ذیشان خان

Administrator
تفسیر سورہ لہب ( سورہ لہب کی ایک مختصر علمی تفسیر)

✍⁩ حافظ جلال الدین القاسمی

تبت یدا ابی لھب

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ تباہ ہوگیا

ابو لھب۔ اسمہ عبد العزی۔ وھو ابن عبدالمطلب عم النبی
وامراتہ العوراء ام جمیل اخت ابی سفیان بن حرب
وکلاھماکان شدید العداوة للنبی
(قرطبی)

ابو لہب کا نام عبد العزی تھا
یہ نبی کا چچا اور عبد المطلب کا بیٹا تھا۔ اس کی بیوی ام جمیل تھی جو ابو سفیان بن حرب کی بہن تھی اور ان دونوں کو نبی سے شدید دشمنی تھی

یہ عدسہ کی بیماری میں مبتلا ہوگیا
العدسة. فی الطب بثرةتخرج فی البدن کالطاعون وقلما یسلم صاحبھا
عدسہ ایک رسولی جو طاعون کی گلٹی کی طرح ہوتی ہے جو انسان کے بدن میں نکل آتی ہے اور اس بیماری والا کم ہی بچتا ہے
ابو لہب اسی بیماری میں مبتلا ہو کر مرگیا۔ تین دن بلا کفن دفن پڑا رہا یہاں تک کہ اس کی لاش سے بدبو انے لگی۔ اس کے بیٹوں نےدور سے پانی پھینک کر اس کو نہلایا اس ڈر سے کہ کہیں یہ بیماری انھیں نہ لگ جائے کیونکہ قریش عدسہ کی بیماری سے اس طرح ڈرتے تھے جیسے وہ طاعون سے ڈرتے تھے
پھر مکہ کے اعلی حصہ میں لے جاکر ایک دیوار سے ٹکا کر اس پر دور سے پتھر پھینک پھینک کر اسے ڈھک دیا

تب یتب باب ضرب سے ہے جس کا معنی ہے ہلاک ہونا
تبت ای خسرت وخابت وھلکت

قال الراغب۔ ھو الاستمرار فی الخسران
امام راغب کہتے ہیں کہ تباب۔ گھاٹے میں تسلسل۔ کا نام ہے
یعنی وہ مسلسل گھاٹے کا مستحق ہوا

ید بمعنی ہاتھ۔ اس کا تثنیہ یدان ہے۔ ابی لھب کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے نون گرگیا ہے۔ قاعدہ ہے

واعلم ان نون التثنیةمکسورةابدا ونون جمع السلامةمفتوحةابدا وکلاھما تسقطان عند الاضافة
( ھدایةالنحو)
جان لو کہ تثنیہ کا نون ہمیشہ مکسور ہوتا ہے اور جمع سالم کا نون ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے اور اضافت کے وقت دونوں گرجاتے ہیں۔ جیسے مسلماھند۔ مسلموھند۔ جو مسلمان اور مسلمون تھے

بلاغت کا قاعدہ۔
یہاں یدان سے نفس اور ذات مراد ہے۔ یہ مجاز مرسل ہے یعنی یہاں جزء بول کر کل مراد لیاگیا ہے

نکات۔
تبت یدا۔ کی تعبیر کیوں اختیار کی گئی؟
جواب۔ کیونکہ اس نے نبی سےکہا تھا۔ تبا لک الھذا جمعتنا؟

اللہ نے اس کا نام ذکر کیوں نہیں کیا؟

جواب۔ اس کا نام عبد العزی تھا
اللہ نے اپنے کلام میں بت کی طرف عبودیت کی اضافت نہیں کی ہے

دوسرا جواب۔ وہ اپنی اسی کنیت سے مشہور تھا لہذا کنیت سے صراحت فرمائی

تیسرا جواب۔ اسم۔ کنیت سے زیادہ اشرف ہوتا ہے لہذا اللہ نے اس کا ذکر کنیت سے کر کے اسے اشرف سے انقص کی طرف گرادیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انبیاء کو قران میں ان کےناموں سے بلایا ہے کنیت سے نہیں

