ذیشان خان

Administrator
"عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا قضیہ آسان لفظوں میں " (خلاصہ)

✍ حافظ محمد طاھر

کسی خاص دن یا ماہ کو مقرر کر کے ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشی منانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں :

⇚ "پہلی صورت" :

غیر شرعی اور ناجائز کام کر کے خوشی منائی جائے، مثلا ناچ گانے، موسیقی کی دھنوں پر نعت، قوالی اور قصائد، رقص و سماع، راستے بند کر کے لوگوں کو تکلیف دینا، نوجوان لڑکوں کی بازاروں میں ہلڑ بازیا‌ں، بے پردہ عورتوں کا بن ٹھن کر بازاروں میں نکلنا، مخلوط محافل و جلسے، حرام طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپ کرنا، لہو لعب سے آگے شراب و کباب تک نکل جانا، جلسوں میں من گھڑت جھوٹے قصے سنانا اور مخالفین کو گالم گلوچ، فضول خرچی اور مال کا ضیاع وغیرہ وغیرہ....
یہ صورت پوری امت کے نزدیک حرام، ناجائز اور گناہ ہے، کوئی ایک بھی مسلمان عالم یا عامی جو ذرا سی بھی عقل و مروت کا مالک ہے وہ ان کاموں کی اجازت نہیں دے سکتا.
اور اس کی حرمت پر علامہ تاج الدین الفاکہانی نے المورد فی عمل المولد میں امت کا اجماع نقل کر رکھا ہے.
بلکہ بریلوی عالم علامہ احمد رضا خان بریلوی صاحب المعروف اعلی حضرت نے بھی اپنے فتاوی کے کئی مقامات پر میلاد منانے میں شرعی امور کی پابندی کی شرط عائد کر رکھی ہے.

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی صورت ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں رائج ہے اور عام عوام کو ان حرام کاموں سے صرف مسلکی تعصب کی وجہ سے نہیں روکا جاتا ، وگرنہ یہ تمام کام تو پوری امت مسلمہ کے نزدیک حرام و ناجائز ہیں.

⇚ "دوسری صورت" :

دوسری صورت یہ ہے کہ ماہِ ولادتِ مصطفی میں خوشی اس طرح منائی جائے کہ نیک اعمال سر انجام دئیے جائیں، مثلاً نفل و نوافل ادا کیے جائیں، تلاوتِ قرآن کی کثرت و خاص مقدار مقرر ہو، گھروں میں اچھے اچھے کھانے پکائے جائیں، صدقہ و خیرات کیا جائے، خاص اہتمام کے ساتھ محافل منعقد کر کے ان میں سیرت و تعلیمات مصطفی بیان کی جائیں، کھانے کے دسترخوان لگیں وغیرہ.

اس صورت کے بدعت ہونے پر اجماع ہے، یعنی پوری امت متفق ہے کہ اس طرح ماہِ ربیع الاول میں اعمال کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ،صحابہ کرام، تابعین رضی اللہ عنہم و رحمہم اللہ سے ثابت نہیں،
جیسا کہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ وغیرہ نے ذکر کیا ہے (حسن المقصد فی عمل المولد للسيوطي) اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے. (رسالة في حكم المولد للشوكاني)

سب سے پہلے اس کا آغاز کس نے کیا؟ اس کے متعلق مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں :
بعض کے نزدیک عمر بن محمد الملا نامی صوفی نے موصل میں اس کا آغاز کیا. (الباعث علی إنكار البدع و الحوادث لأبي الشامة المقدسي، ص : ٢٤)
اور بعض کا خیال ہے کہ صاحبِ اربل ابو سعید مظفر الدين کوکبری نے جاری کیا تھا. (البدایہ و النہایہ لابن کثیر : ١٧/ ٢٠٥ ) بعض علماء نے اجماع نقل کیا ہے کہ اس کا موجد یہی کوکبری ہے.(رسالة في حكم المولد للشوكاني)، اسی کوکبری نے ابو الخطاب بن دحیہ نامی شخص کو التنویر فی مولد السراج المنير نامی کتاب لکھنے پر ہزار دینار دیا تھا. (البدایہ و النہایہ)
البتہ سب سے درست بات یہ ہے کہ اسے چوتھی صدی ہجری میں مصر کے فاطمی شیعوں نے اپنے دولہ عبیدیہ میں ایجاد کیا تھا. (الخطط للمقریزی : ٢/ ٤٣٦) پھر ان سے یہ طریقہ باقی لوگوں نے لے لیا.

اب اسلام کے مکمل ہو جانے کے صدیوں بعد جب یہ بدعت ظاہر ہوئی اس کے جائز یا ناجائز ہونے میں دو آراء وجود میں آئیں :

1. پہلی رائے یہ ہے کہ اس طرح سے یہ نیک اعمال کر لینا اچھا ہے، بس ان میں کوئی غیر شرعی کام نہ ہو اور یہ بدعت حسنہ ہے، لیکن جو یہ کام نہیں کرتا اس پر کوئی نقد یا الزام نہیں آتا. یہ رائے علامہ سیوطی رحمہ اللہ اور عمومی صوفی طبقہ کی ہے وغیرہ کی ہے. (حسن المقصد فی عمل المولد للسيوطي، الباعث على إنكار البدع و الحوادث)

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ماننے والوں میں سے خصوصاً برصغیر پاک وہند میں کوئی بھی اس طرح سے نیک اعمال (نوافل و تلاوت قرآن وغیرہ کا) اہتمام نہیں کرتا، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح نیک اعمال کرنا مشکل ہوتا ہے لہذا شور و غوغا کر کے ہی شوق پورا کر لیا جاتا ہے.......
اور کسی نے خوب کہا کہ : ہماری قوم کا یہ حال ہے کہ اگر میلاد منانا واقعی ہی سنت ہوتا تو جس طرح دوسری سنتیں بھلا دی گئیں، اسی طرح انہوں نے اسے بھی بھلا دینا کیوں کہ اصل مسئلہ سنتِ رسول یا محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا نہیں بلکہ خواہشات کا مسئلہ ہے.

2. دوسری رائے جمہور علماء امت کی ہے اور یہی موجودہ دور میں اہل حدیث کا مسلک ہے کہ چونکہ یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ،صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین، فقہاء امت، محدثین عظام رضی اللہ عنہم و رحمہم اللہ سے ثابت نہیں لہذا یہ بدعت و گمراہی ہے، اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی روشنی میں بدعت کا ارتکاب حرام و ناجائز ہے، اگر یہ نیکی کا کام ہوتا تو وہ لوگ ہم سے پہلے اسے کرتے. (اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية)

اور یہی رائے درست ہے کہ نیکی کے اعمال کب کرنے ہیں ان کے متعلق ہمیں قرآن و سنت میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے لہذا ہمیں اپنی عقل استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
 
Top