسا بڑا حادثہ یا ایسی اہم ضرورت در پیش ہو (مثلا کسی قاتل کو پکڑنا، کسی کی جان بچانا، وغیرہ) جس کے تدارک کے لئے نماز کا توڑنا ضروری ہو تو اس کے لئے فرض نماز بھی توڑی جا سکتی ہے۔ صحابہ کرام کے مجمع میں اس شخص نے ( یا ان کے ساتھ کئی لوگوں نے) اپنی نماز توڑی اور کسی نے ان پر نکیر نہ کی۔

شریعت مطہرہ کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے کہ اس میں تیسیر اور آسانی ہے۔
اس لئے اگر کوئی شخص اس طرح کی کسی پریشانی میں مبتلا ہو اور نماز جاری رکھنے کی صورت میں بعد میں اس کی تلافی مشکل ہو تو فرض نماز بھی توڑی جا سکتی ہے، ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام عز بن عبد السلام فرماتے ہیں: " تقديم إنقاذ الغرقى المعصومين على أداء الصلوات، لأن إنقاذ الغرقى المعصومين عند الله أفضل من أداء الصلاة، والجمع بين المصلحتين ممكن بأن ينقذ الغريق ثم يقضي الصلاة، ومعلوم أن ما فاته من مصلحة أداء الصلاة لا يقارب إنقاذ نفس مسلمة من الهلاك. وكذلك لو رأى الصائم في رمضان غريقا لا يتمكن من إنقاذه إلا بالفطر، أو رأى مصولا عليه لا يمكن تخليصه إلا بالتقوي بالفطر، فإنه يفطر وينقذه، وهذا أيضا من باب الجمع بين المصالح، لأن في النفوس حقا لله عز وجل وحقا لصاحب النفس، فقدم ذلك على فوات أداء الصوم دون أصله"۔ (قواعد الأحكام في مصالح الأنام 1/ 66)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں "باب إذا انفلتت الدابة في الصلاة" کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے۔ اس میں آں رحمہ اللہ قتادہ رحمہ اللہ کا یہ اثر ذکر کرتے ہیں: «إن أخذ ثوبه يتبع السارق ويدع الصلاة»۔
پھر ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اہواز میں حروریوں سے جنگ کے موقع پر ایک نہر کے کنارے نماز پڑھ رہے تھے، ان کی سواری کا لگام ان کے ہاتھ میں تھا۔ ایسے میں وہ سواری ان سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے اور چلتے بھی رہے۔ ایک خارجی نے انہیں دیکھا تو کچھ الٹی سیدھی باتیں کیں ۔ جب وہ نماز فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، سنو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کئے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسیر کا عینی مشاہدہ کیا ہے۔ میں اس سواری کو چھوڑ دیتا اور مجھے گھر پہنچنے میں مشقت ہوتی اس سے یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کروں۔ (صحیح بخاری 1211)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أشار أبو برزة بقوله ورأيت تيسيره إلى الرد على من شدد عليه في أن يترك دابته تذهب ولا يقطع صلاته، وفيه حجة للفقهاء في قولهم أن كل شيء يخشى إتلافه من متاع وغيره يجوز قطع الصلاة لأجله"۔ فتح الباري (3/ 82)۔

خلاصہ کلام یہ کہ بوقت ضرورت فرض نماز بھی توڑی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم ۔

ایک ضروری تنبیہ: اگر کسی کو اپنی نماز توڑنے کی ضرورت پڑے چاہے کسی بھی سبب سے کیوں نہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سلام پھیرکر اپنی نماز سے نکلے، کیونکہ تکبیر تحریمہ کہہ کر اس نے نماز میں داخل ہوا ہے، اب اس سے تحلیل کا طریقہ تسلیم ہی ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ .

اس کی تائید اس صحابی کے عمل سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز لمبی کر دی تھی، سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی تھی تو ایک صحابی جو کام سے تھکے ہوئے تھے نماز چھوڑ کر جماعت سے نکل گئے۔ اس روایت میں ہے: فانحرف رجل فسلم ثم صلى وحده وانصرف۔ (صحيح مسلم1/ 339)۔

جاری...

#نشر_مکرر
 
Top