نتیجہ۔ نبی کو برابھلا کہنے والے کو بہت خوفناک سزا دی جاتی ہے

اج پوری دنیا میں بولہبی مزاج
شدت اختیار کرچکا ہے جو چراغ مصطفوی سے پوری طاقت سے بر سر پیکار ہے تو کورونا جیسی بیماری مسلط نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا
دیکھتے نہیں کہ کورونا جیسی بیماری کا ابولہب سے کتنا گہرا تعلق ہے

ستیزہ کار رہاہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

مااغنی عنہ مالہ وما کسب
(سورہ لہب)

نہ اس کا مال اس کے کچھ کام آیا نہ اس کی کمائی

تشریح۔
لم ینفعہ مالہ وما کسب بمالہ یعنی راس المال والارباح

نہ راس المال نے فائدہ دیا نہ نفع نے

الذی ورثہ من ابیہ والذی کسبہ بنفسہ

وہ مال جو اس کو اپنے باپ سے وراثت میں ملا تھا اور وہ مال جو اس نے خود کمایا تھا

ان ولد الرجل من کسبہ

نہ اس کے مال نے فائدہ دیا نہ اس کے تینوں بیٹوں عتبہ۔ عتیبہ اور معتب نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ کیونکہ ادمی کے بچے اس کی کمائی ہیں

الکسب اعم من المال

کسب۔ مال سے عام ہے۔ پہلے خاص کو ذکر کیا پھر عام کو

مااغنی کا مفہوم۔

ما یغنی عنہ مالہ فی الاخرة وفی الدنیا اذا جاءہ الموت

موت انے کے بعد اس کا مال اسے نہ دنیا میں فائدہ دےگا نہ اخرت میں

لم یرد عنہ شیئا من عذاب اللہ اذ نزل بہ

جب اس پر اللہ کا عذاب آیا تو کوئی بھی چیز اس کو اس سے نہ ہٹاسکی

ما۔ کا مفیوم۔
ما اغنی میں۔ ما نافیہ ہے۔ اور ما کسب میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور ما موصولہ بھی
اورما اغنی میں ما۔ بمعنی ای شیئ بھی ہوسکتا ہے
یعنی۔ ای شیئ اغنی عنہ مالہ وما کسب
تو جواب ہوگا۔ لاشیئ

اغنی کا لغوی نکتہ۔

اغنی۔ غنی سے مشتق ہے۔یہیں سے یہ معنی پیدا ہوا کہ ادمی جب مالدار ہوجاتا ہے تو وہ بے نیاز ہو جاتا ہے اسے دوسرے کی حاجت نہیں رہتی
کہاجاتا ہے۔ ھو فی غنی عنہ۔ ای لا یحتاج الیہ

اغنی عنہ۔ ای صرفہ عن غیرہ

ایک عربی شاعر کہتاہے

النفس تجزع ان تکون فقیرة
والفقرخیر من غنی یطفیھا

ادمی غریب ہونے سے گھبراتا ہے
اور غریبی اس امیری سے بہتر ہے جو اس کوتباہ کردے

نتیجہ۔
اللہ کا عذاب اجائے تو نہ مال کام آتا ہے نہ افراد نہ بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی
سب فیل ہوجاتی ہیں۔

سیصلی نارا ذات لھب
(سورہ لھب)
عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا

یہ ایت ابو لہب کی زندگی میں نازل ہوئی اس کی موت اس آیت کے نزول کے بعد ہوئی۔ یہ ایت بتارہی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہے
سیصلی۔ میں سین۔ وعید کیلئے ہے
ایک مفسر کہتا ہے
والسین للوعید وھوکائن لامحالة وان تراخی وقتہ
کہ سین۔ وعید کیلئے ہے اور وہ ہو کر ہی رہے گی اگرچہ تھوڑاوقت لگے

صلی کا معنی۔
صلی الشیئ اذا قاسی شدتہ وحرہ
جب اگ کی شدت اور گرمی جھیلے تب صلی کا لفظ بولا جاتا ہے
اسی طرح ہے صلی العصا بالنار
اذا ادارھاعلیھالیلینھا

ٹیڑھی لکڑی کو اگ میں ڈال کر نرم کرکے اسے سیدھا کرنا
اسی سے نماز کو صلاة کہا جاتا ہے۔ اشارہ ہے کہ اگر نماز کو نماز کے شرائط کے ساتھ ادا کرے تو ٹیڑھا ادمی سیدھا ہو جاتا ہے

نارا ذات لھب۔ میں نارا منصوب بنزع الخافض ہے
ذات لھب۔ ای تلتھب علیہ من غیر دخان لان قوةالنارتکون مع بقاء لھبھا
یعنی یہ اگ جو ابو لہب کو جلائے گی اس میں دھواں نہ ہوگا کیونکہ اگ کی قوت اس کے شعلے کی وجہ سے ہوتی ہے

بلاغت کا نکتہ
ابی لھب۔ اور ذات لھب میں۔ لھب۔ لھب میں جناس تام ہے

ذات لھب میں لفظ ذات کی عجیب حقیقت۔

ذو کا تثنیہ ذوان۔ اور جمع ذوون ہے اور مؤنث ذات ہے

ذات یہاں مضاف ہے اور ذو اور ذات کے بارے میں یہ نحوی قاعدہ ہےکہ اس میں حد درجہ ابہام ہوتا ہے۔ اتنا شدید ابہام کہ مضاف ہونے کےبعد بھی ان کی نکارت نہیں جاتی اسی وجہ سے یہاں لفظ ذات کا نارا کی صفت بننا صحیح ہے
جبکہ اضافت معنویہ میں اضافت اگر معرفہ کی طرف ہو تو مضاف میں تعریف کا اور نکرہ کی طرف ہو تو اضافت تخصیص کا فائدہ دیتی ہے

مگر یہاں ذات مضاف ہونے کے بعد بھی نکرہ ہی ہے
یہ اشارہ ہے کہ وہ لھب یعنی شعلہ کوئی مخصوص ومعین لھب نہیں ہے کہ محدود ہو بلکہ وہ لھب غیر معین اورغیر محدود ہے اس کے شعلے کی شدت اور گرمی کی کوئی انتہا نہیں ہے
شاید اسی وجہ سے ایک مفسر کہتا ہے
ذات۔ کلمةیتوصل بھا الی الوصف بالاجناس
ذات ایسا کلمہ ہے جس کی وجہ جنس کے ذریعے وصف تک پہنچا جا سکے

قران حکیم کے اس درجہ معجزنظام اور حیرت انگیز ہونے کے باوجود اس کو سطحی کتاب سمجھنے والے کی جہالت بلکہ کفر میں اور اس کتاب پر تدبر نہ کرنے والے کی بد نصیبی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔

وامراتہ حمالةالحطب
(سورہ لہب)
اور اس کی بیوی بھی(جہنم میں جانے والی ہے)جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے

امراتہ۔ مرفوع ہے کیونکہ وہ سیصلی کی ضمیر پر عطف ہے
اور حمالةالحطب منصوب ہے کیونکہ وہ امراتہ سے حال واقع ہے

حمالةالحطب کے معانی
حمالةالحطب کا ایک معنی ہے
لکڑی ڈھونے والی یعنی
کانت تجیئ بالشوک فتطرحہ فی طریق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیدخل فی قدمہ اذا خرج الی الصلوة

وہ کانٹے ڈھو کر لاتی تھی اور نبی کے راستے میں ڈال دیتی تھی تاکہ جب نبی نماز کے لئے نکلیں تو اپ کے قدموں میں چبھ جائیں

کون سے کانٹے؟
شوک العضاہ۔ کیکر کے کانٹے

حمالةالحطب کا دوسرا معنی
حمالةالحطب ای نقالةالحدیث
ای کانت تمشی بالنمیمة وکانت تنقل الاحادیث من بعض الناس الی بعض
وہ بہت بڑی چغل خور اور لوگوں کے درمیان لکڑی لگا نے والی تھی

حمالة۔ مبالغہ کا صیغہ ہے
یعنی وہ بہت بڑی چغلخور تھی

الحطب۔ کا نکتہ۔
الحطب۔ ما جف من زرع وشجر
سوکھی لکڑی کو حطب کہتے ہیں۔ کیو نکہ سوکھی لکڑی بہت تیز جلتی ہے

حمالةالحطب۔ کا نکتہ عجیبہ
الراکب خیر من المرکوب
راکب یعنی سوار مرکوب یعنی سواری سے بہتر ہوتا ہے
لکڑی ڈھونے والی ام جمیل ہے
تو لکڑی سوار ہے اور ام جمیل سواری۔ اس میں ام جمیل کی تحقیر ہے

نتیجہ۔

ان النمیمةنار ویک محرقة
ففر عنھا وجانب من تعاطاھا

چغلخوری اور لکڑی لگانا ایک اگ ہے تو چغلخوری اور چغلخور دونوں سے دور رہو
حدیث ہے۔ لایدخل الجنةنمام

اسی طرح راستے۔ گلیوں اور محلوں میں تکلیف دہ چیزوں کو مت پھیلاؤ کہ لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچے

(امراةاور زوج کا فرق کسی نے عرصہ پہلے فیسبوک پر ڈالا تھا اس لئے میں نے نہیں لکھا دوبارہ اس معلومات کو شیئر کریں۔)

فی جیدھا حبل من مسد
(سورہ لہب)
اس کے گلے میں رسی ہو گی خوب بٹی ہوئی

ایت میں ضمیر واحد مؤنث کا مرجع۔ ابو لہب کی بیوی ہے
اس کا نام اروی بنت حرب بن امیہ تھا یہ ابو سفیان کی بہن تھی اور ام جمیل اس کی کنیت تھی
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی اور اپ کے چچا ابو لہب کی بیوی تھی

یہ اپنے شوہر ابو لہب کی طرح نبی کریم کی بہت بڑی دشمن تھی اور اپ کو ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی
اس کی عادت تھی کہ کانٹوں کا گٹھر اپنے گلے میں لٹکا کر لاتی اور نبی کے راستے میں بچھا دیتی تاکہ اپ کے پائے مبارک میں یہ کانٹے چبھ جائیں
تو اللہ نے اسی رسی سے جس سے وہ کانٹے کا گٹھر باندھ کر اپنے گلے سے لٹکاتی تھی اس کا گلا گھونٹ دیا
ایک مفسر لکھتا ہے
فخنقھا اللہ بحبلھا۔ کہ اللہ نے اس کی رسی سے اس گلا گھونٹ دیا

اور جھنم میں بھی جزاء من جنس العمل کے طور پر اس کے گلے میں مسد ہوگی
لان المسد ھو المفتول سواء کان من الحدید اومن غیرہ
مطلب یہ کہ جھنم میں اس کے گلے میں مسد ہوگی اور مسد بٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں چاہے وہ لوہے کی ہو یا کسی اور چیز کی۔
نکتہ۔ عربی میں گردن کے لئے لفظ عنق کا استعمال ہوتا ہے تو یہاں گردن کے لئے جید کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟

جواب۔ کیونکہ لفظ عنق وہاں لایا جاتا ہے جہاں گلے میں طوق ہو۔ جیسے اذ الاغلال فی اعناقھم۔ اور جید وہاں لایا جاتا ہے جہاں زیورات ہوں
امرء القیس کہتا ہے

وجید کجید الریم لیس بفاحش
اذا ھی نصتہ ولا بمعطل

یعنی جید مع الحلی
والعنق مع الاغلال

عام طور پر عورتیں اپنے گلوں کو زیورات سے سجاتی ہیں
لیکن ام جمیل کی گردن میں اخرت میں زیورات نہیں بلکہ لوہے کی بٹی ہوئی رسی پہنائی جائیگی یہ عورت کیلئے بہت بڑی توہین ہے

نتیجہ۔ عورت اگر برائی کے کاموں میں اپنے شوہر کا ساتھ دے گی تو شوہر کے ساتھ اسے بھی جھنم رسید کردیا جائیگا تو ایسی عورت سے شادی کرو جو نیکی کے کاموں میں تمھاری مدد کرے

نوٹ۔ ایک صاحب نے درخواست کی تھی کہ میں
فی جیدھا حبل من مسد کی تفسیر کر دوں تو ان کی درخواست پر میں نے یہ مختصر تفسیر پیش کر دی ہے۔
 
Top